آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تفہیم المسائل

سوال: میری دو بالغ بیٹیاں ہیں ، پیدائش کے وقت اُن کا عقیقہ نہیں کیا تھا، کیا اب اُن کا عقیقہ کیاجاسکتا ہے ؟اسی طرح میری زوجہ کے والد نے اُن کا عقیقہ نہیں کیا تھا ،مجھ پر اس کی ذمے داری عائد ہوتی ہے یا نہیں؟(محسن ، کراچی)

جواب: بچے کی پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرنا مستحب ہے ،حدیث پاک میں ہے :ترجمہ:’’ حضرت سمرہؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہے ،ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیاجائے اور اس کا نام رکھا جائے اور سرمونڈا جائے ،(سُنن ترمذی: 1522)‘‘۔اگر اس وقت نہیں کیا ، تواب بھی عقیقہ کرسکتے ہیں، یہ ان کی طرف سے بچے پر احسان ہوگا اور اولاد خود اپنا عقیقہ کرنا چاہے ،تو وہ کرسکتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے ساتویں روز آپ ﷺ کے دادا حضرت عبدالمُطّلب نے آپ ﷺ کا عقیقہ کیا ۔محمد بن یوسف الصالحی شامی لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :جب رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہوئی ،تو آپ کے دادا (حضرت عبدالمُطّلب )نے عقیقے میں ایک دنبہ ذبح کیا اور آپ ﷺکا نام محمد رکھا،(سُبُلُ الھُدیٰ وَالرِّشَاد فِی سِیْرَۃِ خَیْرُالْعِبَاد،جلد1،ص:115)‘‘۔

بعثتِ مبارکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے خود اپنا عقیقہ فرمایا:ترجمہ:’’ حضرتؓ انس بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے بعثتِ مبارکہ کے بعد اپنا عقیقہ خود فرمایا،(مُصَنّف عبدالرزاق:7960)‘‘۔

محمد بن یوسف الصالحی شامی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اعلانِ نُبوت کے بعد اپنا عقیقہ خود فرمایا ،ساتھ ہی یہ بھی وارد ہواہے کہ آپ ﷺ کے دادا حضرت عبدالمُطّلب نے ولادت کے ساتویں روز آپ کا عقیقہ کیا ،(سُبُلُ الھُدیٰ وَالرِّشَاد فِی سِیْرَۃِ خَیْرُالْعِبَاد، جلد1،ص:367)‘‘۔

صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی ؒ لکھتے ہیں: ’’عقیقہ کے لیے ساتواں دن بہتر ہے اور ساتویں دن نہ کرسکیں تو جب چاہیں ، کرسکتے ہیں ، سُنّت اداہوجائے گی ۔ بعض نے کہا: ساتویں یا چودہویں یا اکیسویں دن یعنی سات دن کا لحاظ رکھاجائے ،یہ بہترہے اوریادنہ رہے تویہ کرے کہ جس دن بچہ پیداہوا ،اُس دن کو یادرکھیں ،اس سے ایک دن پہلے والا دن جب آئے ،وہ ساتواں دن ہوگا ،مثلاً: جمعہ کو پیداہوا تو جمعرات ساتویں دن ہے اور سنیچر کو پیداہوا تو ساتویں دن جمعہ ہوگا ،پہلی صورت میں جس جمعرات کو اوردوسری صورت میں جس جمعہ کو عقیقہ کرے گا ، اس میں ساتویں کا حساب ضرور آئے گا ، (بہارِ شریعت ، جلد :سوم،ص:356)‘‘۔

زوجہ کی طرف سے عقیقہ کرنا آپ پر لازم نہیں ،البتہ اگر آپ بطور تبرُّع اور فضل واحسان زوجہ کی طرف سے کرنا چاہتے ہیں ،تو کرسکتے ہیں ۔

علامہ غلام رسول سعیدی ؒ نے عقیقہ کے مسنون ہونے پر دلائل دینے کے بعد امام ابوجعفر طَبَری مُتوفّٰی 310ھ کے حوالے سے لکھاہے :’’ شارح علیہ السلام نے یہ بیان نہیں کیا کہ بچے کا عقیقہ کرنا کس پر واجب ہے ، آیا باپ پر واجب ہے ،یاخود بچے پر واجب ہے یا امام المسلمین پر واجب ہے ۔اگر یہ چیز فرض ہوتی تو نبی اکرمﷺ بیان فرمادیتے کہ عقیقہ کرنا کس پر واجب ہے ،تو جس کا عقیقہ اس کے والد نے کیا یاکسی اور نے کیا ،تووہ بھی مستحسن ہے ۔اور ہمارے علم میں نہیں کہ اَئمہ میں سے کسی نے عقیقہ کو واجب کہاہو ،سوائے حضرت حسن بصریؒ کے اور اُن کا یہ قول باطل ہے، کیونکہ قربانی نے ہر ذبیحہ کو منسوخ کردیا اور اس سے معلوم ہوا کہ عقیقہ کرنا واجب نہیں ہے ، سنّت ہے ،(نعم الباری شرح صحیح البخاری ،جلد:11،ص:461-462 )‘‘۔

غرض عقیقہ اپنی اصل کے اعتبار سے صدقۂ ردّ بلاہے اور سُنّت ہے ،اگر ساتویں دن نہ کیاجاسکا تونفلی صدقہ کسی بھی وقت کیاجاسکتا ہے ،یہ اب نفل اور مستحب ہوگا اور اگر نہیں کیا توکوئی مؤاخذہ نہیں ہے ۔