آپ آف لائن ہیں
ہفتہ2؍جمادی الثانی 1442ھ 16؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پی ایم سی کے تحت لئے جانے والے میڈیکل ٹیسٹ منسوخ کئے جائیں، سندھ اسمبلی کا وفاق سے مطالبہ

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی، ایوان نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پی ایم سی کے تحت لئے جانے والے میڈیکل ٹیسٹ منسوخ کئے جائیں، سندھ اسمبلی میں بدھ کو پیپلز پارٹی کی خاتون رکن ماروی فیصح کی تحریک التوا پر جو پاکستان میڈیکل کمیشن کی جانب سے ایم ڈی سی اے ٹی کا ٹیسٹ لینے سے متعلق تھی گرما گرم بحث ہوئی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت تعلیم صوبائی معاملہ ہے جس میں وفاقی حکومت مداخلت کررہی ہے ۔ سیدہ ماروی فصیح نے اپنی تحریک التواء پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریک کا تعلق پاکستان میڈیکل کمیشن کی جانب سے ایم ڈی سی اے ٹی کا ٹیسٹ وفاقی نصاب میں سے کرانے سے ہے۔پاکستان میڈیکل ایک سنگل باڈی تھی ،ہمیشہ یہ ہوتا تھا ہر صوبہ اپنا ٹیسٹ لیتا تھا مگراب اس طریقے کو ختم کردیا گیا۔نئے طریقے کے تحت دو فیز میں ٹیسٹ لیا گیا ہے اور ان لوگوں نے ٹیسٹ لیا جنہیں پہلے اس کا کوئی تجربہ نہیں تھا

۔امیدواروں سےآوٹ آف سلیبس سوالات کئے گئے۔ دوباررزلٹ اعلان کیا گیا ۔ یہ کیا مذاق ہے۔انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے صوبے کے بچوں کے ساتھ اس حکومت نے کیا ہے جس نے روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا۔اس کا ایکشن لیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن ہمارا صوبائی معاملہ ہے اس میں مداخلت کی جارہی ہے۔ماروی فصیح نے کہا کہ ایک دور میں دیگر اضلاع کے بچوں کو کراچی میں داخلے نہیں ملتے تھے ۔سندھ کے ڈومیسائل کی شرط لازمی بنائی جائے ۔ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین نے کہا کہ اس پالیسی کو پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم نے بھی مسترد کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر صوبے میڈیکل پالیسی کے ذریعے ٹیسٹ ہوتے ہیں ۔وفاقی ادارے ہمارے صوبے کے نصاب کو جانتے ہی نہیں ہیں۔اگر کسی وجہ سے وفاقی حکومت ٹیسٹ لینا چاہتی ہے تو پہلے ایک نیشنل سلیبس بنائے ۔ہمارے صوبے میں کوٹہ سسٹم رائج ہے۔ ان ٹیسٹوں گھپلا ہوا ہے۔

اہم خبریں سے مزید