آپ آف لائن ہیں
بدھ6؍ جمادی الثانی 1442ھ 20؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مصباح و وقار ذہنی طور پر ٹارچر کرتے آئے، مزید برداشت نہیں کرسکتا، محمد عامر


انٹرنشنل کرکٹ سے حال ہی میں کنارہ کشی اختیار کرنے والے فاسٹ بولر محمد عامر نے بتایا کہ ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس مجھے ذہنی طور پر ٹارچر کرتے آئے، اب میں مزید برداشت نہیں کرسکتا۔

 محمد عامر نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وقار یونس نے گزشتہ روز کہا کہ میرے بیانات سے انہیں دکھ ہوا ہے، مجھے خوشی ہے کہ انہیں کچھ احساس تو ہوا کہ کسی کے بیانات کسی کو تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔ میں نے تو غلط کچھ نہیں کہا میں نے تو سچ بولا جس کا انہیں افسوس ہوا۔

محمد عامر نے کہا کہ جب آسٹریلیا کے خلاف سیریز ختم ہوئی تو کبھی انہوں نے کہا کہ محمد عامر دھوکا دے گیا، کبھی یہ کہا کہ عامر ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا ہی نہیں چاہتا یہ ورک لوڈ کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ وہ بیانات تھے جن سے مجھے دکھ پہنچ رہا تھا جو مجھے ذہنی اذیت دے رہے تھے۔

فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ مجھے سبق پڑھایا جا رہا ہے کہ میں ڈومیسٹک میں جاتا پرفارم کرتا اور ٹیم میں آجاتا، کرکٹر کو خود علم ہوتا ہے کہ اس نے کہاں کھیل کر واپس آنا ہے ڈومیسٹک کھیلنا ہے یا لیگ کھیلنی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جہاں تک صبر کی بات ہے تو مجھ سے بہتر صبر کرنا کوئی نہیں جانتا، میں نے کرکٹ کھیلنے کے لیے پانچ برس انتظار کیا ہے، میں پانچ برسوں میں تب ہمت نہیں ہارا تھا جب میں بال کو ہاتھ نہیں لگا سکتا تھا اب میں کیسے ہمت ہار سکتا تھا کہ اگر پرفارم نہیں ہو رہا تو میں کرکٹ چھوڑ دوں۔

عامر نے یہ بھی کہا کہ یہاں پاکستان میں کتنے ہی لیجنڈز ہیں جن کے پندرہ پندرہ کم بیک ہوئے ہیں۔ یونس خان بھائی کو ہم اس وقت لیجنڈ کہتے ہیں، ان کے بھی کم بیک ہوئے، محمد یوسف اور شاہد آفریدی کے بھی کم بیک ہوئے۔ جب ہم کرکٹ شروع کرتے ہیں تو تب ہم یہی سیکھتے ہیں کہ پرفارم کریں گے تو ٹیم میں رہیں گے۔

‏ فاسٹ بولر نے کہا کہ اگر یہ پرفارمنس کی بات کرتے ہیں تو بنگلہ دیش پریمئئیر لیگ میں جب میں 21 وکٹیں لیتا ہوں تو اگلے روز مجھے ڈراپ کر دیا جاتا ہے، اگر پرسنل ایشو نہیں تھا تو مجھے بتاتے۔

‏محمد عامر کا کہنا تھا کہ انہوں نے پرفارمنس کی بات کی تو میں پرفارمنس کا جواب دے رہا ہوں، مجھے کہا جاتا ہے کہ میں نے چار پانچ میچز میں پرفارمنس نہیں دی، یہاں ایسے بھی ہیں جنہیں ایک پرفارمنس پر کھلا دیا جاتا ہے اور پھر کچھ نہ ہوتا تو گھر بھیج دیاجاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ مصباح الحق نے کہا کہ میری اسپیڈ میں کمی آرہی تھی، میری فٹنس کی وجہ سے میری اسپیڈ میں کمی آئی اور اس کا میں نے بتایا بھی تھا اور جب میں ابھی سری لنکا میں تازہ دم تھا تو میں نے 145 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی بولنگ کی ہے۔

اپنی صلاحیتوں سے متعلق ‏محمد عامر نے کہا کہ مجھے اپنی صلاحیتیوں پر اتنا یقین ہے کہ میں کم بیک کر سکتا ہوں، اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔

سینٹرل کانٹریکٹ سے متعلق انھوں نے کہا کہ پہلے آپ سنٹرل کنٹریکٹ سے یہ کہہ کر باہر کرتے ہیں کہ تینوں فارمیٹس والوں کو رکھنا ہے۔ آپ نے ایک ایک فارمیٹ والوں کو کنٹریکٹ دیا میں تو تب بھی نہیں بولا۔ پھر آپ نے کہا کہ ٹور پر ان کو لے کر جانا ہے جو سب فارمیٹس میں دستیاب ہیں۔ میں پھر بھی خاموش رہتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب میں لیگ کھیلنے جاتا ہوں تاکہ پرفارمنس دوں تو آپ کہتے ہیں کہ محمد عامر نے ورک لوڈ سے نہیں چھوڑا، وہ لیگ کھیلنا چاہتا ہے وہ تو ٹیسٹ کھیلنا ہی نہیں چاہتا۔

انھوں نے سوال کیا کہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ میں نہیں کھیلنا چاہتا، یہی عمل ذہنی اذیت پہنچانا ہوتا ہے کہ آپ آہستہ آہستہ سائیڈ لائن کرتے جائیں، پرفارمنس کا مسئلہ نہیں تھا۔ مسئلہ ذہنی اذیت پہنچانا تھا۔

‏ محمد عامر نے کہا کہ میں ان کوچز کے مائنڈ سیٹ کے ساتھ نہیں کھیل سکتا، ایک کوچ کہتا ہے کہ اسپیڈ سے فرق نہیں پڑتا بیس آؤٹ کرنے ہیں۔ ایک کوچ کہتا ہے کہ عامر کی اسپیڈ کم ہو رہی تھی اس لیے ڈراپ کیا، ان کوچز کی تو آپس میں ہی نہیں بنتی کہ کہنا کیا ہے، پہلے خود سوچ لیں کہ کہنا کیا ہے پھر عامر کو سبق پڑھا لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں کہ عامر ڈومیسٹک میں پرفارمنس دیں تو واپس آجائیں میں کہوں گا کہ یہ پہلے اپنی پرفارمنس درست کرلیں۔ پہلے ٹیم کو دیکھیں کہ کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ مجھے علم ہے کہ میں نے کیا کرنا ہے۔ اب سب مل کر کورونا وائرس کا بہانہ بنا رہے ہیں۔ کوویڈ-19 تو سب ٹیموں کے لیے تھا۔

‏ محمد عامر نے کہا کہ سب کچھ کھلاڑیوں پر نہ ڈال دیا کریں کھلاڑیوں کو علم ہے کہ کیا کرنا ہے، انہیں آزادی کے ساتھ کھیلنے دیں، جب تک کھلاڑیوں کو آزادانہ اور دوستانہ ماحول نہیں دیں گے کوئی پرفارم نہیں کر سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ریٹائر منٹ لے چکا ہوں، میں اس منیجنٹ کے ساتھ میں کبھی نہیں کھیلوں گا، یہ میرا حتمی فیصلہ ہے۔ ان کوچز سے کہوں گا کہ اس مائنڈ سیٹ کو تھوڑا تبدیل کر لیں تاکہ نوجوان کرکٹرز اچھا پرفارم کر سکیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ سب کرکٹرز باصلاحیت ہیں، ان کرکٹرز کو آزادی دیں، یہی جتوائیں گے، جب تک ڈریسنگ روم کا ماحول ڈراؤنا بنا کر رکھیں گے ٹیم کی یہی پرفارمنس ہوگی اور اپنی انا کو بھی سائیڈ پر رکھیں۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید