آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍رجب المرجب 1442ھ25؍فروری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ کراچی لاوارث ہوگیا ہے۔ اس شہر کا کوئی والی وارث نہیں ۔ میئر اپنی مدت پوری کر کے جانے کہاں بیٹھ گئے۔ حیرانی ہی حیرانی ہے۔ ایم کیو ایم جو کبھی اس شہر کی ہی نہیں بلکہ کئی بڑے شہروں کی وارث ہوا کرتی تھی۔

کراچی شہر اب کھنڈر بن چکا ہے۔ عمارتیں، تجاوزات کے نام پر توڑی جا رہی ہیں۔ کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اردو کا ایک مشہور محاورہ ہے ”مرا ہاتھی بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے“ ایم کیو ایم تو اب بھی موجود ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اندرونِ اور بیرونِ خانہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی ہے۔

اکابرین جماعت جانے کس سوچ میں ہیں کہ انہیں کراچی اور دوسرے بڑے شہر جہاں جہاں ایم کیو ایم کا اثر تھا، اب اس کی وہ حیثیت نہیں رہی۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ ایم کیو ایم وفاق میں شامل ہے، بے دست و پا تو نہیں ہے اگر سندھ گورنمنٹ اس کی نہیں سن رہی اپنی من مانی کیے جا رہی ہے تو وہ اپنے مطالبات مرکز سے منوالیں، اپنے مطالبات سرکار سے منوانے کا ہنر انہیں خوب آتا ہے لیکن آج کل گنگا الٹی بہہ رہی ہے اب سرکار اپنی بات جس طرح چاہے منوا رہی ہے۔

گزشتہ دنوں جب وزیر اعظم عمران خان کراچی کے دورے پر آئے تھے تو انہوں نے ایک بڑی رقم کے کراچی پیکیج کا اعلان کیا تھا۔ بہت سے منصوبے منظور کیے گئے، بس رات گئی بات گئی کے مصداق وہ خطیر فنڈ ملا بھی ہے کہ نہیں، اگر کچھ حصہ بھی ملا ہے تو اس کا مصرف کیا ہوا۔

کیا وہ بھی حسب سابق اِدھر اُدھر ہوگیا؟ کراچی بے چارہ وہی بدحال کا بدحال۔

کراچی کو درست کرنے کے لیے کسی الہٰ دین کے چراغ کی ضرورت نہیں ہے اگر ایم کیو ایم اپنے حصار سے باہر نکل سکے تو ایک بار پھر کراچی روشنیوں کا شہر بن سکتا ہےلیکن حالات اسی طرح ابتر رہے تو ایم کیو ایم کےووٹ بینک کےخورد برد ہونے کا امکان رہے گا۔

اگر خالد مقبول صدیقی، آفاق احمد، مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار سب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں جس طرح مولانا فضل الرحمن نے گیارہ سیاسی جماعتوں کو ان کا تشخص برقرار رکھتے ہوئے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پرجمع کیا۔ اس طرح ایم کیو ایم کا ہر دھڑا اپنی شناخت محفوظ رکھتے ہوئے یکجائی برقرار رکھ سکتا ہے ہر جماعت کا سربراہ اپنی جماعت کا سربراہ رہے کوئی فیصلہ کرنا ہو تو تمام اکابرین باہمی مشورے سے ایک رائے پر متفق ہوسکتے ہیں۔

اس طرح ایم کیو ایم اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہےلیکن جب تک ہر کوئی اپنی انا کے خول میں چھپا رہے گا تب تک کچھ حاصل نہیں ہوسکے گا۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ اب اگر کوئی معجزہ ہوجاتا ہے تو الیکشن کے وقت پھر آپا دھاپی ہوگی۔

اس کا حل بھی بہت آسان ہے جس بھی حلقے سے ایم کیو ایم کے تینوں دھڑے اپنےمدمقابل سے شکست سے دوچار ہوئےہیں توہونا یہ چاہئے کہ جس حلقے سےایم کیو ایم کےجس کروپ کے امیدوار نے سب سے زیادہ ووٹ لئے وہ سیٹ اسے دے دی جائے کیونکہ سب ایک پلیٹ فارم سے الیکشن بھی لڑ سکتے ہیں۔ ورنہ الگ الگ بھی مقابلہ کرسکتے ہیں۔

اگر مہاجر ووٹ کو عزت دینے کے لئے قربانی بھی دینا پڑے تو سودا مہنگا نہیں رہے گا گو کہ ایسا ہونا ممکن نہیں لیکن ایسا ہوضرور سکتا ہے۔

اگر واقعی ایسا ہوگیا تو سرکار گھٹنوں پر آجائے گی پھر مطالبات کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ سارے کام از خود ہوتے چلے جائیں گے۔ اس وقت چراغ تلے جو اندھیرا ہے وہ بھی دور ہوجائے گا۔

ایم کیو ایم کا ووٹ بینک ابھی محفوظ ہے اگر الیکشن میں ہر حلقے سے دو یا تین امیدوار میدان میں اترے اگر ایم کیو ایم کے تینوں گروپس کےہارنیوالے امیدواروں کے ووٹوں کا مجموعی تقابل جیتنے والے کے ووٹوں سے کیا جائے تو یقیناً ہارنیوالوں کے ووٹ زیادہ ہوں گے۔

ایم کیو ایم کا ووٹر کہیں گم نہیں ہوابس گروپس کے اختلاف نے اسے تقسیم کردیا ہے، پہلے جب جماعت ایک مضبوط گرفت لیے ہوئے تھی تو کوئی کیسا ہی مد مقابل کیوں نہ ہو وہ شکست سے دوچار ہوتا تھا کیونکہ ووٹ ایک جگہ ایک امیدوار کو پڑتے تھے اب بھی موقع ہے ووٹر کے لئے تمام اختلافات بھلا کر ایک ہوجائیں تو اچھے دن واپس آ سکتے ہیں۔

تازہ ترین