آپ آف لائن ہیں
پیر16؍ رجب المرجب 1442ھ یکم مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’باکمال لوگ، لاجواب پرواز ‘‘ کے سلوگن کے ساتھ اپنے قیام کے بعد برسوں تک دنیا کی بہترین فضائی کمپنیوں میں شمار ہونے والی ہماری قومی ایئرلائن مسلسل جس زوال اور انحطاط سے دوچار ہے، اس کا ایک نہایت تشویشناک مظاہرہ گزشتہ روز ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں پرواز سے عین پہلے لیز کی رقم کے تنازع میں مقامی ہائی کورٹ کے حکم پر پی آئی اے کا طیارہ روک کر متعلقہ حکام کی جانب سے اپنی تحویل میں لے لیے جانے کی شکل میں ہوا جبکہ کمپنی کا ایک اور طیارہ بھی عدالت کے اس حکم میں شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق طیارہ لیز کے واجبات ادا نہ کرنے پر قبضے میں لیا گیا ہے۔ ایئر لائن نے 2015میں بوئنگ 777طیارہ ویتنام کی کمپنی سے لیز پر حاصل کیا تھا۔ منظر عام پر آنے والی معلومات کی رو سے بوئنگ طیارہ لیزنگ کمپنی کو ادائیگی نہ ہونے پر روکا گیا ہے، واجب الادا رقم تقریبا 14ملین ڈالر ہے۔ دوسری جانب پی آئی اے کے ترجمان نے صورت حال کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے یہ حکم ہمارا موقف سنے بغیر یک طرفہ طور پر جاری کردیا ہے۔ ترجمان کے مطابق اس معاملے پر برطانوی عدالت میں مقدمہ زیر التواء ہے اور اس کی سماعت کے لیے ماہ رواں کی چوبیس تاریخ مقرر ہے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق پی آئی اے نے پانچ سال قبل آئرش لیزنگ کمپنی ایئر کیپ سے دو

بوئنگ طیارے ڈرائی لیز پر لینے کا معاہدہ کیا اور ائیر کیپ نے ویتنام کی فضائی کمپنی سے طیارے لے کر دے دیئے۔قومی ایئرلائن کے ترجمان کے بقول کمپنی نے معاملے کو سفارتی سطح پر حل کرنے کی خاطر حکومت پاکستان سے مدد کی درخواست کی ہے۔ مسافروں کو دوسری پرواز سے بھیجنے کا بندوبست کردیا گیا تاہم طیارے کے اٹھارہ رکنی عملے کو دو ہفتے قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس واقعے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے بجا طور پر عالمی برادری میں پوری پاکستانی قوم کا سر شرم سے جھکادینے کا باعث قرار دیا ہے جبکہ وزیر اعظم کے معاو ن خصوصی شہباز گِل نے اس تنازع میں قومی ایئرلائن کی صفائی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ کورونا کی وجہ سے طیارہ استعمال نہیں ہورہا تھا، دنیا میں کورونا کے باعث ریٹ کم ہوئے، پی آئی اے بھی ویتنامی کمپنی کے ساتھ ریٹ کم کرنے پر بات کررہی تھی ، اچانک اسٹے لیکر طیارے کو روک لیا گیا۔‘‘پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان کے مطابق لیزنگ کمپنی کے ساتھ تنازع پچھلے چھ ماہ سے برطانیہ کی ایک عدالت میں زیر سماعت تھا اور اسی کمپنی نے ایک دوسرے ملک میں جاکر حکم امتناعی حاصل کیا جس کے نتیجے میں طیارہ روک لیا گیا۔ تاہم یہ وضاحت بظاہر پی آئی اے کے موقف کو مزید غیر معقول بناتی اور ذہنوں میں یہ سوال ابھارتی ہے کہ اس قدر متنازع طیارے کو پرواز کیلئے استعمال ہی کیوں کیا جارہا تھا۔ماہرین کی رائے کے مطابق لیزنگ کمپنی کا ملائیشیامیں عدالت سے رجوع کرنا ظاہر کرتا ہے کہ فریقین کے درمیان معاملات سلجھ نہیں پارہے تھے اور لیزنگ کمپنی نے آخری چارہ کار کے طور پر یہ قدم اٹھایا لہٰذا حالات کا تقاضا تھا کہ قومی ایئرلائن اس معاملے میں قطعی محتاط رویہ اختیار کرتی اور ہوش گوش کے ساتھ صورت حال پر نظر رکھی جاتی۔ملائیشیا کی عدالت تک معاملہ پہنچ جانے سے پی آئی اے اور حکومت پاکستان کا بے خبر رہنا بھی قابل فہم نہیں ۔ قومی ایئرلائن ہماری اپنی بے تدبیریوں کے سبب آج دنیا بھر میں جس بے وقعتی کا شکار ہے ، اس کے پائلٹوں کے لائسنسوں کے جعلی ہونے کے بے بنیاد اعلانات خودوزیر ہوابازی جس طرح کرتے رہے اور اس کے نتیجے میں جس قدر نقصان اٹھانا پڑا، کم از کم اس کے بعد تو ہوش مندی سے کام لیا جانا چاہیے تھا۔ اس معاملے کو اب کس طرح سلجھایا جاتا ہے، یہ حکومت اور پی آئی اے انتظامیہ کی فراست اور تدبر کا امتحان ہے۔

تازہ ترین