آپ آف لائن ہیں
پیر16؍ رجب المرجب 1442ھ یکم مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

براڈشیٹ کے تنازع نے ایک اسکینڈل کی شکل اختیار کرلی، تجزیہ کار


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ براڈشیٹ کے تنازع نے ایک اسکینڈل کی شکل اختیار کرلی ہے

آج ہم جو معلومات سامنے لارہے ہیں اس سے پتا چلتا ہے کہ ہر ایک کو اپنا حصہ چاہئے تھا پاکستان کے پیسے واپس لانا کسی کی ترجیح نہیں تھی، سامنے آنے والی تفصیلات سے لگتا ہے کہ براڈ شیٹ سے پاکستانی حکام کا معاہدہ مشکوک انداز میں مشکوک شخص کے ذریعہ ہوا

پاکستان کو ملا کچھ نہیں لیکن احتساب کے نام پر ہونے والے اس معاہدہ کا نتیجہ پاکستان پر اربوں روپے جرمانے کے نتیجے میں نکلا، کاوے موسوی جس نے دیوالیہ ہونے والی براڈ شیٹ کا فائدہ اٹھایا اس نے پاکستان سے کروڑوں ڈالرز وصول کیے، گزشتہ کئی دنوں سے کاوے موسوی انٹرویوز دیتے رہے، خود کو ہیرو کے طور پر پیش کرتے رہے، پاکستانی عوام کے خیرخواہ کے طور پر پیش کرتے رہے، لیکن اب جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں وہ نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ کاوے موسوی کے کردار پر بھی سوالات اٹھارہی ہیں۔

شاہزیب خانزادہ نے تجزیے میں مزید کہا کہ نیب نے 20سال بعد چوہدری برادران کیخلاف آمدنی سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری بند کردی ہے اور لاہورہائیکورٹ کو باضابطہ طو ر پر آگاہ کردیا ہے جس پر لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری برادران کی درخواست غیرموثر ہونے پر نمٹادی،

اب سے چند روز پہلے جمعہ کے دن وزیراعظم عمران خان نے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الٰہی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا تھا اور سینیٹ انتخابات میں مل کر حصہ لینے سے متعلق مشاورت کی تھی۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے خطاب میں بٹی ہوئی امریکی قوم کو یکجا کرنے کی کوشش کی، جوبائیڈن پاکستان آچکے ہیں اور پوری طرح جانتے ہیں

امریکی صدر بائیڈن خارجہ امور پر مہارت رکھتے ہیں، بائیڈن پچھلے چار سال اقتدار سے باہر تھے اس دوران دنیا، خطے اور پاکستان میں بڑی تبدیلی آئی ہے، نئی امریکی انتظامیہ سے انگیج کرنے کیلئے ہم پرامید ہیں، سیکرٹری اسٹیٹ انتھونی بلنکن کو خط لکھ کر پاکستان کی نئی سوچ کا ذکر کیا ہے، پرامید ہوں بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ اچھی گفتگو کا آغاز ہوسکتا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج کا پاکستان پچھلے چار سال کے پاکستان سے مختلف ہے، ہماری سوچ اور ضروریات میں تبدیلی آگئی ہے، پاکستان اس خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے، ہمیں معاشی ترقی اور خوشحالی کی طرف توجہ کرنا اور اداروں کی اصلاح کرنی ہے

سیکرٹری بلنکن نے افغان عمل کو آگے بڑھنے میں پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا ہے، ہم پارٹنرز آف پیس کی طرف ہاتھ بڑھارہے ہیں، بہت سے معاملات پر امریکا اور پاکستان کا ایجنڈا ایک جیسا ہے

امریکا اور پاکستان کی سوچ میں خلا کو گفتگو کے ذریعہ پُر کرنے کی کوشش کریں گے،میں سوچ میں جس تبدیلی کا اشارہ کررہا ہوں ہم دیانتداری سے اس پر عمل پیرا رہے تو کوئی وجہ نہیں نئی امریکی انتظامیہ اسے نہ سمجھ سکے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بائیڈن اور ان کی ٹیم کا انسانی حقوق پر بہت زور رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں قابل ذکر اور قابل غور ہیں، بائیڈن نے جن جمہوری روایات کی بات کی ہے انہیں لے کر آگے بڑھے تو مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر ان کی نظر پڑنی چاہئے، کشمیریوں کی تکالیف میں ریلیف لینے میں ہمیں کوئی کامیابی ملتی ہے تو یہ ایک پیشرفت ہوگی۔

نمائندہ جیو نیوز لندن مرتضیٰ علی شاہ نے کہا کہ ہمارے پاس موجود قانونی دستاویزات تین لوگوں ظفر علی کیوسی، شاہد اقبال اور ڈاکٹر پکس نے تیار کیا

یہ وہی لوگ ہیں جو ہم نے 2019ء میں اوریجنل ڈاکیومنٹ ریلیز کیا تھا جس میں ہم نے کہا تھا کہ کچھ لوگ لندن سے گئے اور وزیراعظم عمران خان سے ملے اور وہاں پر براڈ شیٹ کے حوالے سے ایک نئے کانٹریکٹ کی بات ہوئی، ہمیں اپنے ذرائع سے جو قانونی دستاویزات ملی ہے اس میں وہی ظفر علی کیوسی، ڈاکٹر پکس اور شاہد اقبال نے کاؤنٹر الزامات لگائے

ظفر علی کیوسی کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ کاوے موسوی نے انہیں کہا کہ اگر وہ وزیراعظم عمران خان سے تقریباً 29ملین ڈالرز انہیں ملنے تھے وہ جلدی انہیں دلوادیں تو وہ اس پر انہیں 2ملین ڈالرز کا کمیشن دیں گے، دیگر میسیج جو کاوے موسوی نے انہیں بھیجے اس میں کہا گیا کہ اگر وہ تحریک انصاف کی حکومت سے یہ ڈیل کروادیتے ہیں تو اس میں آپ کو اتنے پیسے مل جائیں گے کہ پھر آپ ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار سکتے ہیں ،

یہ میسیجز ہم نے فارنزک طریقے سے چیک کیے ہیں جو کاوے موسوی نے ظفر علی کیوسی کو کیے، ظفر علی کیوسی نے کاوے موسوی کو جو میسجز کیے تھے وہ ہم اس سے پہلے ہی دکھاچکے ہیں، ہمارے پاس موجود تازہ ترین دستاویزات کے بارے میں ڈاکٹر پکس کا کہنا ہے کہ 2019ء میں دستاویزات میں جو الزامات لگائے گئے اس کے بعد وہ کاوے موسوی پر کیس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید