آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

محرمات اور مشتبہات سے اجتناب اورحلال کی جستجو

تفہیم المسائل

سوال: والدین نے میری تربیت رزقِ حلال اور اسلامی اصولوں پر کی ہے ۔شادی کے بعد مجھے سسرال کے بارے میں معلوم ہواکہ ان کی آمدنی حلال نہیں ہے، وہ اسکریپ کا کاروبار کرتے تھے ، جس میں اسکریپ کے ساتھ ساتھ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کا چوری کیاہوا مٹیریل بھی خریدتے ۔1994ء سے میں نے چھوٹے موٹے کام کرکے رزقِ حلال سے گزر اوقات کیا اور اب میں مستحکم ہوں۔ 1985 ء سے1995ء تک جو کچھ میری ذات پر شوہر کی کمائی سے خرچ ہوا ،وہ اداکرنا چاہتی ہوں۔اب مسئلہ یہ ہے کہ یہ سب میں حکومتِ پاکستان کو دوں یا اپنے شوہر کو دوں ،اب یہ ادارے پرائیویٹ ہوچکے ہیں ،توکیا اس صورت میں یہ پیسہ ڈیم فنڈ میں دے سکتی ہوں؟(ایک خاتون ، کراچی )

جواب:آپ کی بیان کردہ صورت میں چونکہ اس تمام غبن اور چوری کے کاروبارمیں براہِ راست آپ کا کوئی کردار نہیں ،بلکہ جو لوگ اس میں مُلوّث رہے ،وہ گنہگار اور مجرم ہیں، اُن کے ذمے ضمان لازم ہے،آپ پر کوئی ضمان نہیںہے ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ترجمہ:’’جو اس (شخص ) نے نیک کام کیے ہیں، اُن کا نفع (بھی) اس کے لیے ہے اور جو اس نے برے کام کیے ہیں ،اُن کا نقصان بھی اس کے لیے ہے ، (سورۃالبقرہ:286)‘‘۔ ترجمہ:’’ وہ اُمّت گزر چکی ہے ، اُس نے جو کام کیے ،اس کے لیے ان کا بدلہ ہے اورتم نے جوکام کیے تمہارے لیے ان کا بدلہ ہے اوران کے کاموں کے متعلق تم سے کوئی سوال نہیں کیاجائے گا ،(سورۃالبقرہ:134)‘‘۔

آپ کے شوہر یا سسرالی رشتے دار اب بھی اگر اس کاروبار میں شریک ہیں ،تو اُنہیں اس سے توبہ کرنی چاہیے اور جن کے حقوق اُن سے متعلق ہیں ، اُن سے بری ہونے کی کوشش کرنی چاہیے ۔محض زبانی توبہ سے حرام مال پاک نہیں ہوسکتا، بلکہ توبہ کے لیے شرط یہ ہے کہ جس جس سے مال لیا ہے ، واپس دے ، وہ نہ رہے ہوں ،تو اُن کے ورثاء کو دے ،پتا نہ چلے تو اُتنا مال صدقہ کردے، اس کے بغیر اس گناہ سے براء ت ممکن نہیں ۔تاہم رزقِ حلال کا حصول اور اکلِ حلال فرض ہے ،حدیث پاک میں ہے: ترجمہ:’’ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رزق کا حلال ذریعہ تلاش کرنا ایک فرض کے بعد دوسرا فرض ہے۔(السنن الْکبریٰ للبیہقی :11695)‘‘۔نبی کریم ﷺنے فرمایا:ترجمہ:’’وہ گوشت جس کی پرورش حرام مال سے ہوئی ہو، دوزخ کا زیادہ مستحق ہے،(سنن ترمذی:614)‘‘۔ حلال ذرائع اختیار کرنا اور حرام سے بچنا اور مشتبہات سے بچنا بھی لازم ہے ، حدیث پاک میں ہے :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ترجمہ:’’ حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ اُمور مُشتبہ ہیں ،جن کا بہت سے لوگوں کو علم نہیں ہے، سوجو شخص شبہات سے بچا ، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کرلیا اور جس شخص نے اُمور مشتبہ کو اختیار کرلیا ،وہ حرام میں مبتلا ہوگیا ،جس طرح کوئی شخص کسی ممنوع چراگاہ کے گرد جانور چرائے تو قریب ہے کہ وہ جانور اس چراگاہ میں بھی چرلیں ،سنو ! ہربادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور یادرکھو! اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں،(صحیح مسلم:1599)‘‘۔آپ کے سسرال والوں کی آمدنی مخلوط اور مُشتبہ ہے ، آپ کا اس سے بچنا اور اپنی مدد آپ کے تحت رزقِ حلال کا حصول مستحسن ہے،لیکن جو کچھ اس عرصے میں آپ نے اپنی ذات پر استعمال کیا ، وہ آپ پر حرام نہیں تھا۔علامہ حسن بن منصور اوزجندی ؒ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ پس اگر غیر کے مال کے بارے میں معلوم ہے ،تو اسے لوٹا دے ،اور اگر لینے والا یہ نہ جانے کہ وہ لی ہوئی چیز دینے والی کے اپنے مال سے ہے یا کسی دوسرے کے مال سے تو پھر وہ(لینے والے کے لیے) حلال ہے ،یہاں تک کہ یہ ظاہر ہوجائے کہ وہ حرام ہے ،(فتاویٰ قاضی خان) ‘‘۔ تاہم اطمینانِ قلب کے لیے آپ حسبِ استطاعت صدقہ وخیرات کرتی رہیں ، یہ آپ کے لیے اجرِ آخرت کا ذریعہ بھی بنے گا ۔

علامہ حسن بن منصور اوزجندی ؒ مزید لکھتے ہیں:ترجمہ:’’فقہائے کرام نے فرمایا : ہمارا زمانہ شبہات سے بچنے کا زمانہ نہیں ،لہٰذا اس زمانے میں مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ دیکھے ہوئے حرام سے بچے ،(فتاویٰ قاضی خان ،جلد3، ص:402)‘‘۔آپ احتیاطِ شرعی پرعمل کرنا چاہیں ،تو اپنے اندازے سے کچھ رقم کسی غریب ونادار انسان پر صدقہ کردیں،اپنے بھائی ،والدین واقارب وغیرہ کوبھی دے سکتی ہیں ۔آپ کا جذبہ صادق اور نیت خالص ہے، یہ اُن سب کے لیے ایک مثال ہے جو دنیا کی عشرتوں میں کھو کر اپنی عاقبت کو بربادکرنا نہیں چاہتے ، سب کواس سے سبق حاصل کرنا چاہیے ۔