آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍ رجب المرجب 1442ھ 26؍فروری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کیا اوباما دور کی تلخیاں پاکستان اور امریکا کے تعلقات پر اثرانداز ہوں گی؟

واشنگٹن (جنگ نیوز )پاکستان اور امریکا کے تعلقات یوں تو 7دہائیوں پر محیط ہیں تاہم اس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے اُتار چڑھاؤ بھی آتے رہے ہیں۔ 

گو کہ نئے صدر جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد تجزیہ کار پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری کے امکانات ظاہر کر رہے ہیں۔ لیکن ٹرمپ دور سے قبل ڈیمو کریٹک پارٹی کے 8سالہ دور میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ دیکھا گیا تھا۔

پاکستان اور امریکا کے سات دہائیوں پر مشتمل تعلقات کے دوران پاکستان، امریکہ کا حلیف بھی رہا۔

 نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کا فرنٹ لائن اتحادی بھی رہا۔ لیکن اس دوران دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی رہا۔ یوں مجموعی طور پر دونوں ملکوں کے تعلقات پیچیدہ ہی رہے ہیں۔تو آخر سابق صدر اوباما دور میں ایسا کیا ہوا جو اسے ٹرمپ دور سے مختلف بناتا ہے؟

 امریکہ میں پاکستان کے سابق سفارت کار اعزاز چوہدری نے امریکی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اوباما دور میں بہت سے ایسے فیصلے ہوئے جن کا اثر جنوبی ایشیا خاص طور پر افغانستان اور پاکستان پر براہ راست پڑا۔

سنیئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین نے اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی افغانستان، پاکستان پالیسی کامیاب ثابت نہیں ہو سکی جس کی وجہ اس خطے کے باقی معاملات کو پسِ پشت ڈال کر صرف افغانستان کو اہمیت دینا تھا۔

دو مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں امریکی فوجی آپریشن میں اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد بھی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مزید خراب ہو گئے۔

اگر یہ کہا جائے کہ سال 2011 پاک امریکہ تعلقات کے تناظر میں ایک برا سال تھا تو یہ غلط نہیں ہو گا۔ 

26 نومبر 2011 میں پاکستان کے افغانستان سے جڑے سرحدی علاقے سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو فورسز کی کارروائی میں یہاں تعینات 28 پاکستانی فوجی شہید ہو گئے جس پر پاکستان نے امریکہ سے شدید احتجاج کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی حکومت کو کئی داخلی چیلنجز کا سامنا ہے۔ البتہ وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ ماضی کی ڈیمو کریٹک حکومت جن حالات میں حکومت کر رہی تھی وہ آج سے یکسر مختلف تھے،اس لیے امید یہی کی جاتی ہے کہ اس زمانے کی غلطیوں کو پاکستان اور امریکہ، دونوں ممالک میں سے کوئی بھی دوہرانا پسند نہیں کرے گا۔

اہم خبریں سے مزید