آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍ رجب المرجب 1442ھ 26؍فروری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پی ٹی آئی کی حکومت میں میری سب سے زیادہ قربت قاسم خان سوری سے ہے۔کہتے ہیں اہل ِ اقتدار کی کسی سے دوستی کم ہی ہوتی ہےعجیب اتفاق کی بات ہے کہ ان کے ساتھ میری دوستی ان کے ڈپٹی اسپیکر بننے کے بعد شروع ہوئی۔ ان کی والدہ کی وفات پر جب ہارون الرشید اور میں کوئٹہ افسوس کے لئے گئے تو پتہ چلا کہ وہ کوئی امیر آدمی نہیں، عام سے ایک مکان میں رہتے ہیں۔ 

چھوٹے بھائیوں کے چھوٹے موٹے بزنس ہیں ۔ والد بہت عرصہ پہلے فوت ہو گئے تھے ۔ گھر میں وہ سب سے بڑے ہیں۔ ہم اس بات پر حیران تھے کہ بلوچستان سے تو کبھی کوئی عام آدمی کونسلر نہیں بن سکا ،وہاں ووٹ لینے کا حق صرف نوابوں اور جاگیرداروں کے پاس ہے، وہاں سے قاسم خان سوری ایم این اے کیسے بن گئے جب کہ ان کے مقابلے میں حاجی لشکری رئیسانی اور محمود خان اچکزئی جیسے امیرترین لوگ تھے؟

قاسم خان سوری کو موٹر سائیکل چلانے کا شوق ہے۔ اب بھی انہوں نے ایک ہیوی بائیک رکھی ہوئی ہے۔ پچھلے دنوں وہ زیارت کے دورے پرگئے تو انہوں نے اپنے اسٹاف سے کہا۔ ’’تم گاڑیوں پر چلو ، میں اپنی بائیک پر آئوں گا‘‘۔سو وہ اپنی بائیک پر آگے آگے تھے اور گاڑیاں پیچھے ۔ 

قائداعظم ریزیڈنسی کے گیٹ پر پہنچے تو پولیس نے انہیں روک لیا کہ آپ آگے نہیں جا سکتے ، ڈپٹی اسپیکر آرہے ہیں، انہوں نے ہیلمٹ بھی اتارا کہ شاید پولیس والے پہچان لیں مگر پولیس نے انہیں اس وقت تک وہیں روکے رکھا جب تک گاڑیوں کا قافلہ وہاں نہیں پہنچا ۔

ایک بار میں لندن میں تھا تو پتہ چلا قاسم خان سوری آئے ہوئے ہیں۔ دوستوں سے پوچھا تو کسی نہ کسی طرح ان کی رہائش گاہ کا پتہ مل گیا۔ میں جب وہاں پہنچا تو وہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا، سو پونڈ کرائے والا۔ 

وہ اس میں رہ رہے تھے ،میں نے حیرت سے پوچھا:یہ کیا ماجرا ہے یہاں تو وزرائے کرام جب آتے ہیں تو آٹھ دس ہزار پونڈ والے کمروں میں راتیں گزارتے ہیں اور آپ یہاں رہ رہے ہیں ۔ کہنے لگے، میں ذاتی طور پر اتنےہی پیسوں والا کمرہ کرائے پر لےسکتا ہوں۔ تنخواہ کے علاوہ سرکاری پیسہ میں نے خود پر ویسے ہی حرام کیا ہوا ہے ۔

مالی پوزیشن کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ وہ کوئٹہ کے جلسے کےلئے پریشان تھے۔ 30اکتوبر والے عمران خان کے جلسے پر اپنے ساتھیوں سمیت آئے تو دیکھا کہ سارا لاہور عمران خان کے بینرز سے بھرا ہوا ہے۔ 

انہوں نے پی ٹی آئی کے ایک صوبائی عہدہ دار سے بات کی کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم یہ بینر اتار لیں۔ اگلی رات دو بجے قاسم سوری اور اس کے ساتھیوں نے کھمبوں پر چڑھ کر مال روڈ سے سارے بینر اتارے اور اپنے ساتھ کوئٹہ لے گئے۔

 وہاں خود ان بینرز پر لاہور مٹا کر کوئٹہ لکھا اور پچھلی تاریخ مٹا کر نئی تاریخ درج کی۔ یوں وہ کوئٹہ کی تاریخ کا ایک بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہوئے ۔

پچھلے دنوں ان کے اسٹاف افسر کو کورونا ہو گیا تو وہ خود پھول لےکر ان کی عیادت کو پہنچ گئے اور سٹاف کے روکنے کے باوجود ضد کر کے خود جا کر اسے تازہ گلدستہ دیا اور عیادت کی ۔

بحیثیت اسپیکر اپوزیشن ان سے اتنی خائف ہے کہ لشکری رئیسانی کو آفر دی گئی ہے کہ قاسم خان سوری کے خلاف رٹ پٹیشن پر جتنے بھی اخراجات آئیں کرو ، وہ ہم برداشت کریں گے، جو بھی صورت بنے اسے عدالت سے نا اہل قرار دلوایا جائے۔ اپوزیشن نے جب ان کا کیس سپریم کورٹ تک پہنچا دیا تو قاسم سوری تھوڑے پریشان ہوئے کیونکہ ان کے پاس وکیل کی فیس کے پیسے نہیں تھے۔ یہ بات اُن کے لیڈر عمران خان کو بھی معلوم تھی۔ 

انہوں نے فوراً پارٹی کو حکم دیا کہ پارٹی قاسم سوری کے وکیل کی فیس ادا کرے۔قاسم سوری نے ایک مرتبہ بلاول بھٹو کو تقریر کی اجازت نہ دی تو پیپلز پارٹی کےلئے بڑا مسئلہ بن گیا جب یہ بات آصف علی زرداری کو معلوم ہوئی تو وہ سیخ پا ہو گئے۔ 

پھر جب شور شرابہ کرنے پر پیپلز پارٹی کے ایم این اے آغا رفیع الدین کو اسمبلی سے نکال دیا گیا تو باقاعدہ قاسم سوری کے خلاف میٹنگ کی گئی کہ اس سے کیسے نجات حاصل کی جائے۔ اپوزیشن نے تو قاسم سوری کے خلاف باقاعدہ تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی تھی مگر شکست کےخوف سے واپس لے لی۔

عالمی کانفرنسز میں بھارت کے خلاف اتنی بھرپور آواز اٹھائی کہ پوری دنیا میں اس کی گونج محسوس کی گئی۔بھارت کے خلاف ان کی تقاریر کی ویڈیوز وائرل ہو ئیں۔کمبوڈیا میں ان کی تقریر کے دوران بھارتی نمائندے نے جب شور مچایا تو انتظامیہ نے اسےدھکے دے کر باہر نکال دیا۔ 

مالدیپ میں ہونے والی ایشیا اسپیکر کانفرنس میں بھی انہوں نے بھارت کو ناک آؤٹ کر دیا۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک تقریب میں اس حوالے سے اُن کی بہت تعریف کی۔ 

عمرہ کرکے واپس آئے تو میں نے پوچھا ’’آپ پہلی مرتبہ اللّٰہ کے گھر گئے تھے۔ کیسا لگا ‘‘تو کہنے لگے،’’ اس سفر کا مشکل ترین مرحلہ مدینےسے واپس آنا تھا۔دل واپسی کےلئے مانتا ہی نہیں تھا ‘‘۔اور مجھے احمد ندیم قاسمی کا شعر یاد آ گیا

یہ کہیں خامیٔ ایماں ہی نہ ہو

میں مدینے سے پلٹ آیا ہوں

میں نے کسی زمانے میں ایک شعر کہا تھا:

اس نے پی لی بھی ہو اورنشے میں نہ ہو ایسا ممکن تو ہے

وہ حکومت میں ہو اور نشے میں نہ ہو ایسا ممکن نہیں

قاسم سوری سے مل کر یہ شعر غلط ہوتا ہوا دکھائی دیتاہے۔

تازہ ترین