آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍ رجب المرجب 1442ھ 26؍فروری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جوبائیڈن:آغاز تو اچھا ہے

اقتدار سنبھالتے ہی نئے امریکی صدر نے جن خیالات کا اظہار کیا اگر مستقبل میں ان کی یہی پالیسی رہی تو اس مظلوم دنیا سے ظلم اور کورونا اٹھ سکتا ہے، امریکا اگر عالمی برادری کو لے کر چلے اور ہر خطے میں انسانی حقوق کی پامالی، پامال کر دیں تو یہ جہان ظلم و ستم بیماریوں سے پاک، امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ اللہ بخشے مسٹر ٹرمپ نے جو انّی مچا رکھی تھی اس کے خاتمے سے امریکا کے ساتھ سمندر پار تارکین وطن کا بھی بھلا ہو گا، اور متحدہ ریاستوں پر مشتمل اس سپر پاور کے نئے نویلے صدر عالمی بھائی جان بن سکتے ہیں، جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو نہایت محتاط رہنے کی ضرورت ہے، البتہ ہمارا خارجہ امور کی وزارت جوبائیڈن سے کسی قدر یہ امید رکھ سکتی ہے کہ افغانستان میں دیر پا امن کے قیام میں وہ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیں، اور یہ بات انہیں ہماری جانب سے باور کرانی چاہئے۔ امریکا کی پچاس سالہ تاریخ میں ٹرمپ نے انتقال اقتدار کی تقریب سے فرار حاصل کر کے ہر انسان کو یقین دلا دیا کہ امریکی روایات کا چہرہ مسخ کرنے کے جواب میں ان کے عہد صدارت کو سکپ کر دینا چاہئے، گویا اس نام کا کوئی شخص ایوان صدر میں آیا ہی نہیں تھا۔ جوبائیڈن کی سیاسی زندگی بڑا گہرا ساگر ہے وہ بات سنیں گے اور سنائیں گے بھی، ٹرمپ صاحب کے بارے غالبؔ کہہ چکے ہیں؎

رَو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھئے تھمے

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

خوشی کی بات ہے کہ پاک چین دوستی پر بھی اب کوئی حرف نہیں آئے گا، بہرحال پاکستان کو چین کے ساتھ اپنے لازوال تعلقات برقرا رکھنا ہوں گے، اس انداز میں کہ امریکا سے روابط بھی قائم رہیں بلکہ مزید استحکام پیدا ہو۔

٭٭٭٭

دونوں گندگیوں سے لاہور کو پاک کریں

پچھلے دنوں چیف منسٹر پنجاب عثمان بزدار نے لاہور کو گندگی سے صاف کرنے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ تاہم ابھی تک لاہور میں ہمیں تو کوئی عملدرآمد کے آثار نظر نہیں آئے کیونکہ میرے ساتھ والے پلاٹ میں بھینسیں بندھی ہوئی ہیں اور غلاظت کے انبار میرے سمیت تمام مکینوں کا ناک حسب سابق جلا رہے ہیں، یہ تو ہوئی زمینی گندگی جس کی صفائی واقعتاً ضروری ہے، مگر ایک گندگی لوگوں کی جیب، گھر اور بعض اوقات مزاحمت پر زندگی بھی صاف کر دیتی ہے، اور اب تو یہ سلسلہ پولیس کی چابکدستی کے باوجودبہت زور پکڑ گیا ہے۔ فہرست تو طویل ہے تاہم ایک واقعہ جس میں ایک روسی خاتون اصفیہ خان جس نے پاکستانی حمزہ عمران سے شادی کی اور لاہور اپنے سسرال اسلام پورہ سنت نگر آئی ہوئی تھی، اس کے سسر عمران چوہدری کے گھر میں دن دہاڑے ڈاکو داخل ہوئے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر 28لاکھ کے زیورات اور نقدی وغیرہ لوٹ کر فرار ہو گئے، 15پر کال کی گئی پولیس آئی مگر تاخیر سے تاکہ ڈاکو اطمینان سے اپنا مشن پورا کر سکیں، یہاں ہم یہ گزارش کرتے چلیں کہ چوہدری عمران ساکن سنت نگر اسلام پورہ کی روسی بہو کیا سوچے گی کہ صوبائی دارالحکومت میں بھی کوئی محفوظ نہیں، ظاہر ہے کہ وہ روسی شہری ہے اپنے سفارتخانے سے بھی رابطہ کرے گی، اور یوں دو ملکوں کے درمیان ڈکیتی کا تنازعہ اٹھ کھڑا ہو گا، یہ ’’عزت افزائی‘‘ آئی جی اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے کریڈٹ میں بھی جائے گی، واضح رہے کہ یہ کوئی ایک ہی گروہ ہے جو ایک ہی گاڑی میں اسلام پورہ کے علاقہ میں وارداتیں کر رہا ہے، پولیس اس کو پکڑنے میں ناکام کیوں ہے؟ ان دنوں لاہور میں ڈاکو راج اور غلاظت راج قائم و دائم ہے۔ پولیس ڈاکا زنی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کو روکنے میں پوری طرح ناکام ہے، اور یہ اب تک معلوم نہیں ہو سکا کہ بروقت اطلاع پر پولیس کے بروقت نہ پہنچنے میں کیا راز ہے، وزیر اعلیٰ اور آئی جی کم از کم اس ایک مذکورہ واقعہ پر ایکشن سے شروع کریں، اور ہنگامی بنیادوں پر لاہور کو دونوں طرح کی گندگی سے نجات دلائیں، شہری علاقوں میں مال مویشی رکھنے پر پابندی کے باوجود یہ گندگی کے سرچشمے بند کیوں نہیں کئے جاتے اور شہر لاہور جو ان دنوں ڈاکوئوں کے نرغے میں ہے اسے محفوظ بنانے میں حکومت پنجاب کیوں ناکام ہے؟

٭٭٭٭

بہتر معیشت، مہنگی بجلی گھر جائوں کیسے

جیسے حالات ویسی سرخی، ہم نے بھی اس لہو رنگ مہنگائی کو موضوع بنا لیا، کسی نے مال بنایا چلو ہم کوئی نہ کوئی چوندا چوندا موضوع تو پیش کر سکتے ہیں، میرے سامنے لیسکو کا عطا کردہ تازہ بل ہے، کہ میرا بیقرار دل ہے، یہ بل ہے کہ اعداد و شمار اور ٹیکسوں کی بھرمار پر مبنی سہ غزلا ہے، ای ڈیوٹی، ٹی وی فیس، نیلم جہلم جگا، ایف سی سرچارج، کہئے ان تمام کا بجلی سے کوئی تعلق ہے؟ جو ہماری حفاظت کرتے ہیں ہم انہیں تنخواہ کے ساتھ ٹیکس بھی دیتے ہیں، نیلم جہلم پر کونسا پن بجلی گھر ہے جس پر بچہ پیدا ہوتے ہی چیخ مارتا ہے اور پھر لحد تک اس کی چیخیں ہی کئی اور ذرائع سے نکالی جاتی رہتی ہیں۔ کرپٹ عناصر کی تو کیا غریب عوام کی چیخیں نکال دیں، یہ عجیب شوق ہے۔ اربابِ حکومت کا مدینہ کی ریاست قائم کرنے سے بہتر نہ تھا کہ مسجد کی امامت ہی سنبھال لیتے، بجلی اور مہنگی ہو گئی، گویا ایک یونٹ بجلی کی قیمت اب 30روپے کے لگ بھگ ہے، براہ کرم صارف ٹیکس فائلر ہوتا ہے اس سے صرف بجلی کے پیسے لئے جائیں۔ عدلیہ ہماری بہت بیدار مغز ہے اگر مناسب جانے تو بجلی بل پر بیجا حاشیہ آرائی کا از خود نوٹس لے کر نادار عوام کی دعائیں لے، اور یہ جو بجلی کی کمپنیاں بنائی گئی ہیں ان کو لائن حاضر کرے، بجلی چوری بھی ہوتی ہے، گیس نہیں ہے بل آتا ہے، سوئی ناردرن سے پوچھا جائے کہ جب بجلی جاتی ہے تو گیس کیوں زور شور سے آ جاتی ہے، اس لئے کہ کمپریسر بجلی سے چلتے ہیں، محکمے کے اہلکاروں کی ملی بھگت کے بغیر کمپریسر نہیں چلائے جا سکتے، بھتہ آخر کہاں کہاں جاتا ہے۔

٭٭٭٭

کھانسی ہے عاشقانہ

....Oجو ملک کا نظام ہستی تبادلوں کی بھرمار سے چلا رہا ہے وہی ناخدا ہے۔

....Oشیخ رشید جب سے وزیر داخلہ بنے ہیں سوا لاکھ کے ہو گئے ہیں۔

....O نیپرا، بجلی کے نرخ بڑھانے کا زیبرا ہے اس لئے قد ہے کہ بڑھتا جا رہا ہے، کیا اس کو کوئی ریگو لیٹر نہیں لگا ہوا؟

....Oتحقیق ہے کہ بند کمروں میں کھانسنے کے بجائے ایک دوسرے سے باتیں کرنے سے کورونا زیادہ پھیلتا ہے۔ اب عشاق کھانس کر اظہار محبت کریں گے یہ چپ نہیں رہتے کورونا نے کہا تو بھی نظر میں ہے۔

تازہ ترین