آپ آف لائن ہیں
پیر16؍ رجب المرجب 1442ھ یکم مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ٹیسٹ سیریز، مصباح جنوبی افریقا کیخلاف ریکارڈ بہتر کرنے کیلئے پرعزم

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈکوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ساری زندگی انڈر پریشر کرکٹ کھیلی ہے جنوبی افریقا کی سیریز کے نتیجے کے بعد آگے کیا ہوگا اس بارے میں نہیں سوچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار جنوبی افریقا کی سائیڈ پہلے جیسی نہیں، ہم چاہیں گے کہ اپنا ریکارڈ بہتر کریں۔ کسی چیز کا دبائو ہے تو وہ اس بات کا ہے کہ جنوبی افریقا ٹیم کو کس طرح ڈیل کرکے میچ جیتنا ہے۔ خوب سے خوب تر کارکردگی کے لئے بھرپور محنت اور کوشش کررہے ہیں لیکن میچ کا نتیجہ میرے یا کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ ماضی کے کھلاڑیوں کو ٹریننگ کیمپ مدعو کرنے سے متعلق ہیڈ کوچ کا کہنا تھا کہ ثقلین مشتاق کو شامل کرنے کا مقصد اسپنرز میں بہتری لانا ہے، محمد یوسف سے کھلاڑیوں کی اچھی کوآرڈی نیشن ہے جبکہ بیٹسمینوں کو لیڈ یونس خان ہی کررہے ہیں۔ وہ اتوار کو کراچی ٹیسٹ سے قبل ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی پرواہ نہیں ہے توجہ صرف سیریز پر مرکوز ہے۔ آگے کیا ہونا ہے اس کے بارے میں نہیں سوچ رہے۔

یہاں کنڈیشن اسپنرز کو سپورٹ دیتی اس لئے ثقلین کو بلایا کہ وہ نئے اسپنرز کو گائیڈ کریں۔ زیادہ کوچز سے کسی کھلاڑی کو کنفیوژن نہیں ہورہی ۔ مصباح نے کہا کہ باہمی مشاورت سے پاکستان ٹیم کا اعلان کیا جائے گا، بابر اعظم بطور کپتان بھی بہتر ثابت ہوسکتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ ان کی کپتانی میں نکھار آئے گا۔ ہوم کنڈیشن سے پاکستانی کھلاڑی ہم آہنگ ہیں، ہمارا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ کئی کھلاڑی ڈومیسٹک سیزن کھیل رہے تھے، اچھی کرکٹ کھیلیں تو سیریز اپنے نام کرسکتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے برعکس پاکستان کی کنڈیشنز مختلف ہیں، پاکستانی کنڈیشنز میں ایک مختلف کرکٹ ہوگی، ہم نے وکٹوں کے لحاظ سے تیاری کی ہے، بولنگ، بیٹنگ اور تکنیک اس ماحول میں مختلف ہوتی ہے۔ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں ہمارا ریکارڈ جنوبی افریقاسے بہتر ہے جسے برقرار رکھنا ہے۔ چار دن بڑی زبردست پریکٹس رہی ہے۔ فیلڈنگ کے معیار کو بہتر کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں ۔ اب تک کارکردگی سے مطمئن نہیں ہوں، بہتری ضروری ہے۔ آئی پی ایل میں کھیل کر جنوبی افریقی بیٹسمین اسپنرز کو کھیلنا جان گئے ہیں۔ آئسولیشن میں دو ، دو ہفتے پریکٹس سے محروم رہنے سے صورتحال مشکل ہوجاتی ہے۔ قرنطینہ میں رہتے ہوئے ٹیموں کو پریکٹس کی اجازت ملنا اچھی بات ہے۔ جنوبی افریقا کی ٹیم مضبوط ہے، اس کے خلاف بہترین کارکردگی پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ کراچی کی وکٹ کوئی مختلف نہیں ہوگی، پورے سیزن کی طرح روایتی وکٹ ہوگی۔