• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پختونخوا: 15 ستمبر سے مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ

حکمرانوں کے خلاف پی ڈی ایم میں شامل گیارہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے مشترکہ احتجاج کا سلسلہ جاری ہے مشترکے جلسے بھی کئے جارہے ہیں اور ریلیاں بھی نکالی جارہی ہیں اگر ایک طرف ملک میں پی ڈی ایم کی طرف سے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف جماعت اسلامی جو پی ڈی ایم سے باہر ہے سولو فلائٹ لیتے ہوئے حکومت کے خلاف الگ احتجاجی تحریک کا آغاز کرچکی ہے ملک بھر میں احتجاجی جلسوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ان احتجاجی جلسوں میں جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سیینٹر سراج الحق ٗصوبائی امیر سیینٹر مشتاق ا حمد خان اور دیگر قائدین کی طرف سے حکمرانوں کو آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ اب اسلام آباد کی طرف چلنے کا وقت آگیا ہے ہم اسلام آباد میں مولانا کی طرح دھرنا نہیں دیں گے اور نہ ہی واپس آئیں گے حکومت کی سونامی گزر گئی۔ 

اب وزیر اعظم عوامی سونامی دیکھیں گے اور انہیں اسلام آباد میں بھی پناہ نہیں ملے گی پی ٹی آئی کی سونامی کی وجہ سے آٹا چینی پٹرولیم مصنوعات ٗزندگی بچانے والی اودیات اور دیگر روزمرہ اشیاء ضرورت مہنگی ہو گئی ہے، روپے کی قدر کم ہو گئی ہے پی ٹی آئی کی سونامی کی وجہ سے ہماری قوم بھوکی سوتی ہے اس تبدیلی کی سونامی سے لوگ شیطان کی طرح پناہ مانگتے ہیں جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سیینٹر سراج الحق کی طرف سے حکمرانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ تبدیلی سرکار دور میں گزشتہ اڑھائی سالوں میں کرپشن بدعنوانیوں اورمہنگائی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے گئے ہیں عوام کے مسائل اس وقت حل ہوں گے جب عوامی نمائندے ایوانوں میں پہنچیں گے ۔

اب تک جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں کے نمائندے ہی اسمبلیوں میں پہنچتے رہے ہیں ۔ جمہوریت کا راگ آلاپنے والی پارٹیوں کے اند ر جمہوریت نہیں ۔ چچا بھتیجے اور ماموں بھانجے کی سیاست نے ملک و قوم کے 73سال ضائع کر دیے اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی سے اقتدار میں آنے والے قومی امنگوں کے مطابق فیصلے نہیں کر سکتے حکومت نے اڑھائی سال میں عوام کو نچوڑنے اور ٹیکس لگانے اور بڑھانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔ ایک عام مزدور اور دیہاڑی دار بھی 42 قسم کے ٹیکس دے رہاہے حکومت نے قرضے نہ لینے کا وعدہ کر کے سابقہ حکومتوں سے دوگنا قرض لیا ۔ 

جن لوگو ں احتساب ہوناچاہیے تھا انہیں وزیراعظم نے اپنی کابینہ میں شامل کرلیاہےجماعت اسلامی کی طرف سے رواں ماہ مردان سمیت دیگر اضلاع میں بھی احتجاجی تحریک کے سلسلہ میں اجتماعات منعقد کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے جس کے لئے جماعت اسلامی کی طرف سےبھرپور تیاریاں جاری ہیں اگر چہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے پی ڈی ایم کے احتجاج سے خوفزدہ ہونے کی بجائے نہایت ہی پراعتماد اور مطمئن دکھائی دے رہے ہیں تاہم ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے رو زگاری کے ساتھ ساتھ فارن فنڈنگ کیس براڈ شیٹ اورٹی آئی پی کی رپورٹ سے حکمرانوں کیلئے مشکلات بڑھتی جارہی ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ پی ڈی ایم کے احتجاج کو ناکام بنانے کیلئے حکمرانوں کو بیک فٹ پر کھیلنے کی بجائے فرنٹ فٹ پر کھیلنے کیلئے حکمران جماعت کے ناراض اراکین اسمبلی اور کارکنوں کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ 

تاہم وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی کو اپوزیشن الزامات کا توڑ کرنے کے سلسلے میں حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی کو متحرک کرنے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں اور اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں اس سلسلے میں وفاقی وزیر پرویز خٹک کی طرف سے حکمران جماعت کے متحرک ارکان صوبائی اسمبلی ظاہر شاہ طورو ٗشکیل خان اور ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کیں جس میں اپوزیشن کے غلط پروپیگنڈے کا توڑ کرنے کے سلسلے میں لائحہ عمل بنانے پر تفصیلی بات چیت کی گئی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے سربراہان نے ماضی کی حکومتوں میں عوام کا پیسہ چوری کیا اور اب اُس چوری پر پردہ ڈالنے کے لیے کرپٹ ٹولہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کی ناکام کوشش کررہی ہیں پی ڈی ایم میں شدید اختلافات پیدا ہوچکے ہیں اور بہت جلد ان کا مصنوعی اتحاد اپنے انجام کو پہنچ جائے گا۔ 

موجودہ مہنگائی کے ذمے دار سابقہ حکومتوں کے حکمران ہے جن کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج پاکستان قرضو ں میں ڈوبا ہوا ہے، خیبر پختونخوا میں پندرہ ستمبر سے مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان کردیاگیا ہے جس کی صوبائی کابینہ نے توثیق کی ہےوزیراعلیٰ محمود خان نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ حکومت اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کیلئے پر عزم ہے اور یہ امر اس بات کا بین ثبوت ہے کہ حکومت عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کیلئے کس حد تک سنجیدہ ہے صوبائی حکومت نے عوام کے بہترمفاد میں متعدد قوانین بنائے ہیں واضح رہے کہ حکومت کی طر ف سے اس سے قبل بھی مارچ میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان کیاگیا تھا جماعت اسلامی اسلامی کے پارلیمانی لیڈر وسابق صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان کی طرف سے ستمبر میں بلدیاتی انتخابات کروانے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حکومت اس سے قبل مارچ میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان کرچکی ہے لیکن حکومت انتخابات کروانے میں سنجیدہ نہیں اور بلدیاتی انتخابات راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔ 

19فروری کو خیبر پختونخوا میں ضلع کرم میں قومی اسمبلی اور پی کے 63نوشہرہ میں صوبائی اسمبلی کی خالی ہونیوالی نشستوں پر ہونیوالے ضمنی انتخابات کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں اور حکمرانوں کی طرف سے انتخابی مہم کے سلسلے میں ہونیوالے اجتماعات میں ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ جاری ہے اس سلسلے میں اگر چہ پی ڈی ایم میں شامل تین جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی ٗجمعیت علماء اسلام اور قومی وطن پارٹی کی طرف سے مسلم لیگ کے امیدوار اختیار ولی خان کی حمایت کا فیصلہ کرلیا گیا ہے پیپلزپارٹی ٗجمعیت علماء اسلام اور قومی وطن پارٹی کے قائدین کے مطابق ہم پی ڈی ایم کا حصہ ہیں اور (ن) لیگ کا ساتھ دیں گے ناصرف(ن)لیگ کے امیدوار کی حمایت کررہے ہیں بلکہ انتخابی مہم بھی چلا رہے ہیں تاہم اس نشست پر ہونیوالے انتخابات میں پی ڈی ایم کا مشترکہ امیدوار نامزد نہ کیا جاسکا ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید