• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک بدری ممکن لیکن برطانوی قانون کے مطابق، برطانوی حکومت

لندن(مرتضیٰ علی شاہ)برطانوی حکومت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ملک بدری ممکن ہے لیکن ایسا برطانوی قانون کے مطابق ہی ہوسکتاہے، وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا اوردولت مشترکہ اورڈیولپمنٹ آفس لارڈ طارق احمد نے یہ بات لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اسٹیفن ٹمز کے ایک خط کے جواب میں لکھی ہے ،ٹمز نے وزیراعظم بورس جانسن کے دفتر کو 16 دسمبر کو لکھے گئے اپنے خط میں سوال کیاتھا کہ کیا نواز شریف کو واپس بھیجنے کے انتظامات کئے گئے ہیں ، ٹمز نے اپنے برٹش پاکستانی رکن پارلیمنٹ خالد لودھی کی جانب سے بھیجا گیا خط 10 ڈائوننگ اسٹریٹ بھیج دیا تھا،طارق احمد نے اب یہ جواب براہ راست رکن پارلیمنٹ کو بھیجا ہے جس میں بتایا ہے کہ گزشتہ سال 15دسمبر کو برطانیہ نے ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعےامیگریشن کی خلاف ورزی کرنے والے 18 افراد کو پاکستان واپس بھجوایا تھا۔طارق احمد نے کہاہے کہ وہ کسی خاص فرد کے بارے میں تبصرہ نہیں کرسکتے لیکن اس موقع پر میں آپ کو یقین دلانا چاہتاہوں کہ برطانیہ کی حکومت کسی کو پناہ نہیں دے رہی یا کسی کی مہمانداری نہیں کررہی اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کو پاکستان واپس بھیجنے کے بارے میں درخواست ملک بدری کے عمومی طریقے سے ہوسکتی ہے ،انھوں نے لکھاہے کہ ملزموں کے تبادلے کامعاہدہ نہ ہونے کے باوجود ملک بدری اب بھی ہوسکتی ہے اورہوئی ہے اگر مناسب ذریعے سے ملک بدری کی کوئی درخواست کی گئی تو اس پر برطانوی قانون کے مطابق غورکیاجائے گا۔انھوں نے بتایا کہ حال ہی میں فارن کامن ویلتھ اور ڈیولپمنٹ آفس نے خالد لودھی کے خط کابراہ راست جواب دیا ہے جس میں کہاگیاہے کہ برطانیہ کی حکومت پاکستان ہائی کمیشن لندن کی جانب سے بھیجے جانے والے ناقابل ضمانت وارنٹ کی بنیاد پر نواز شریف کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتی ۔

ملک بھر سے سے مزید