آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
,

فصلوں پر کیڑے مکوڑوں کا حملہ اور حیاتیاتی طریقہ انسداد

ڈاکٹر رفعت سلطانہ /ڈاکٹر سنتوش کمار

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا انحصار زیادہ تر زراعت پر ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کبھی بھی اپنی مطلوبہ پیداوار کا ہدف حاصل نہیں کر پایا ہے ،جس کی بڑی وجہ فصلوں پر طرح طرح کے کیڑے مکوڑوں کا حملہ اور فصلوں کو ناقابل تلافی نقصان دینا ہے۔ ان کی فوری روک تھام کے لیے فی الوقت زہریلی دواؤں کااستعمال عام ہے۔ اب جب کہ کئی ممالک ان کرم کش ادویات کے اسپرے کو مکمل طور پر ترک کر چکے ہیں، کیوںکہ ان کے زہریلے اثرات نہ صرف فضائی آلودگی کا باعث بنتے ہیں بلکہ کھانے پینے کی چیزوں کو بھی زہر آلود بنا رہے ہیں ،جس کی وجہ سے صحت کے ان گنت مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اس گھمبیر مسئلے سے نمٹنے کے لیے سائنسی دنیا نے زراعت کے شعبے میں حیاتیاتی طریقے کار کو متعارف کروایا ہے۔ 

دراصل اس طریقے کے ذریعے حیات کو ہی حیات کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ حیاتیاتی طریقہ انسداد صرف مخصوص نوع کو ایک خاص وقت میں ختم کر کے ایکو سسٹم اور دوسری حیات کو باآسانی بچایا جا سکتا ہے۔ یہ بہت کارآمد طریقہ ہے۔ اس قدرتی حشر خود(Predator) اور طفیلی کیڑوں (Parasites) کی نشونما پر کوئی اثرات نہیں ہوتے، وہ بدستور اپنی کارکردگی میں مشغول رہتے ہیں۔ اس طریقے انسداد میں فضا بھی آلودہ نہیں ہوتی اور فصلوں پر زہر کے اثرات بھی بالکل نہیں ہوتے اور اسے باآسانی فصلوں پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ قیمتوں کے اعتبار سے بھی یہ طریقہ انسداد کی لاگت زہریلی کرم کش دواؤں کے مقابلے میں بہت کم ہے اور نتائج بہت پائیدار اور دیرپا رہنے والے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں کرم کش ادویات کا بکثرت استعمال ہے ،جس کی وجہ سے نہ صرف حشرات میں قوت مدافعت پیدا ہوگئی ہے ۔

دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں شرح اموات اور بیماریوں کا تناسب زیادہ ہے۔ اس کے پس منظر میں صرف اور صرف وہ کرم کش ادویات کا اثر یہ ہے جو ہم بے دریغ فصلوں پر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ہم وقتی طور پر تو فصلیں اور پیداوار بچا لیتے ہیں لیکن ان جانےمیں اپنی سرزمین میں وہ زہر گھول رہے ہیں، جس کا تصور ہی محال ہے۔ یہ زہر ہماری آنے والی نسلوں کے لیے کسی عالمی جنگ سے کم نہیں ہوگا۔ آخر اس کا سدباب کیسے کیا جائے؟ اور وہ کون کون سے اقدامات ہیں جن کو اپنا کر اس مسئلے کا حل تلاش کیا جائے لفظ حیاتیاتی انسداد سب سے پہلے (Harry Soothe Smith) نے 1999 میں استعمال کیا تھا۔اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ تصور پروان چڑھتا گیا اور 1945 میں Dr Greathead نے حشر خور اور طفیلی کیڑوںکو مختلف حشرات کے خلاف استعمال کر کے تقریبا 25فی صدمفید نتائج حاصل کیے اور وہاں سے اس حیاتیاتی انسداد کے تصور کو اور تقویت ملی حالاں کہ زمانہ قدیم میں900AD میں سب سے پہلے کترنے والے کیڑے (Rodents) کو (Leaf chewing insects) کے خلاف استعمال کیا، پھر 1200AD میں یمن کے مقام پر کھجور پرچیونٹی کو مکمل طور پر کنٹرول کیا ۔اس کے بعد اس تصور کو تقویت ملتی چلی گئی اور تاریخ شاہد ہے کہ 1945,1929,1898,1888,1792 ان حیاتیاتی ایجنڈے کو باقاعدہ ایک حیثیت حاصل ہوگی اور وہ حیاتیاتی ایجنڈے کے طور پر پہچانے لگے ،حالیہ سروے کے مطابق موجودہ دور میں تقریبا ًدو سو پچاس ملین ٹن خوراک کی اشد ضرورت ہے اور اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ذراعت کے سیکنڈ میں پیداوار کو بڑھانے اور بچانے کے لئے صرف اور صرف کرم کش ادویات کا اسپرے ہے جو نا صرف پیسے کا زیاں ہے اور دوسرے کئ ان گنت مسائل کو جنم دینے کے مترادف ہے۔ حیاتیاتی طریقے کار کے لئے اہم تیکنیک کو بروئے کار لایا جاتا ہے جو کہ درج ذیل ہے۔ کلاسیکل کنٹرول اس میں ان تمام قدرتی ایجنٹ ہے جن کو متاثرہ علاقوں میں متعارف کروایا جاتا ہے جو وہاں پہلے سے موجود ہیں جب کہ Augmentation میں قدرتی ایجنٹ کو بڑے پیمانے پر چھوڑا جاتا ہے ۔یہ فیلڈ میں پہلے سے موجود قدرتی ایجنٹ کی تعداد کو بڑھانے کا بھی باعث بنتے ہیں۔

حیاتیاتی انسداد کا تیسرا مرحلہ کنزرویشن پر مشتمل ہے۔ اس طریقے میں حکومت قدرتی ایجنٹ کی سرگرمیوں اور ان کی تعداد کو فعال بنانے میں سرگرم ہوتی ہے۔ آپ قدرتی ایجنٹ کی فیلڈ میں تین طریقوں سے استعمال کرسکتے ہیں۔مثلاً seed traditional ,soil application and Foliar application ۔ پاکستان میں CABI کے اشتراک سے بائیولوجیکل ایجنٹ کی مختلف اقسام ہیں۔ جن میں Entomopathogenic, Predator, Parasitoid, Bacteria,Virus, Protozoan and Nematodes شامل ہیں۔ Parasitoids یہ عام طور پر جسمانی نشوونما کے دوران ہی حشرات کے جسم میں داخل ہو کر اس کو ہلا ک کر دیتا ہے۔ اس کی عام مثالوں میں (Trichogramma) Wasps کی اقسام شامل ہیں۔ جب کہ Tetrastiches اقسام Pyrilla کے انڈوں کو 60 فی صد تک نقصان پہنچاتا ہے۔ Larva Parasitoids میں Apantels ہوتےہیں جو Cotasia species سے جانےجاتےہیں ۔

یہ Helicoverpa اور Rice call Midge کے خلاف بہت مؤثر ہے جب کہ Pupal Parasitoids میں Xanthopimpla کو Coconut Black Headed کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔جب کہEpiricana Spp کو Pyrilla کے نابالغ اور بالغ کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے ۔حیاتیاتی ایجنٹ کی دوسری تقسیم میں Predators شامل ہیں۔یہ نقصان دہ اثرات کو اپنی خوراک کا حصہ بناتے ہیں اس گروپ میں Chryscperla کی مختلف انواع کو کامیابی کے ساتھ Aphid,Whitely اور Thrip کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے تقریباً 50,000-10,000انڈوں کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ بیکٹیریا بھی حیاتیاتی انسان کا بہت اہم ایجنٹ ہے۔ 

اس کی ایک مخصوص Bacillus thringiensis کو Larva Helicoverpa کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ بی ٹی ( (Bt بیکٹیریا کے نتائج Diptera, Coleoptera, Lepidoptera کے خلاف بہت مؤثر ہیں اور ان حشرات کو بیکٹیریا کے ذریعے باآسانی کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ یورپ آسٹریلیا اور دیگر کئی ممالک میں اس کے تحقیقی ٹرائل جاری ہیں۔ بی ٹی بیکٹیریا ہماری فصلیں جن میں گوبھی، بینگن ،ٹماٹر ،کپاس اور سورج مکھی شامل ہیں۔ان پر حملہ آور ہونے والے حشرات کے خلاف بہت مؤثر ہے ۔جب کہ جہاں تک وائرس کا تعلق ہے اس کی ایک اہم قسم نیو کلئیر پولیہڈریا وائرس (Nuclear Polyhedrisia Virus ) جو کہ NPVکے نام سے مشہور ہے۔ یہ دراصل حشرات کی Mid-gut کو متاثر کرتا ہے ،جس کی وجہ سے حشرات کا ترسیلی اور مواصلاتی نظام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنی نارمل سرگرمیوں کو ترک کر کے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے ،جس میں اس کے مزید موثر نتائج کے لئے اس کا ٹرائل مختلف حشرات پر کیا جارہا ہے ۔جہاں تک Entomopathogenic کا تعلق ہے اب تک اس کے دو اقسام جن میں Beauveria and Metarhizium شامل ہیں ان کو Lepideptera, Ortheptera اور Coleoptera کے خلاف 80 فی صد کامیاب نتائج کے ساتھ استعمال میں لایا جا رہا ہے حال ہی میں اس کے ٹرائل ٹڈی دل کے خلاف مختلف اضلاع میں جاری ہیں۔

یہ فنجائی دراصل بہت جلد ہوسٹ کے جسم میں داخل ہو کر اپنا اثر دکھانا شروع کر دیتی ہے۔ متاثر ہونے کی صورت میں حشرات سست روی کا شکار ہو کر آہستہ آہستہ اپنی تمام تر سرگرمیاں ترک کر دیتا ہے اور کچھ ہی عرصہ بعد ہلاک ہوجاتا ہے۔ اس کے جسم پر موجود سفید پاؤڈر سے اس فنجائی کے ظاہر ہونے کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ جیسے ہی Spore اس کے جسم میں داخل ہوتے ہیں حشرات خوراک وغیرہ چھوڑ دیتا ہے۔ گنا، کپاس، ٹماٹر، گوبھی، مٹر، چنا اور دوسری موثر فصلوں پر حملہ آور ہونے والے حشرات کو(EPE) کی مدد سے بآسانی کنٹرول کیا جاسکتا ہے ۔

پروٹو زون (Protozoan )حشرات کو براہ راست ہلاک کرتے ہیں یا پھر آہستہ آہستہ اس کی تولیدی صلاحیت کو ختم کردیتے ہیں اور بالغ حضرات کی زندگی پر مضر اثرات مرتب کرتے ہیں۔پروٹوزون کی Larval زندگی بہت طویل ہوتی ہے ،جس کی وجہ سے یہ بیالوجیکل کنٹرول میں اتنی خاطرخواہ حیثیت حاصل نہیں کرپایا ہے، تاہم اس کی خاص انواح جن میں Nosema, Farinosytis شامل ہیں ان کو Beetle کے خلاف موثر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نیمٹودس(Nematodes ) تو عموماً زیرزمین رہتے ہیں اور اینڈو پراسیٹک Endoparasitic مخلوق کے طور پر جانے جاتے ہیں۔اس کی خاص انواع Steinernema, Heterorhabditis میں شامل ہیں اور Mermis کو Grasshopper اور Locusts کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔

ان بیالوجیکل ایجنٹ کے استعمال سے ایک بات تو عیاں ہے کہ یہ کسی بھی طرح اثرات کا موجب نہیں بنتے۔ ان کے استعمال کے کئی فوائد ہیں۔یہ کم لاگت والا دیر پا استعمال ہے ،یہ فصلوں کو مکمل وقت کے لیے فائدہ مہیا کرتا ہے ۔یہ پودوں میں کسی بھی قسم کا مواد پیدا نہیں کرتا۔ یہ زمین میں بآسانی جذب ہوجاتا ہے اور نتیجے میں زمین کی زرخیزی اور فصل کی پیداوار بڑھاتا ہے۔بیالوجیکل ایجنٹ کو استعمال کرنا بہت آسان ہے اور یہ بڑے پیمانے پر خاطر خواہ نتائج کا ضامن ہے۔ اس کے لیےتمام حکومتی ذرائع کو مل کر ان تمام ایجنٹ کو مؤثر طریقے سے پروڈکشن کے لیے تمام تر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کسانوں کے لیے سستے داموں پر سپلائی اور ان کے ریلیز کے لئے ریگولر بنیادوں پر ورکشاپ سینیما وغیرہ کا انعقاد کیا جائے۔

ملک میں بایولوجیکل سینٹر یونٹ کے بنیادی تصور کو اُجاگر کرنے کے لیے جامعات اور تحقیقی اداروں جہاں پر ان کی Reuriny Mass پر کام ہو رہا ہے ان تمام اداروں کو جدید مشینوں اور سہولیات کے ساتھ آراستہ کیا جائےکبھی ان کی مزید بہتری اور مکمل سپلائی اور ٹائم کی پابندی کا خیال رکھتے ہوئے ان کو ہنگامی بنیادوں پر تحقیقی فنڈ مہیا کیے جائیں۔ پروگرام کو قومی سطح پر پذیرائی ملنی چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ گاؤں میں چھوٹے چھوٹے بایولوجیکل یونٹ کا قیام کیا جائے، تاکہ عام کسان کی رسائی ان تک ممکن ہو سکے اور ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید