• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی سینیٹ نے ان کے دُوسرے مواخذہ سے بری کر دیا۔ امریکی آئین کے مطابق مواخذہ میں قصور ثابت کرنے کے لئے دو تہائی اراکین کی اکثریت درکار تھی، مگر ووٹنگ میں 57-43 ووٹ آئے، اس لئے سینیٹ کو ڈونلڈ ٹرمپ کو بری کرنا پڑا۔ فیصلہ سُن کر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ امریکہ کو عظیم تر بنانا اور اس کو اس کا مقام واپس دلانا ہے یہ تحریک جاری رہے گی۔ 

ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنمائوں سمیت امریکی سیاسی حلقوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بری ہونے کے فیصلے پر اپنے تحفظات کا اعلان کیا ہے۔ بیش تر ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔ ڈیموکریٹس اراکین نے ریپبلیکن پارٹی کے سینیٹرز پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ جن اراکین نے مواخذے کی حمایت کی تھی اب ان میں سے بعض نے مواخذہ میں ٹرمپ کی حمایت کی۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اس موقع پر ایک بیان میں کہا کہ اس وقت امریکی جمہوریت نازک صورت حال سے دوچار ہے، مگر امریکی عوام جمہوریت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ سابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں آنے والے دنوں میں امریکی عوام کو بہت سے حقائق سے آگاہ کروں گا۔ مواخذہ کی کارروائی کے دوران ایوان کو 6 جنوری کی ویڈیو دکھائی گئی، مگر ڈونلڈ ٹرمپ کا مؤقف یہی رہا کہ ان کو سازش کے تحت ہرایا گیا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر جوبائیڈن کے انتخابات میں ووٹوں کا کم فرق تھا۔ انتخابی نتائج قریب قریب رہے۔ جوبائیڈن کو عام ووٹ آٹھ کروڑ اور ڈونلڈ ٹرمپ کو سات کروڑ تیس لاکھ کے قریب ڈالے گئے، مگر کہا جاتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کورونا وائرس کے پہلے حملے کے دوران بہتر کارکردگی نہ دکھانے کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ 

اس حوالے سے امریکی مبصرین کا کہنا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے غیرلچکدار رویوں سے اپنے قریبی ساتھیوں اور میڈیا سے بھی ان کی ترش روی اور ناچاقی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی اس کے علاوہ ان کی بیش تر پالیسیوں سے امریکہ کے پرانے حلیف بھی نالاں دکھائی دیتے تھے۔ ریپبلکن پارٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹک اُمیدوار ہلیری کلنٹن نے 2016ء کے صدارتی انتخابات کے دوران خاصی جارحانہ صدارتی انتخابی مہم چلائی تھی، یہاں تک کہ صدر باراک اوباما نے دو بار سے زائد مرتبہ کھل کر بیان دیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہرگز انتخابات نہیں جیت سکیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے انتخابات کے دوران امریکہ سب سے پہلے، امریکی معیشت کو بہتر بنانا، بیروزگاری دُور کرنا اور سب سے زیادہ یہ کہ چین میں کارخانے لگانے، امریکی سرمایہ اُوپر لے جانے کی روک تھام کرنا جیسے نعرے دے کر عوام کے ووٹ حاصل کئے۔ 

بلاشبہ 2016ء میں ڈونلڈ ٹرمپ کا انتخابات میں فتح حاصل کرنا نہ صرف امریکہ بلکہ تقریباً دُنیا میں ایک حیران کن خبر تھی، جس پر مشکل سے یقین آتا تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی ڈونلڈ ٹرمپ کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں تھا وہ ایک فعال چالاک کاروباری شخصیت تھے جس نے کم وقت میں زیادہ پیسہ کما لیا تھا جبکہ ان کے مقابل میں ڈیموکریٹک پارٹی کی اُمیدوار ہلیری کلنٹن کا پس منظر سیاسی تھا، سفارت کار، صدر بل کلنٹن کے دور میں امریکہ کی خاتون اوّل تھیں اور امور خارجہ میں ان کا تجربہ نمایاں تھا پھر ہلیری کلنٹن کو اپنی جیت کا پورا بھروسہ تھا۔ وہ اپنا الیکشن ہار جانے کے باوجود غور طلب بات یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو غیرقانونی صدر کہا کرتی تھیں، ان کی حلف برداری پر نہ صرف واشنگٹن بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی ہلیری کلنٹن کے حامیوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے تھے۔

6 جنوری 2021ء کے کیپٹل ہلز کے احتجاجی مظاہروں پر ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹرز کو اور ایوان نمائندگان کو حیرت تھی کہ اتنے کم وقت میں ڈونلڈ ٹرمپ نے تیس پینتیس ہزار افراد کیسے جمع کر لئے جو ان کے پُرجوش حامی تھے۔ صدر جوبائیڈن کی حلف برداری کے بعد سابق صدر ٹرمپ کے حامی حلقوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنمائوں پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ انہوں نے حلف برداری کے موقع پر واشنگٹن میں بڑے پیمانے پر فوجی اور نیم فوجی تعینات کر کے دارالخلافہ کو فوجی چھائونی میں تبدیل کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں سے اور خود ٹرمپ سے خطرہ ہے کہ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ 

اس کے ساتھ ہی ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے اور ان کی طرف سے اپنے باقی ماندہ دنوں میں کوئی بڑا اقدام کر کے اپنی مدت صدارت میں مزید اضافہ کرنے کے خدشات کا بھی اظہار کیا گیا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے چار سالہ دور میں کیا اچھا کیا اور کیا بُرا کیا، اس بحث سے قطع نظر یہ سچ ہے کہ ان کے چار سالہ دور میں کوئی جنگ شروع نہیں کی گئی غالباً اس کا امریکہ کے جنگجو حلقوں کو گلا ضرور رہا۔

سال 2020ء کی صدارتی مہم کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی نے پوری سنجیدگی اور منظم انداز میں جوبائیڈن کو ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں اُتارا۔ بائیڈن کہنہ مشق، اعتدال پسند اور داخلی و خارجی مسائل سے بخوبی آگاہ سیاستدان ہیں۔ عمر کے حوالے سے بھی وہ معمر اور تجربہ کار ہیں، مگر ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے سب سے بڑا مسئلہ کورونا وائرس نے کھڑا کیا جس کو وہ سنجیدگی سے لیتے اور اعلان کرتے کہ ماسک پہننا لازمی ہے، فاصلہ رکھنا اور ہجوم سے اجتناب کرنا بھی ضروری ہے تو شاید اتنی اَموات نہ ہوتیں جو امریکہ کو برداشت کرنا پڑیں، اس کا سارا ملبہ ٹرمپ پر آ گیا، اس طرح انتخابی مہم میں کورونا ٹرمپ پر حاوی رہا، جس کا میڈیا اور ٹرمپ مخالفین نے پورا فائدہ اُٹھایا۔ اس پر یہ کہ ٹرمپ کی اپنی شخصی کمزوریاں بھی ان کی فتح میں رُکاوٹ بن گئیں۔

اب ڈیموکریٹک پارٹی نے جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کا دُوسرے مواخذہ کے لئے گھیرائو کر کے انہیں کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی پالیسی یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر مواخذہ کے ذریعہ یہ پابندی عائد کی جائے کہ وہ سیاست میں حصہ نہ لے سکیں تاکہ آئندہ انتخابات میں وہ پھر اُمیدوار نہ بن سکیں جبکہ ریپبلکن پارٹی کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے اُمیدار نے اس قدر ووٹ حاصل کئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جوبائیڈن کو تقریباً آٹھ کروڑ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ساتھ کروڑ چالیس لاکھ ووٹ حاصل ہوئے۔ اس طرح ریپبلکن 2024ء کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا پھر صدارتی اُمیدوار نامزد کرنے پر راضی ہے۔ تاہم ٹرمپ نے اخباری نمائندوں کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ اگر آئندہ صدارتی اُمیدوار نہیں بنے تو پارٹی کے صدارتی اُمیدوار کے لئے کام کریں گے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو سیاست میں لے آئیںگے۔

یہ سب فی الفور قیاس آرائیاں ہیں، اصل بات یہ ہے کہ امریکہ کی سیاست جتنی واضح ہے اتنی ہی پیچیدہ ہے، اس کی ایک مثال انتخابی طریقہ کار ہے جس میں پاپولر ووٹ الیکٹرول کالج کا انتخاب کرتے ہیں پھر الیکٹرول کالج صدارتی اُمیدوار کا انتخاب کرتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ میں لابی سسٹم بہت فعال اور طاقتور ہے جو پارٹی لابنگ کر کے اپنا اَثر و رسوخ بڑھاتی ہے فائدہ اُٹھاتی ہے۔ کانگریس اور سینیٹ میں بھی مختلف لابیاں اور پریشر گروپس فعال رہتے ہیں۔ اس حوالے سے امریکہ میں بڑے تجربہ کار اور اپنا ایک حلقہ اثر رکھنے والے ادارے پیشہ ور طور پر لابنگ کرتے اور بھاری معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ ان سب پر بھاری بڑے صنعت کار، تجارتی اور سرمایہ کار اداروں، کارپوریشنز کا اثر ہوتا ہے، ان اجارہ داروں کا کلب اپنے مفادات کے تابع فیصلہ کرتا اور اپنا وزن اپنے پسندیدہ اُمیدوار کی جھولی میں ڈالتا ہے۔ 

وال اسٹریٹ جرنل نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے ایک مضمون میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے سرمایہ داروں کے طاقتور کلب نے ٹرمپ کو دوسری باری کے لئے ناپسند کر دیا تھا ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ ہم سے نہیں ہے۔ پہلی بار وہ جیت گئے مگر دُوسری بار ان کی ہار بھی چار سال قبل کی جیت کی طرح حیران کن تھی، کیونکہ ایک روایت یہ رہی کہ امریکا کا صدر دوسری بار میں زیادہ تر جیت جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکی تاریخ میں ایسا موقع کبھی نہیں آیا کہ امریکی صدر کو دو بار مواخذہ سے گزرنا پڑا ہو۔ ڈیڑھ سو برس قبل خانہ جنگی اور قتل و غارت گری کے باوجود جن سیاسی رہنمائوں اور بااختیار شخصیات پر الزامات عائد تھے انہیں بھی ایسی صورت حال سے نہیں گزرنا پڑا جیسے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہوا۔ 

ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ 6 جنوری کو کیپٹل ہلز میں جو کچھ ہوا اس بارے میں سوچ کر ہی گھبراہٹ ہوتی ہے۔ سابق نائب صدر مائیک پنس کے سیکرٹری کا کہنا ہے کہ اس وقت نائب صدر کے پاس جو حفاظتی بریف کیس تھا جس کو جوہری فٹ بال بھی کہا جاتا ہے یہ حفظ ما تقدم کے طور پر نائب صدر کے پاس ہوتا ہے جو امریکی صدر کے ساتھ کوئی ناگہانی آفت پیش آ جانے یا اچانک ان کا انتقال ہو جائے تو صدر کے جوہری ہتھیاروں کے کوڈ والا بریفک کیس آف ہو جاتا ہے اور نائب صدر کا بریف کیس ایک طرح سے آن ہو جاتا ہے۔ 

اس جوہری فٹ بال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 6 جنوری کو ایوان میں احتجاج کرنے والوں کا حملہ ہوا اور احتجاج کرنے والے ایوان میں توڑ پھوڑ کرنے لگے تب مائیک پنس کے پاس وہ جوہری ہتھیاروں کے بٹن والا بریف کیس موجود تھا جس کے تقریباً بیس فٹ کے فاصلے پر ہجوم تھا بمشکل تمام مائیک پنس اپنے اور اپنے جوہری فٹ بال کو ہجوم سے بچا پائے۔ یہ تمام صورت حال اس قدر تشویشناک تھی کہ ہر کوئی حیران اور ہراساں تھا۔ اس تمام معاملے کو مواخذہ کے ٹرائل کے دوران زیربحث لاتے ہوئے ٹرمپ کے مخالف وکلاء نے اس کو امریکی آئین اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا۔ سرکاری وکلاء کا مزید کہنا تھا کہ اس اندوہناک واقعہ کی ویڈیو کلپس دیکھ کر ہی خوف آتا ہے کہ کیا کیا ہوا۔ اس دوران معزز ایوان کے قائدین اور اراکین کو بمشکل تمام اپنی جان بچانے کا موقع ملا۔ اس خوفناک صورت حال کو سنبھالنے میں ایک فرض شناس پولیس افسر ہلاک ہوگیا، جبکہ پچاس سے زائد اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔ 

پانچ سویلین ہلاک ہوئے کیونکہ ہجوم نے راستے بند کر دیئے تھے۔ ان زخمیوں کو بروقت اسپتال نہ پہنچایا جا سکا تھا۔ ان تمام تر افسوسناک واقعات کی ذمہ داری ڈیموکریٹس نے ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد کر دی تھی۔ اپنی تقریر کے ذریعہ ٹرمپ نے ہجوم کو جوش دلایا تھا اور ٹوئیٹ بھی کیا تھا جس کے بعد احتجاجی ہجوم مزید جوش سے بپھر گیا تھا۔مگر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکلاء کا مواخذہ کی کارروائی کے دوران یہی مؤقف تھا کہ ٹرمپ بے قصور ہیں ان کو محض سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 

ویڈیو کلپس کے علاوہ ٹرمپ مخالفین کے پاس کچھ نہیں ہے تاحال کوئی اور ثبوت سامنے نہیں آئے۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ درست ہے ڈونلڈ ٹرمپ کوئی کہنہ مشق سیاستدان نہیں ہیں نہ ان کا صدر بننے سے قبل کوئی سیاسی پس منظر رہا وہ کامیاب اور شاطر کاروباری شخصیت ہیں، مگر اپنے چار سالہ دور میں بہت سی کوتاہیوں، غلطیوں کے باوجود کچھ بھی کیا جس میں ان کی چار سال میں کہیں نہ جنگ چھیڑنے کی پالیسی حیران کن تھی۔ 

انہوں نے چین سے زیادہ امریکہ میں سرمایہ کاری کرنے، امریکیوں کو روزگار دینے اور امریکی ٹیکنالوجی کو امریکہ کے لئے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے پر زور دیا، جو بھی ہوا مگر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکن پارٹی میں ووٹ حاصل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ پارٹی اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ 

ڈیموکریٹک پارٹی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی مخالفین کو ٹرمپ سے زیادہ ان امریکیوں کے بارے میں غور کرنا چاہئے کہ ان تمام کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود ٹرمپ کو اتنے ووٹ کیوں ڈالے گئے؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ووٹر کو متحرک رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے، تاہم سینیٹ کے حالیہ فیصلے کے امریکی سیاست پر گہرے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔