آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

شادی کے موقع پر دیے جانے والے تحائف مہر میں شمار نہیں ہوں گے

تفہیم المسائل

سوال: لڑکے نے شادی کے موقع پر اپنی بیوی کو سونے کا سیٹ ،ڈائمنڈ انگوٹھی ،سونے کی چین ،علاوہ ازیں ساس سسر اور دیگر رشتے داروں نے 9عدد سیٹ 2بڑے اور بھاری کڑے ،جھمکے اور انگوٹھی وغیرہ دی ،جو مہر کی رقم سے کہیں زیادہ مالیت کی ہے ۔یہ تمام سامان لڑکی واپس نہیں کررہی اور پانچ ہزار پاؤنڈ مہر کا دعویٰ کررہی ہے،کیا اُس کا یہ مطالبہ درست ہے ؟(ج۔ اسلام آباد)

جواب:۔ شادی کے موقع پر جو کچھ شوہر ،سسرال اوردیگر رشتے داروں کی جانب سے ملا، وہ ہبہ (Gift)کے طورپرتھا ،تو شوہر کو اُن کی واپسی کے مطالبے کا حق حاصل نہیں ،ہاں!اگر عاریۃً محض استعمال کے لیے دیا تھا تو واپس لے سکتاہے ، اُس کواب مہر میں شمار نہیں کرسکتا۔علامہ علاء الدین حصکفیؒ لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ اگر شوہر نے اپنی بیوی کوکچھ (نقد یا کسی جنس سے ) بھیجا اور دیتے وقت مہر کے علاوہ بھی کوئی اور مَصرَف بیان نہیں کیا ،مثلاً یوںکہا: ’’یہ رقم شمع یا مہندی کے لیے ہے ‘‘،پھر شوہر نے کہا کہ وہ تو مہر تھا ،تو اُس (شوہر) کا قول مقبول نہیں ہوگا ، ’’ قنیہ‘‘ (میں ہے:) کیونکہ وہ چیز ہدیہ ہوچکی تو مہر میں تبدیل نہیں ہوسکے گی ،(ردالمحتار علیٰ الدرالمختار ،جلد4،ص:224،بیروت)‘‘۔

علامہ نظام الدین ؒ لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ شوہر نے کوئی چیز عورت کے گھر بھیجی ، جس کے بارے میں وہ کہتی ہے کہ یہ ہدیہ ہے اور شوہر اسے مہر کہتا ہے ،اگر وہ چیز کھانے کی قسم سے ہے ، جیسے بھنا ہوا گوشت ، پکا ہوا گوشت ،میوہ وغیرہ جو باقی نہیں رہتیں،تو عورت کا قول معتبر ہوگا،پس اگر وہ اشیاء ایسی ہیں جو دیر تک باقی رہتی ہیں ،جیسے شہد ، گھی ،اخروٹ ، بادام وغیرہ تو شوہر کا قول معتبر ہوگا ، جیساکہ ’’تبیین ‘‘ میں ہے ،(فتاویٰ عالمگیری ،جلد1،ص:322) ‘‘ ۔شوہر پر مہر کی ادائیگی لازم ہے ،اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:ترجمہ:’’جن عورتوں سے (بذریعہ نکاح) تم فائدہ اٹھا چکے ہو،تو ان کا مقررہ مہر اداکردو، (سورۃالنساء: 24 )‘‘۔جہیز اور بری کے سامان کی ملکیت کے شرعی اَحکام ہم نے اپنے فتاویٰ ’’تفہیم المسائل ‘‘ جلد سوم (صفحہ211تا213)میں تفصیل سے بیان کیے ہیں، وہاں سے مطالعہ کیے جاسکتے ہیں۔