• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معاشرے میں عَدم برداشت کے باعث لڑائی جھگڑے تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ تاہم اس میں تشدد کا تناسب بڑھ جانے کی وجہ سے معاملہ قتل و غارت گری تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے نتیجہ ہنستے بستے گھر ویران ،جب کہ جیلیں اور قبرستان آباد ہوجاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں اس وقت سب سے سنگین صورت حال یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے بڑے اور ہولناک واقعات جنم لےرہے ہیں ۔ 

ایسا ہی ایک روح فرسا واقعہ شہر کے گنجان آباد علاقے سانگھڑ روڈ پر پیش آیا جس میں کرکٹ میچ کھیلنے کے دوران تلخ کلامی کے بعد جھگڑا اس قدر بڑھا کہ بات خون ریز تصادم تک جا پہنچی، جس کے نتیجے میں دو بہنوں کے اکلوتے بھائی اور کیڈٹ کالج پنو عاقل کے نوجوان کیڈٹ کی جان چلی گئی۔ بہنوں کے بھائی کے سہرے کے پھول سجانے کے سہانے سپنے بکھر گئے ، جب کہ ماں کی ممتا اور باپ کی بڑھاپے کی لاٹھی چھن گئی۔ اس سلسلے میں پولیس کے مطابق نواب شاہ سانگھڑ روڈ کرکٹ میچ کے دوران، جب کہ دو ٹیموں کے درمیان میچ جاری تھا کہ اچانک کسی پر کھلاڑیوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی۔ تاہم ساتھیوں کے چھڑانے سے معاملہ رفع دفع تو ہو گیا۔ 

تاہم دلوں کی رنجش دور نہ ہوسکی اور دونوں جانب سے دیکھ لیں گے، کی دہمکیوں کے بعد اسی شب اسنوکر پر دوبارہ ان کی مڈھ بھیڑ ہوگئی اور پھر ایک دوسرے سے گالم گلوچ کے بعد یہ لڑائی بڑھتے بڑھتے خونی تصادم پر منتج ہوئی اور اس کے نتیجے میں کیڈٹ کالج پنو عاقل کا نوجوان کیڈٹ حسیب مینگل جو کہ دو بہنوں کا اکلوتا بھائی اور ماں باپ کا لاڈلا تھا، گولیاں لگنے سے موت کی وادی میں پہنچ گیا۔ اس لڑائی میں پولیس نے قتل کے الزام میں دو نوجوان ذیشان جٹ اور شہزاد جٹ کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا، جب کہ حسیب مینگل کے گھر میں کہرام برپا ہے، اس کا والد پولیس کانسٹیبل اور جیل میں ڈیوٹی کرتا ہے۔ 

اس سارے معاملے میں یہ بات اہم ہے کہ نصابی سرگرمیوں کے ساتھ غیر نصابی سرگرمیاں، جس میں کھیل کُود بچوں کی نشوو نما کے لیے ضروری ہے، کی جائیں، لیکن اس بات کی بھی اشد ضرورت ہے کہ نوجوانوں میں قوت برداشت پیدا کرنے کے لیے والدین اور اساتذہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا جو کہ ایک اعلی کردار کے حامل معاشرے کی نشانی اور ضرورت ہے ۔ کیڈٹ حسیب کے قتل سے گو کہ پولیس نے فوری طور پر ورثاء کی درخواست پر دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے اور تفتیش بھی شروع کردی ہے۔ اس سے علاقہ میں بے چینی کی فضاء کے خاتمہ اور پولیس پر اعتماد بڑھا ہے۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اور اساتذہ اس جانب توجہ کریں اور بچوں میں عدم برداشت کے نقصانات اور برداشت کے ثمرات سے آگاہ اور ذھن سازی کریں تاکہ پھر کوئی کیڈٹ حسیب گولیوں کا نشانہ نہ بن سکے۔

قاضی احمد کے گاؤں طوطل جتوئی میں ذاتی دشمنی کے نتیجہ میں جھونپڑیوں کو آگ لگانے کی واردات میں دو معصوم بچیوں ضمیراں اور عجیب جتوئی کے جاں بحق ہونے کے واقعے کو ایک سال گزر جانے کے باوجود ملزمان کی عدم گرفتاری پر ورثاء سراپا احتجاج ہیں۔ اس سلسلے میں قاضی احمد، میں مقتول بچیوں کے ورثاء جن میں مسمات وزیراں ،مسمات گڈی، عرس جتوئی اور گل شیر جتوئی سمیٹ دیگر ورثاء شامل تھےنے مقامی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ 

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک سال قبل ملزمان نے ذاتی دشمنی کے باعث رات میں ہماری گھاس پھونس سے بنی جھونپڑیوں کو آگ لگادی تھی، جس کے نتیجے میں دو معصوم بچیاں جل کر جاں بحق ہوگئی تھیں، کے بااثر قاتل پولیس کی دسترس سے باہر آزاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے مقامی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کرا رکھی تھی جو کہ اب معزز ہائی کورٹ نے ہماری درخواست پر ختم اور ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ 

تاہم انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس ملزمان کو گرفتا کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے، جب کہ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان مقدمات واپس نہ لینے کی صورت میں خراب نتائیج بھگتنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وقوعہ کے مطابق ایک سال قبل رات گئے جھونپڑیوں میں آگ لگائے جانے سے دیگر مکین تو جان بچا کر نکل جانے میں کام یاب ہو گئے، جب کہ دو معصوم بچیاں جل کر کوئلہ ہو گئیں، اس واقعہ کے بعد خوب احتجاج اور قومی شاہراہ پر دھرنادیا گیا ، جس کے بعد پولیس نے ورثاء کی درخواست پر غلام حیدر جتوئی ،لیاقت جتوئی ،حسین جتوئی ،علی گوہر جتوئی ،علی گل جتوئی اور اللہ بخش جتوئی کے ذ خلاف بچیوں کے قتل کا مقدمہ درج کردیا۔ تاہم پولیس کے مطابق نامزد ملزمان نے مقدمہ کے اندراج کے بعد عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرلی اور اس طرح وہ گرفتاری سے بچ گئے۔ 

تاہم ہائی کورٹ میں ان درخواست ضمانت قبل از گرفتاری رد ہونے کے بعد اب ورثاء کا الزام ہے کہ پولیس انہیں گرفتار نہیں کررہی ہے، جس کی وجہ سے وہ مقتول بچیوں کے ورثاء کو مقدمات کی واپسی اور عدم واپسی پر نتائیج بھگتے کی دہمکیاں دے رہے ہیں۔ ادھر اس سلسلے میں مقامی سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ دو بچیوں کو جلا کر مارنے کا واقعہ انتہائی افسوس ناک تھا۔ تاہم اس بارے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس معاملہ کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرے اور حقائق کی روشنی میں قاتلوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر مظلوموں کو انصاف فراہم کرے۔ اس سلسلے میں مقتول بچیوں کی والدہ نے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر پریس کلب کے سامنے خود سوزی کی دھمکی دی ہے۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سے پہلے کہ بچیوں کی غم سے نڈھال ماں کوئی انتہائی قدم اُٹھائے، اس سے پہلے ہی اس کے زخم پر پولیس حقیقی قاتلوں کو پکڑ کر مرہم رکھ دے، تاکہ اس کی ممتا کو سکون آجائے۔

دوسری جانب ایس ایس پی تنویرحسین تنیو کا کہنا تھا کہ پولیس روپوش ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے، جب کہ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ضلع شہید بے نظیر آباد میں قتل کے مقدمات کی تفتیش کے لیے سینئر پولیس افسر اقبال احمد وسان کی سربراہی میں سیل قائم کیا ہے جو کہ ضلع میں ہونے والی قتل کی وارداتوں کی تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کام کررہا ہے ۔ ان کا کہنا تھا دو بچیوں کو جلا کر مارنے کے مقدمہ کی تفتیش بھی اس سیل کے سپرد کی گئی ہے اور عنقریب اس کے ملزمان چاہے وہ کتنے ہی بااثر ہوں، قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید