آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ڈاکٹر نصرت جبیں

ایسوسی ایٹ پروفیسر ،مائیکرو بایولوجی ڈیپارٹمنٹ، یونیورسٹی آف کراچی

ہیپاٹائٹس جسے عرف عام میں یرقان بھی کہا جاتا ہے، دراصل جگر کی ایسی بیماری ہے جس میں جگر میں سوزش (Inflamation) ہوجاتی ہے جس کی و جہ سے جگر اپنا کام صحیح طور پرانجام نہیں دے پاتا۔ جگر انسانی جسم میں کئی اہم کام انجام دیتا ہے جس میں خوراک ہضم کرنا،ضرورت کے مطابق اس سے توانائی حاصل کرنا، وٹامن ذخیرہ کرنا، ضروری ہارمون بنانا اور جسم سے فاسد اور زہریلے مادے کا اخراج شامل ہے۔

یوں تو جگر میں سوزش/ہیپاٹائٹس کی کئی وجوہات ہوسکی ہیں،لیکن سب سے اہم وجہ کئی اقسام کے وائرسز ہیں جن کےانفیکشن کے نتیجے میں بھی ہیپاٹائٹس ہوسکتا ہے۔ اب تک پانچ قسم کے ایسے وائرسز دریافت کیے جاچکے ہیں جوہیپاٹائٹس کی وجہ بن سکتے ہیں۔ یہ ہیپاٹائٹس اے، بی، سی ، ڈی اورای وائرسز کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ان تمام کا تعلق وائرسز کے الگ الگ خاندانوں سے ہے۔

ہیپاٹائٹس اے وائرس(HAV)کاتعلق Picorna viridae ، ہیپاٹائٹس بی وائرس (HBV) کاتعلق Hepadua viridea، ہیپاٹائٹس سی وائرس(HCV) کاتعلق Flaviviridea، ہیپاٹائٹس ڈی وائرس(HDV) کا تعلق Delta viridae اور ہیپاٹائٹس ای وائرس(HEV) کا تعلق Calciviridae سےہے۔ جینیاتی طور پر ہیپاٹائٹس بی وائرس کے علاوہ باقی چاروں وائرسز کا جینوم (genome) ڈی این اے کے بجائےآر این اے پر مشتمل ہے۔ عام طور پر کسی بھی جان دار کا جینیاتی مادہ ڈی این اےپرمشتمل ہوتا ہے۔ چناں چہ یہ وائرسز اس لحاظ سے منفرد ہیں۔

ہیپاٹائٹس اے،ڈی اور ای عام طور پر متاثرہ پانی اور متاثرہ اشیائے خورونوش سے پھیلتا ہے۔ان وائرسز سے ہونے والے یرقان کی شدت ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مقابلے میں قدرے کم ہوتی ہے۔ HBV اور HCV بہ ذریعہ خون انسانی جسم میں پھیلتے ہیں جو عام طور سے متاثرہ سرنجوں ور دیگر طبی آلات کے استعمال، متاثرہ خون یا متاثرہ ماں سے بچے میں منتقل ہوتا ہے یہ دونوں وائرس Acute اور Chronic (دائمی) انفیکشن کرتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں اس وقت HBV اور HCV وائرسز سے متاثرہ افراد کی تعاد تقریبا 325 ملین ہے۔پاکستان میں تقریباً 5 ملین افراد ہیپاٹائٹس بی اور 10؍ ملین افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں۔ ہیپاٹائٹس کی یہ دونوں اقسام ہی جگر کے سرطان کا باعث بھی بن سکتی ہیں اور دونوں کاشمار جان لیوا بیماریوں میں ہوتا ہے۔

ہیپاٹائٹس بی وائر س

ہیپاٹائٹس بی وائر س کو 1965ء میں Dr. Baruch Blumberg نامی سائنس دان نے دریافت کیا جس پر انہیں دنیا کے سب سے بڑے اعزاز نوبل پرائز سے نوازا گیا۔ اس وائرس کا تعلق وائرس کی فیملی Hepadna viridae سے ہے یہ انسانوں میں بیماری پیدا کرنے والا سب سے چھوٹا وائرس ہے جس کا جینوم، ڈی این اے (circular-partial double stranded dua) پر مشتمل ہے۔ اس کے جینوم کا سائز صرف 3200bpکا ہوتا ہے۔

اس چھوٹے سے جینوم میں وائرسز کی چار اہم جینز ہوتی ہیں جن کے نام HBC, HBP, HBS اور HBX ہیں۔ یہ چار genus وائرس کی سات اہم پروٹین بناتی ہیں جو وائرس کے انسانی جسم میں داخل ہو کر اپنی نقل بنانے سے لے کر بیماری کے پھیلائو اور اس کی شدت سے لےکرجگر میں سرطان پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ایچ بی ایس وائرس کی جین جسےHBs Antigen (HBSAg بھی کہا جاتا ہے وائرس کا بیرونی خول یا سطحی پروٹین (Envelop protein) بناتی ہے ۔یہ پروٹین تین اہم اجزا میں تقسیم ہوتی ہے جو بالترتیب SHBs، MHBs، LHBs یعنی چھوٹی ،درمیانی اوربڑی سطحی پروٹین بناتی ہیں۔یہ پروٹین وائرس کوانسانی خلیے میں بہ ذریعہ Hepatocyte Cell mumbrane داخل ہونے میں مدد دیتی ہیں۔

اس پروٹین کا کردار HBV وائرس کے انفیکشن کی تشخیص میں انتہائی اہم ہے۔ انسانی خون میں HBs اینٹی جین کی خاص مقدار میں موجودگی مرض کی شدت جانچنے اور علاج میں بھی اہم کردارادا کرتی ہے۔اسی پروٹین کا استعمال HBVکی ویکسین تیارکرنےمیں بھی کیا جاتا ہے۔

ایچ بی سی

ایچ بی وی و ائرس کی جین ،سی وائرس کی cord proteinبناتی ہے جو دراصل وائرس کے envelop کی اندرونی تہہ ہوتی ہے۔ یہ جین بھی و ائرس کے لیے دو طرح کی پروٹین بناتی ہے۔ ایک پروٹین کا نام viral nucleocapsid ہے جواندرونی پروٹین کی وہ اہم تہہ ہے جو وائرس کے جینیاتی مادے کے گرد موجود ہوتی ہے اور اس کو HBcAg کہا جاتا ہے۔ دوسری پروٹین جسے HBCAgکہا جاتا ہےانسانی جسم میں بیماری پھیلنے میں مدد کرتی ہے اورجسم میں بیماری کی شدت کی جانچ میں بھی اہم کردارادا کرتی ہے۔

ایچ بی پی

ایچ بی پی وائرس کی جین ،پی وائرس کی سب سے بڑی پروٹین ہے جو 1800 امائنو ایسڈ پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ پروٹین دراصل تین ڈومین پر مشتمل ہوتی ہے۔ پہلا ڈومین Terminal protein domain کہلاتا ہے جووائرس کی Encapsidation کرتا ہے، یعنی اس کے جینوم کو ایک کیپسول میں بندکرتا ہے۔ساتھ ہی یہ پروٹین وائرس کے جینوم کی نقل بنانے کے اہم کام میں بھی شامل ہوتا ہے۔دوسرا ڈومین "RT" ، Reverse Transeripose Domain کہلاتا ہے۔یہ بھی وائرس کی نقل بنانے میں اہم کرداراداکرتاہے۔تیسرا ڈومین جو Ribononucleas H Domain کہلاتا ہے خلیے میں بننے والے وائرس کے Pregenomic آر این اے کو degrade کرتا ہے۔یہ پروٹین بھی وائرس کی نقل بنانے میں اہم کردارادا کرتا ہے۔

ایچ بی ایکس اس وائرس کی چوتھی جین ہےجسے geneX کہا جاتا ہے جوسب سے چھوٹی 154 Amino AG1 پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ ملٹی فنکشن پروٹین کہلاتی ہے جو وائرس کی نقل بنانے سے لے کر اس بیماری کو انسانی جسم میں پھیلانےتک میں اہم کردارادا کرتی ہے۔ یہ پروٹین انسانی جسم میں سادہ یرقان کو جگر کے سرطان میں تبدیل کردیتی ہے۔ اس جین کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ ایسی انوکھی جین ہے جواب تک کسی اور جان دار میں نہیں ملی ہے۔ یہی وجہ ہےکہ اسےجین ایکس کہا جاتاہے ۔ یہ جین سائنس دانوں کے لیے ایچ بی وی کی دوا کے لیے اچھا ہدف ہے۔

وائرس کی نقل تیار ہونایا Viral Replication

ایچ بی وی کا وائرس انسانی جگر کے خلیے سے منسلک Heparan sulfate proteoglycan receptor سے جڑ کر خلیے کے اندربہ ذریعہ Endocytosis یا Fusion کے داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد وائرس کا nucleocapsid انسانی خلیے کےسائٹو پلازم میں ریلیزہوجاتا ہےجس کے بعد وائرس کا جینوم انسانی خلیےکے نیوکلیئس میں داخل ہوتا ہے۔ نیو کلیئس میں وائرس کا جینوم داخل ہونے کے بعد اس کی نقل آر این اے کی صورت میں بناتا ہے اور پھر یہ آر این اے نیو کلیئس سے نکل کر خلیے کے اندرسائٹو پلازم میں آجاتا ہےجہاں وائرس اس آر این اے سے اپنی ضروری پروٹین بناتا ہے ۔

اس کے بعد وائرس کی کورپروٹین وائرس کے نقل شدہ ڈی این اےکےگرد خول چڑھاتا ہے اس کے بعد Envelope پروٹین (SML) مل کر وائرس کا بیرونی خول بناتی ہیں اور آخرکار نیا اورمکمل وائرس خلیےسے باہر نکل کرپڑوسی میزبان خلیات کومتاثر کرتاہے اور یوں بیماری انسانی جسم میں پھیلتی ہے۔

ایچ بی وی وائرس کی جینو ٹائپس

ایچ بی وی وائرس کی اپنی جینیاتی ساخت کے لحاظ سےآٹھ جینو ٹائپس (A to H) اورپچیس سے زاید ذیلی جینو ٹائپس میں درجہ بندی کی جاتی ہے۔ یہ درجہ بندی اس کے جینوم کی ساخت میں بالترتیب ساڑھے سات اور چار فی صد تبدیلی کی موجودگی کی وجہ سے کی جاتی ہے۔ایچ بی وی وائرس کو اس کی HBsAg کی ساخت میں تبدیلی کی وجہ سے نو مختلف سیرولوجیکل ٹائپس میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ وائرس کی ان مختلف جینوٹائپس اور سیروٹائپس کا کردار نہ صرف بیماری کی شدت کی جانچ ،بلکہ اس کے علاج اور وائرس کے مختلف جغرافیائی علاقوں میں موجودگی جاننے کے ضمن میں اہم ہے۔

ایچ بی وی کے انفیکشن کے خلاف کئی اینٹی وائرل ادویات استعمال کی جاتی ہیںجن میں interferon اور Nucleoside analog سرفہرست ہیں۔ ایچ بی وی کی ویکسین اور علاج موجودہونے کےباوجود ہیپاٹائٹس بی ایک مہلک وائرس ہے جوہرسال لاکھوں لوگوں میں نہ صرف سرطان پیدا کرتا ہے بلکہ جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔

ہیپا ٹائٹس سی وائرس (HCV)

اس وائرس کا تعلق فیملی FLAVIVIRIDAE سے ہے۔ یہ وائرس پہلی دفعہ 1989ء میں سائنس دانوں کے ایک گروپ جس میں "Dr.Michael Hougton, Harvey Alters, Charles Rice" شامل تھے،نے دریافت کیا جس پر 2020ء میں انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ یہ وائرس بہ نسبت ایچ بی وی کے بڑے سائز کا وائرس ہے جس کا سائز تقریباً 55-65 nano meter diameter ہے۔ یہ ایک Envelop وائرس ہے جس کا جینوم Positive Sense double stranded RNA پر مشتمل ہوتا ہے جو تقریبا 9600 Base Pair کی لمبائی کا ہوتا ہے۔

یہ ایچ بی وی کے مقابلے میں نہ صرف کئی گنا بڑا ہوتا ہے بلکہ اس کی ساخت بھی مختلف ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر ایچ سی وی وائرس کے جینوم میں صرف ایک ہی Open Reading Frame ہوتا ہے (وہ جگہ جہاں سے پروٹین بننے کا آغاز ہوتا ہے) جو صرف ایک ہی پروٹین بناتی ہے جسے پولی پروٹین کہا جاتا ہے۔لیکن ایچ بی وی وائرس میں چارORF موجود ہوتے ہیں جو اس کی سات پروٹین تیار کرتے ہیں۔ایچ سی وی کے جینوم میں موجود واحد ORF سے بننے والی پولی پروٹین وائرس کی تین ساختی اور سات غیر ساختی (Non Structural) پروٹین میں ٹوٹ جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ ایچ سی وی وائرس کے جینوم میں اس کے واحد ORF سے پہلے اور آخر میں دو Un-translated region بھی موجود ہوتا ہے ۔ یہ دونوں UTR بھی وائرس کے انسانی خلیے میں نقل تیار کرنے اور بیماری پھیلانے کی صلاحیت میں اہم کردارادا کرتے ہیں۔UTR وہ حصے ہوتے ہیں جو خود کوئی پروٹین نہیں بناتے بلکہ وائرس کی پولی پروٹین بننے کے عمل کا آغازکرواتے ہیں۔

ایچ سی وی کی جینز اے پروٹین

HCV کے جینوم میں کل دس جینوم ہوتے ہیں جو کہ ایک ORF کے ذریعہ ایک بڑی پولی پروٹین بناتے ہیں اور پھر یہ پولی پروٹین تین ساختی جن میں Core Protein اور دو Envelopپروٹین E1 اور E2 شامل ہیں Cleave (ٹکڑے) ہوتی ہیں۔یہ پروٹینز وائرس کی ساخت بنانے میں اہم کرداادا کرتی ہیں جبکہ سات غیر ساختی پروٹین جن میں پروٹین NS5A,NS4B, NS4A, NS3, NS2,P2 اور NS5B شامل ہیں و ائرس کی نقل تیار کرنےسے لے کر بیماری پھیلانے کی صلاحیت، بیماری کی شدت یہاں تک کہ سرطان پیدا کرنے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

کورپروٹین

وائرس کے جینوم کے باہر ایک حفاظتی تہہ NUCLOCAPSID بناتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ پروٹین انسانی خلیے کی کئی ایسی پروٹینز کےساتھ Interact کرتی ہے جو وائرس کے اپنے حیاتی چکر یا لائف سائیکل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مزید یہ کہ اس پروٹین کا کردار دوران بیماری مرض کو سرطان میں تبدیل کرنے میں بھی اہم ہے۔

ای ون اور ای ٹو پروٹین

ایچ سی وی کی دوسری دوساختی پروٹین E1 اور E2جو Envelop glycoprotein کے نام سے جانی جاتی ہیں دراصل وائرس کی بیرونی تہہ (Envelop) بنانے کی ذمے دار ہوتی ہیں۔ یہ پروٹین وائرس کے خلیے میں انفیکشن کرنے کےلیے سب سے پہلے سیل کےریسیپٹرجیسے کہ CD81، LDL-R وغیرہ کی پہچان کرتی ہے اور پھر ان ریسیپٹر سے جڑ کر وائرس کے خلیےمیںداخل ہونے میں مدد دیتی ہے۔

پروٹین پی سیون(NS1)

ایچ سی وی وائرس کی ایک غیر ساختی پروٹین ہے یہ پروٹین وائرس کی نقل تیار کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے اور وائرس کی ظاہری ساخت (Morphogenesis) کے بننے کے عمل میں بھی شامل ہوتی ہے۔

Protein NS2 کونیوکلئیر ایکسپورٹ پروٹین بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پروٹین انسانی خلیےکی کئی دیگر پروٹینز کے ساتھ بھی interactکرتی ہے۔ اس پروٹین میں Auto proteolytic activity (خود کار توڑ پھوڑ) ہوتی ہے جوخود NS2 اور NS3 کو پولی پروٹین سے توڑ کر الگ کرتی ہے۔ یہ پروٹین نہ صرف وائرس کی نقل تیارکرنے بلکہ نئے بننے والے وائرس particle کی assembly میں بھی اہم کردارادا کرتی ہے۔ پروٹین NS2 جگر میں موجود پرانے اور خراب خلیوںکی خود کار موت "Apoptosis" کا عمل روک کر اسے سرطان میں تبدیل کردیتی ہے ۔یہ پروٹین وائرس کو انسانی خلیے میں مسلسل زندہ رہنے (Survival) میں بھی مدد دیتی ہے۔

پروٹین این ایس تھری اور این ایس فور اے

Protein NS3 &NS4A

یہ ایچ سی وی وائرس کی ملٹی فنکشنل پروٹین ہیں جن کے پاس نہ صرف protcolytic (پروٹین کاٹنے کی صلاحیت) ہوتی ہے بلکہ ان میں helicase activity بھی ہوتی ہے جو دراصل وائرس کی نقل تیارکرنےمیں اہم کردارادا کرتی ہے۔ یہ پروٹین نہ صرف وائرس کے حیاتی چکر بلکہ انسانی جسم میں بیماری کے پھیلاو، یعنی مرض کی نشوونما میں بھی اہم کردا ادا کرتی ہے۔ یہ دو نوں پروٹین ہی ایچ سی وی کے علاج کےلیے اہم ہدف ہوسکتی ہیں۔

پروٹین این ایس فور بی

Protein NS4B

ایچ سی وی وائرس کی نقل تیارکرنے میں انتہائی اہم ہے۔یہ پروٹین اپنے میزبان خلیےکے Endoplasmic Reticulum کی جھلّی کی ساخت کو تبدیل کرکےایچ سی وی وائرس کی نقل تیاکرنے کےلیے پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے اور یوں وائرس کے حیاتی چکر میں انتہائی اہم کردارادا کرتی ہے۔ یہ پروٹین بھی اپنےمیزبان خلیےکی کئی پروٹینز کی synthesis کو روکتی ہے اور سیل کے مدافعتی ردعمل کو اجاگر کرتی ہے۔

پروٹین این ایس فائیو اےاور بی

Protein NS5A & NS5B

وائرس کی نقل تیار کرنے اور assembly میں اہم کردارادا کرتی ہے۔یہ پروٹین وائرس کو Interferon کے خلاف مزاحمت فراہم کرتی ہے جبکہ NS5B وائرس کا انتہائی اہم پروٹین اینزائم RNA poly meraseبناتی ہے جووائرس کےآر این اےجینوم کی نقل بنانے کاعمل مکمل کراتی ہے ۔یہ پروٹین بھی سائنس دانوں کےلیے ایچ سی وی کی دوا بنانے کےلیے اہم ہدف ثابت ہوسکتی ہے۔

وائرس کی نقل کی تیاری

VIRAL REPLICATION

ایچ سی وی وائرس انسانی خلیےمیںاپنی پروٹین E1 اور E2 کے ذریعے داخل ہوتا ہے ۔اس مقصد کے لیے وائرس کی یہ پروٹینزمیزبان خلیے کےکئی ریسیپٹرزجیسے کہ CD81، LDLR1 کے ساتھ جڑ کر اندر داخل ہوتی ہیںاور پھر وائرس کا necleocapsid اپنا آر این اے خلیےکے اندر سائٹو پلازم میں داخل کرتا ہے۔ اس کے بعد %UTR کی مدد سے وائرس اپنی واحد پولی پروٹین تیار کرتا ہے جو مزید تین ساختی اور سات غیر ساختی پروٹینز میں تقسیم ہوجاتی ہیں۔ اس کے بعد NS4B پروٹین کی مدد سے وائرس کا replication complex بنتا ہے اور پھر پروٹین NS3B کی مدد سے آر این اے پر منحصر RNA polymerase بناتا ہے۔یوں وائرس کے آر این اے کی نقل بننا شروع ہوتی ہے۔

جینوم کی مکمل نقل بننے کے بعد وائرس کی کور پروٹین وائرس کے جینوم کے گرد خول (Nucleocapsid) بناتی ہے اور پھر E1 اور E2 پروٹینز وائرس کا بیرونی خول (Envlop) تیار کرتی ہیں۔اس کے بعد وائرس خلیے سے باہر نکل کر قریبی خلیے کو متاثر کرتا ہے اور یوں بیماری جسم میں پھیلتی جاتی ہے، یہاں تک کہ سرطان جیسے موذی مرض میں مبتلا کردیتی ہے۔

ایچ سی وی وائرس کی جینو ٹائپس

Genotypes of HCV virus

ہیپاٹائٹس بی کی طرح ایچ سی وی کی بھی جینیاتی طور پر چھ اقسام ہیں (genotype 1-6) یہ مختلف اقسام کی genotypes دنیا کے مختلف ممالک میں پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پرجینو ٹائپس ون،ٹو اور تھری تقریباً پوری دنیا میں موجودہیں۔جینو ٹائپ فور مشرقِ وسطی،جینو ٹائپ فائیوافریقا اور جینوٹائپ سکس جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں ہیپاٹائٹس سی کے پھیلنے کا ذریعہ ہیں۔

ایچ بی وی کی جینوٹائپس کی طرح ایچ سی وی کی جینو ٹائپس بھی کئی لحاظ سے طبی اہمیت کی حامل ہیں۔ ایچ سی وی کے مہلک ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ chronic HCV کا ہر پانچواں مریض جگر کے سرطان میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس وائرس کے خلاف سائنس دان ویکسین تیار کرنے کوشش کررہے ہیں، لیکن اب تک کوئی خاطرخواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا ہے اور چند اینٹی وائرل ادویات اور pegylated interferon ہی ایچ سی وی کے علاج کے لیے استعمال کی جارہی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ دیگر جان داروں کے مقابلے میں وائرسز سب سے زیادہ تیزی سے ارتقا پذیر ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں ہونے والی جینیاتی تبدیلی ان وائرسز کو زیادہ مہلک بھی بنا سکتی ہے۔ ڈی این اے وائرسز کے مقابلے میں آر این اے وائرسز زیادہ تیزی سےارتقا پذیر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان وائرسز کے خلاف نہ صرف انسان کا اپنا مدافعتی نظام بلکہ تیار کردہ دوائیں بھی اپنا اثر کھو دیتی یا کم کردیتی ہیں۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید