آپ آف لائن ہیں
اتوار22؍ رجب المرجب 1442ھ 7؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جنگ اور جیو کے مرکزی دفتر پر حملہ قابل مذمت، ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا جائے، مختلف رہنما

بریڈفورڈ /ویانا ( نمائندگان جنگ ) کراچی میں جنگ اور جیو کے دفتر پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ اور دفتر کے سٹاف کو ہراساں کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بریڈفورڈ کمیونٹی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا کہ احتجاج ہر ایک کا جمہوری حق ہے مگر اس کی آڑ میں پرتشدد رویے قابل قبول نہیں، امن وامان کو قائم رکھنا حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلز پارٹی برطانیہ کے رہنماؤں زاہد مغل ،آصف نسیم راٹھور ، قاری محمد عباس ، ساجد قریشی ، چوہدری کرامت ،چوہدری عبدالقیوم ، شاہ محمد کھوکھر ، سردار عبدالرحمٰن خان ، راجہ نجابت حسین ،راجہ غضنفر خالق، مسلم لیگ ن کے رہنما پروفیسر مصدق، ساجد پنوں ،جاوید قادر ،راجہ ادریس ،خواجہ محمد شفیق ،بشیر رٹوی کے علاوہ پاکستان پریس کلب یارکشائر کے ممبران نے کیا، ان کا مزید کہنا تھا احتجاج پُرامن اور اخلاق کے دائرے میں رہ کر کیا جانا چاہیے، جنگ اور جیو کے دفتر پر حملہ ایک بزدلانہ فعل ہے، حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے کہ

وہ امن وامان اور اداروں کی حفاظت کو یقینی بنائے اور قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے ۔آل پاکستان پریس کلب آسٹریا کے عہدیداران صدر اکرم باجوہ،جنرل سیکرٹری غلام حسین نقوی اور مسلم لیگ ن آسٹریا کے صدر چوہدری علی شرافت نے بھی جیو جنگ کراچی کے دفتر پر حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنگ جیو کراچی کے آفس پر حملہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ صدر اکرم باجوہ نے کہا کہ حکومت وقت آزادی صحافت کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔حکومت جنگ و جیو کے دفتر کی حفاظت کو یقینی بنائے ۔جنگ و جیو کے دفتر پر حملہ کےذمے دار افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے کیونکہ پاکستان میں اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا کے دفتر پر حملے موجودہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔جنرل سیکرٹری غلام حسین نقوی نے کہا کہ جیو اور جنگ کو سچ اور حق عوام تک پہنچانے کی سزا دی گئی ہے جو براہ راست صحافت اور میڈیا پر غنڈہ گردی ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن آسٹریا کے صدر چوہدری علی شرافت نے کہا کہ ہم صوبائی حکومت سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ صاف شفاف انکوائری کرائیں تاکہ اصل ملزمان کو بے نقاب کیا جاسکے۔

یورپ سے سے مزید