آپ آف لائن ہیں
جمعرات19؍ رجب المرجب 1442ھ4؍مارچ 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

امریکہ کے سابق صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی خصوصاً اسلامی دنیا کے حوالے سے ان کی منفی سوچ لاکھ بری سہی مگر افغانستان میں قیامِ امن کے لئے افغان طالبان کو پاکستان کی مدد سے مذاکرات کی میز پر لانا، دوحہ امن معاہدہ اور اس کے نتیجے میں بین الافغان مصالحتی بات چیت پر اتفاق رائے ایک اچھی پیش رفت تھی جس سے امید پیدا ہو چلی تھی کہ افغانستان میں چار عشروں سے جاری خانہ جنگی اور کشت وخون کا سلسلہ ختم ہو جائے گا مگر نئی امریکی انتظامیہ کے اس معاملے میں تحفظات کے باعث نہ صرف افغان امن عمل معطل ہو گیا ہے بلکہ متحارب فریق وہاں ایک بار پھر جدال و قتال کی راہ پر چل پڑے ہیں اور آئے روز کہیں نہ کہیں سے بم دھماکوں، دہشت گردی کی وارداتوں اور سرکاری فوج کے حملوں کی خبریں آرہی ہیں۔ اگرچہ ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی فوج نکالنے اور افغان مسئلے کے سیاسی حل کے لئے جو کچھ کیا وہ بھی محض صدارتی الیکشن جیتنے کے لئے تھا مگر یہ عمل نیک نیتی سے جاری رہتا اور دوحہ معاہدے پر عمل کیا جاتا تو اس کے مثبت نتائج متوقع تھے۔ معاہدے کے تحت امریکہ نے یکم مئی تک افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنا تھیں لیکن نئے صدر جوبائیڈن نے معاہدے کی اس شق پر نظر ثانی کا اعلان کردیا ہے گویا امریکہ فی الحال فوجیں نہیں نکالے گا جبکہ طالبان کا پہلا مطالبہ ہی غیرملکی

فوجیں نکالنے کا ہے۔ ایک طے شدہ معاملے سے امریکہ کے انحراف کے باعث افغان امن کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا عمل رک گیا ہے۔ یہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ اس پر قابو پانے کے لئے روس کے میدان عمل میں آنے کی اطلاعات منظر عام پر آئی ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق روسی صدر پیوٹن کے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف کا دورہ اسلام آباد اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ بتایا گیا ہے کہ روس نے افغان مسئلہ پر اس ماہ کے آخر میں ماسکو میں علاقائی ممالک کا اجلاس بلالیا ہے جس میں شرکت کیلئے پاکستان نے اس کی دعوت قبول کرلی ہے۔ روس افغانستان میں تمام افغان گروپوں پر مشتمل حکومت چاہتا ہے اور اس سلسلے میں خطے کے ممالک میں وسیع تر اتفاق رائے سے ایک مشترکہ میکنزم کی تشکیل کا خواہش مند ہے۔ یہ ایک اچھی کوشش ہے اجلاس میں شرکت کے لئے روس نے امریکہ اور کابل حکومت کو بھی دعوت دی ہے لیکن سفارتی مبصرین کے مطابق ان کے شریک ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر روس کی یہ کوشش بھی ناکام ہو گئی تو افغان مسئلے کا سیاسی حل مزید تاخیر کا شکار ہو جائے گا جس سے پاکستان کا متاثر ہونا فطری امر ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ افغانستان اور پاکستان کا امن ایک دوسرے سے مشروط ہے۔ ماضی میں افغانستان میں ہونے والی بیرونی مداخلت اور بدامنی سے پاکستان میں بھی امن وامان کو شدید نقصان پہنچا جس کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں۔ افغانستان سے متعلق پاکستان کی پالیسی ہمیشہ مثبت رہی ہے۔ اس کا اعتراف کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ولی مسعود نے جیو ٹی وی کے پروگرام جرگہ میں اپنے انٹرویو میں بھی کیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے درمیان کوئی مسئلہ نہیں۔ اختلاف اگر ہے تو حکومتوں اور اداروں کے درمیان ہے۔ لاہور میں ہونے والے ایک ادبی فیسٹیول میں سابق سفارت کاروں نے درست نشاندہی کی ہے کہ افغان مسئلے کا حل صدر بائیڈن کی حکمت عملی پر منحصر ہے اور اسی سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی سمت کا تعین ہوگا۔ پاکستان افغانستان میں امریکی جنگ کا بلاوجہ شراکت دار بنا اور ہزاروں جانوں کا نقصان اُٹھایا۔ اس کے باوجود امریکہ ڈومور کی رٹ لگاتا رہا۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ صدر بائیڈن اپنے پیش رو کے برخلاف پاکستان اور افغان امن کے بارے میں مثبت پالیسی اپنائیں گے۔

تازہ ترین