آپ آف لائن ہیں
پیر23؍ رجب المرجب 1442ھ 8؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
خیال تازہ … شہزادعلی
برطانیہ میں ہر سو ایک ہی موضوع ہے جو شدت سے زیر بحث ہے، وہ ہے وزیراعظم بورس جانسن کا روڈ میپ جو کورونا وائرس کی وجہ سے اپنائے گئے لاک ڈاؤن سے باہر نکلنے کا حکومتی منصوبہ ہے جس کے باعث پژمردہ لوگوں کے چہروں پر گویا پھر رونق واپس لوٹ رہی ہے، لوگوں نے ابھی سے ہی سمر ہالیڈیز کی بکنگ شروع کر دی ہے خود وزیراعظم جو ہر طرح کے احتیاط کے دامن کو تھامے ہوئے تھے مگر انہوں نے بھی امیدوں کے موسموں کی نوید سنائی ہے البتہ ساتھ ہی احتیاطی تدابیر کے بدستور قائم رکھنے کی بھی ترغیب دی، خود کورونا کا شکار ہونے کے باوجود وزیراعظم جس طرح اپنے حوصلے برقرار رکھے ہوئے ہیں اور برطانوی قوم سے آئے روز مخاطب ہوتے چلے آ رہے ہیں، یہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا کھلا ثبوت ہے، انسانی تاریخ کے اس انتہائی مشکل ترین دور میں بھی وہ امید اور یقین کا صرف پیغام ہی نہیں دے رہے بلکہ عملی طور پر گھر کی دہلیز پر لوگوں کو ہر طرح کی سہولیات بہم پہنچانے کے لئے ہمہ وقت سرگرم عمل دکھائی دے رہے ہیں، ہماری طرف کی زبانی فلاحی ریاست بنانے کے دعووں کے بجائے عملاً اپنے شہریوں کو بینیفٹس دے رہے ہیں اور یہاں کی حزب اختلاف کی جماعتوں کا کردار بھی لائق تقلید ہے کہ وہ حکومت کے درست اقدامات کی بلاوجہ مخالفت کرنے کے ان کی حمایت کررہی ہیں اور

جہاں جہاں مزید اصلاح کی ضرورت محسوس کرتی ہیں ان کی نشاندہی کر دیتی ہیں، اسی طرح میڈیا بھی اپنے ذمہ دار ستون ہونے کا ثبوت دیتا ہے _ اور جہاں تک عوام الناس کا تعلق ہے یہاں پر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہ اعلان جو وزیراعظم کر رہا ہے وہ کس پارٹی سے تعلق رکھتا ہے، عوام بغیر کسی چوں چراں کے ان اعلانات کو فالو کرتی ہے البتہ اگر کوئی بھی اعلان وہ عام لوگوں یا زندگی کے کسی بھی شعبے کو ناجائز طور پر متاثر کرنے والا ہوتو پھر اس پر حکمران کا بلا تمیز محاسبہ شروع کر دیا جاتا ہے، بحرحال آج بات ہو رہی ہے بورس جانسن کے روڈ میپ کی جس کے مطابق چار مرحلے کے منصوبے کے ایک حصے کے طور پر انگلینڈ کی کورونا وائرس کی پابندیاں بالآخر 21 جون تک ختم کی جاسکتی ہیں،وزیر اعظم نے اراکین پارلیمنٹ کو بتایا کہ یہ طریقہ محتاط لیکن ناقابل واپسی ہے، بورس جانسن نے احتیاط سے ملک کو لاک ڈاؤن سے نکالنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ موسم بہار اپنی راہ پر گامزن ہے،Spring is on its way بورس جانسن نے لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو نرم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ موسم بہار اور موسم گرما امیدوں کے موسم بن جائیں ، پیر کی دوپہر کو برطانوی وزیر اعظم کا مختلف مراحل میں لاک ڈاؤن کی پابندیوں سے باہر نکلنے کا اعلان اور بعد ازاں شام کو ٹی وی پر خطاب قومی سطح پر سننے کے لئے لوگ ہمہ تن گوش تھے پیر کے روز کے ہی دی میٹرو لندن نے چار مراحل میں آزادی 4 Steps Freedom کی معنی خیز سرخی جمائی ہوئی تھی جب کہ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے نبٹنے سے متعلق لاک ڈاؤن چار مراحل میں ختم کیا جائے گا اور ساتھ ہی کہا ہے کہ چار مراحل میں پابندیوں کو ختم کرنے سے پہلے چار شرائط: ویکسین پروگرام، اموات میں کمی، بیماری کی شرح میں کمی اور نئے وائرس سے پیدا شدہ صورتحال کو مدنظر رکھنا شامل ہوگا_ گورنمنٹ باقاعدہ طور پر صورت حال مانیٹر کرتی رہے گی جب کہ ویلز، شمالی آئر لینڈ، اسکاٹ لینڈ اور کے متعلق مختلف سٹریٹجی اپنائی جائے گی _وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ 21 جون کے آس پاس انگلینڈ میں لاک ڈاؤن کو ختم کرلیا جائے گا لیکن انہوں نے زور دیا کہ پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کو ڈیٹا سے دیکھا جائے گا نہ کہ تاریخوں سے۔ وزیر اعظم کے خطاب کے اہم نکات درج ذیل تھے کہ 8 مارچ سے اسکول کھل جائیں گے البتہ بعض تعلیمی ادارے کرونا وائرس سے متعلق ٹیسٹ کے لئے تاخیر سے بھی کھل سکتے ہیں، 29 مارچ سے 2 گھروں سے متعلق 6 افراد گھروں سے باہر ملاقات کر سکیں گے، 12 اپریل سے غیر ضروری اشیاء کی دکانوں کو کھولا جا سکے گا جبکہ 17 مئی سے سینماز کھل سکیں گے، وزیر اعظم کے روڈ میپ پر اس متعلق منگل 23 فروری، دی ٹائمز لندن نے صفحہ اول پر لکھا ہے کہ کورونا سے پیدا پابندیوں کا اختتام اب زیادہ دور نہیں، بورس جانسن نے ڈیکلیئر کیا ہے کہ برطانیہ کورونا سے متعلق پابندیوں سے آزادی کے لئے ون وے روڈ پر ہے، "One way road to freedom" پیر کو انہوں نے اپنے پلانز کا اعلان کیا ہے جس کے مطابق سوسائٹی اور بہت سی معاشی سرگرمیوں کو مئی میں دوبارہ کھولا جا سکے گا، انہوں نے ایک بلیو پرنٹ شائع کیا ہے جس میں سماجی دوری کے فاصلوں کے اختتام اور کاروبار زندگی دوبارہ کھولنے کے متعلق تفصیلات ہیں، انگلینڈ میں اگلے ماہ کے شروع سے لے کر جون کے وسط تک اکنامی کے سیکٹرز کو چار مراحل میں کافی احتیاط سے کھولا جائے گا اور پھر واپسی نہیں ہوگی، ویکسینیشن کا شکریہ، آگے روشنی نظر آرہی ہے موسم بہار اور موسم گرما امید کے موسم دکھائی دے رہے ہیں_ بورس جانسن نے ڈائوننگ اسٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ آج یہ اختتام نہیں لیکن یہ زیادہ تر ایک روڈ میپ ہے جو ہمیں آخر تک لے جاتا ہے اور جو صرف ون وے رستہ ہے، انہوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ لوگوں کو کورونا وائرس کے ساتھ زندہ رہنا ہوگا، انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ کوئی بھی ویکسین سو فیصد موثر نہیں قبل ازیں کامنز کو بتایا کہ زیرو کووڈ برطانیہ یا زیرو کووڈ ورلڈ کے لئے کوئی کریڈ ایبل روٹ موجود نہیں ۔ دی ٹائمز کا کہنا ہے کہ ماضی میں زیادہ پُر امید ہونے کی وجہ سے بورس جانسن پر تنقید کی گئی تھی جس باعث پابندیوں کو کم کرنے کے بارے میں اس بار وہ "محتاط"ہیں_ دی ٹائمز نے یہ رپورٹ بھی شائع کی ہے کہ لوگوں سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ کسی بڑے ایونٹ میں شرکت کیلئے اور کام پر جانے کے لئے ویکسین پاسپورٹ دکھائیں_ دی گارڈین، جس نے دو روز قبل لکھا تھا کہ بورس جانسن لاک ڈاؤن ایگزٹ پلان میں اسکولز اور سوشل کنٹیکٹ کو پہلے رکھیں گے اس نے اب اس کنفرمیشن کو شائع کیا ہے کہ پہلے مرحلے میں 8 مارچ سے تمام طلباء اسکول واپس آئیں گے، اسی طرح لوگ کسی ایک فرد سے کافی یا پکنک پر باہر مل سکتے ہیں، یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ وزیراعظم کے پرپوزڈ پلان میں چار سٹیجز ہیں اور ہر سٹیج کے درمیان کم از کم پانچ ہفتے کا وقفہ ہے، چار ہفتے ڈیٹا جمع کرنے اور اس کا مشاہدہ کرنے کے لیے رکھے گئے ہیں اور پھر ایک ہفتہ لوگوں اور کاروباری افراد کے لئے اگلے سٹیپ کے لئے تیار ہونے کے لئے دیا گیا ہے _ یہ تماام مراحل انگلینڈ بھر کی سطح پر ہوں گے ریجنل ٹئیرز کی طرف واپسی نہیں ہوگی، مقامی سطح کا استثنیٰ صرف اس وقت ہوگا کہ جب کسی وائرس کی نئی قسم کا سراغ ملے، جس وجہ سے اضافی ٹیسٹنگ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔کامنز سکروٹنی اور ووٹ، بہت سے رولز کے لئے حکومت 8 مارچ سے پہلے ایک قانونی انسٹرومنٹ اپنائے گی جو کہ قانون سازی کی ایک شکل ہے اور ایسٹر تعطیلات سے پہلے ان پر بحث کی جائے گی اور ووٹنگ ہوگی_ اس کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے روڈ میپ کے ایک حصے کے طور پر اس خیال پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے _ ڈیلی مرر اس روڈ میپ کو سورج کی روشنی کی کرن کہتا ہے _ ہم بھی دعا گو ہیں کہ آنے والا وقت کورونا وائرس سے نجات کا وقت ثابت ہو، معمولات زندگی پھر سے رواں دواں ہو سکیں اور معاشی، سماجی، سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں کا نئے سرے سے خوشگوار طور پر اجرا ہو سکے۔

یورپ سے سے مزید