آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

صدر مملکت کی جانب سے دائر کئے گئے ریفرنس پر کہ سینیٹ کا الیکشن خفیہ رائے دہی سے ہو یا اوپن بیلٹ کے ذریعے، سپریم کورٹ کی رائے پر مبنی 5رکنی لارجر بنچ کے اکثریتی فیصلے کا حکومت اور اپوزیشن دونوں نے کھلے دل سے خیر مقدم کیا ہے اور اسے اپنی اپنی فتح قرار دیا ہے۔ اپوزیشن اس لئے خوش ہے کہ عدالتِ عظمیٰ نے حکومت کی جانب سے اوپن بیلٹ کے حق میں فیصلہ لینے کی خواہش کو رد کرتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق سیکرٹ بیلٹ کے حق میں رائے دی ہے اور حکومت اس لئے اسے اپنی کامیابی سمجھتی ہے کہ عدالت نے کرپٹ پریکٹسز سے پاک ایماندارانہ اور صاف و شفاف الیکشن کے انعقاد کو الیکشن کمیشن کی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ ووٹ کی رازداری مطلق یا قطعی نہیں ہوتی، نہ اس پر آئیڈیل حوالے سے عمل کیا جا سکتا ہے اس لئے الیکشن کمیشن انتخابات کی شفافیت یقینی بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت تمام تر دستیاب اقدامات کر سکتا ہے۔ حکومتی حلقوں میں اس سے یہ مراد لی گئی ہے کہ کمیشن بیلٹ کو قابلِ شناخت بنانے کیلئے کوئی بھی طریقہ استعمال کر سکتا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر ووٹ ڈالنے والے کی نشاندہی ہو سکے۔ اوپن بیلٹ کے مطالبے سے حکومت کی منشا بھی یہی تھی۔ اس لئے وفاقی وزراء کا کہنا ہے کہ عدالت نے مکمل خفیہ رائے دہی کا اصول نہیں مانا جبکہ اپوزیشن کے خیال میں فیصلے میں سیکرٹ بیلٹ کو برقرار رکھا گیا ہے جو قانون اور انصاف کی فتح ہے۔ سپریم کورٹ کی رائے آنے کے بعد وہ صدارتی آرڈی ننس خودبخود ختم ہو گیا ہے جس میں اوپن بیلٹ کاطریقہ نافذ کیا جانا تھا۔ عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ آنے کے بعد الیکشن کمیشن کا فوری اجلاس بلا لیا گیا جس میں عدالتی رائے اور احکامات پر مکمل عملدرآمد کیلئے سہ رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ تاہم کل ہونے والے سینیٹ انتخابات میں وقت کی کمی کے باعث پرانا طریقہ ہی اختیار کیا جائے گا یعنی ووٹ کی شناخت کا کوئی طریقہ رائج نہیں کیا جائے گا۔ سیکرٹ یا اوپن بیلٹ کی بحث اس لئے شروع ہوئی کہ ماضی میں سینیٹ کے انتخابات میں ہمیشہ پیسے کے استعمال کے الزامات سامنے آتے رہے۔ اس مرتبہ بھی یہی روش قائم رہی۔ خود وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں ایک ووٹ کا ریٹ 70کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے۔ سینیٹ کا ٹکٹ لینے کیلئے بھی امیدواروں پر کروڑوں روپے لگانے کے الزامات لگتے رہے۔ کراچی میں ایک امیدوار پر الزام لگا کہ اس نے 35کروڑ روپے میں ٹکٹ خریدا ہے۔ ملک میں کرپشن کی یہ لعنت زندگی کے کئی شعبوں میں دکھائی دیتی ہے جس سے سینیٹ کا باوقار ادارہ بھی مستثنیٰ نہیں رہا۔ وزیراعظم عمران خان نے کرپشن کے خلاف جو مہم چلائی اس کے تناظر میں سینیٹ الیکشن کو صاف و شفاف بنانا بھی ان کی خواہش ہے اور درحقیقت یہ تمام سیاسی پارٹیوں کے ایجنڈےکا حصہ بھی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مل کر یہ معاملہ باہمی افہام و تفہیم سے حل کرتی مگر ایسا نہ ہوا اور سیکرٹ یا اوپن بیلٹ کانیا تنازع کھڑاکر کے ملک میں پہلے سے موجود سیاسی تلخیوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ آئینی ترامیم پارلیمنٹ کا کام ہےاور انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے اختیارات کو کوئی کم نہیں کر سکتا۔ اس کی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں وفاقی و صوبائی حکام اور ادارے اس کی معاونت کے پابند ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہےکہ پارلیمنٹ میں انتخابی اصلاحات غور کیلئے لائی جائیں اور متنازع امور کا فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے۔ ایسے معاملات عدالتوں میں لا کر ان پر غیرضروری بوجھ نہ ڈالا جائے۔ انتخابی شکایات اور بدعنوانیوں کا خاتمہ بھی الیکشن کمیشن پر چھوڑ دیا جائے۔

تازہ ترین