آپ آف لائن ہیں
منگل7؍رمضان المبارک 1442ھ 20؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نوع انسانی کو اپنے ارتقائی مراحل میں بے شمار بیماریوں، سیلابوں، زلزلوں سمیت کئی قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑا۔ اِن میں سے زیادہ تر آفات چند دنوں یا زیادہ سے زیادہ چند ماہ میں ختم ہو گئیںلیکن کورونا وائرس ایک ایسی آفت بن کردنیا پر نازل ہوا ہے کہ ایک سال سے زائد عرصہ گزر جانے اور اِس کی کئی ویکسینز مارکیٹ میں آنے کے باوجود یہ وبا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی بلکہ اِس کی نئی سے نئی شکل سامنے آ رہی ہے جو زیادہ تیزی سے پھیلنے کے ساتھ ساتھ زیادہ مہلک بھی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ سات ہفتے کے بعد پہلی مرتبہ کورونا وائرس کے یومیہ تشخیص شدہ کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق اب تک دنیا بھر میں کووِڈ 19کے 11کروڑ 40لاکھ سے زیادہ کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے۔ اِن میں سے6کروڑ 45لاکھ مریض صحت یاب اور 25لاکھ سے زیادہ وفات پا چکے ہیں جبکہ باقی اب بھی فعال ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کورونا سے متاثرہ مزید 36افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 1392نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعدملک بھر میں فعال کیسز کی تعداد 22098ہو گئی ہے۔ گزشتہ سال مارچ کے مہینے سے ملک بھر میںمکمل یا اسمارٹ لاک ڈائون کی صورتحال رہی ہے لیکن اِن تمام تر پابندیوں اور ویکسین لگنے کے بعد بھی کورونا وائرس کے یومیہ کیسوں میں اضافہ تشویشناک ہے۔ اب تو عالمی ادارۂ صحت نے بھی اِس کی تصدیق کر دی ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ کورونا ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ایسا نہ ہو کہ ہماری ذرا سی لا پرواہی ہمیں اِسی بیماری کا شکار بنا ڈالے۔حکومت کو بھی پھر سے اِس حوالے سے سخت اقدامات اُٹھانا ہوں گے۔

تازہ ترین