آپ آف لائن ہیں
جمعہ3؍رمضان المبارک 1442ھ 16؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یمن کو بدترین قحط کا سامنا ہے،رانا بشارت

لندن ( پ ر) اقوام متحدہ کی 46 ویں کانفرنس کے سائیڈ ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے رانا بشارت علی خان نے کہا کہ یمن کو کئی دہائیوں کے بعدبدترین قحط کا سامنا ہے۔ لاکھوں یمنی امداد کے وعدوں کو مکمل ہونے کے انتظار میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو رہے ہیں یمن کی 28 ملین آبادی میں سے دو تہائی افراد بھوک کا شکار ہیں ،یمن کے کروڑوں لوگوں کی زندگی کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عالمی دنیا اپنے وعدوں کو نبھاتے ہوئے امداد جاری کرے اگر یمن کے لوگوں کی طرف توجہ نہ دی گئی تو ایتھوپیا سے بڑا اور تاریخ کی سب سے بڑی قحط سالی یمن کی طرف آنے والی ہے، انسانی حقوق کے عالمی علمبردار رانا بشارت علی خان نے بتایا کہ امداد دینے والے ملکوں کی کانفرنس میں ایک ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن اقوامِ متحدہ کو بمشکل آدھی رقم وصول ہوئی ہے۔ فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے نکاسی آب، ہیلتھ کیئر اور خوراک کی فراہمی کے مراکز پہلے ہی بند ہو چکے ہیں اور مزید کمی ایک نئے انسانی بحران کو جنم دے رہی ہے۔ ملک میں ایندھن بھی ناپید ہو گیا ہے جس کی وجہ سے بجلی، پانی کی فراہمی اور ہسپتال جیسی اہم سہولتیں بند ہو رہی ہیں۔ جہازوں کو زندگی بچانے والی اشیا لانے نہیں دیا جا رہا ہے۔ رانا بشارت علی خاں کا کہنا ہے کہ یہ سارے حالات ایسے ہیں جو ملک کو قحط سالی کی طرف لے کر جا رہے ہیں۔
یورپ سے سے مزید