آپ آف لائن ہیں
اتوار5؍رمضان المبارک 1442ھ 18؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اس سال کے ابتدا سے ہی کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ یہ تبدیلیوں کا سال ہے۔سالِ رواں میں نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی بہت سی غیر متوقع تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ گزشتہ کالم میں سینیٹ کے انتخابات میں حکومت کو مشکلات پیش آنے کا ذکر کیا تھا۔ تھوڑے ردوبدل کے ساتھ تینوں صوبوں سے جہاں سینیٹ انتخابات کے لئے اراکینِ صوبائی اسمبلی نے ووٹ دیے وہی نتائج آئے جو متوقع تھے۔ لیکن جو نتیجہ اسلام آباد کی جنرل سیٹ کا برآمد ہوا اس کی توقع کسی کو نہیں تھی۔ سینیٹ کی انتخابی تاریخ میں یہ سب سے بڑا اپ سیٹ ہے۔ جس میں تمام تر دعوئوں، کوششوں اور امیدوں کے باوجود حکومتی امیدوار کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کے اثرات ملکی سیاست اور جمہوریت کا رُخ تبدیل کر دیں گے۔ اِس شکست سے بہت کچھ واضح ہو گیا ہے۔ ثابت ہو گیا کہ اسٹیبلشمنٹ قطعی غیر جانبدار ہے، جس کا ذکر عسکری ترجمان نے متعدد مواقع پر کیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ فوج کو سیاست میں گھسیٹنے سے گریز کیا جائے۔ حالیہ ضمنی انتخابات، سینیٹ کے انتخابی نتائج بالخصوص سب سے اہم اسلام آباد کی نشست کا نتیجہ۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاک فوج کے ترجمان نے جو کہا تھا وہ درست تھا اور درست ہے۔

اسلام آباد کی سینیٹ نشست پر شکست کے بعد حکومت کی طرف سے دو اہم اعلانات کئے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وزیر اعظم قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیںگے اگر وزیر اعظم ایسا کرتے ہیں تو یہ ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ لیکن اگر اخلاقی طور پر دیکھا جائے تو ایک طرح سے عدم اعتماد تو ہو گیا ہے اور اگر وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر بھی حکومت کرنے کا وہ مزہ نہیں رہے گا جو ہونا چاہئے۔ اس سے اہم بات یہ ہے کہ پھر بھی شاید حکومتی مشکلات کم نہ ہوں بلکہ ان میں مزید اضافہ ہو جائے۔بہرحال یہ وزیر اعظم کی صوابدید اور ان کا آئینی حق ہے۔ دوسرا اہم اعلان ساتھ ہی یہ کیا گیا ہے کہ حکومت اسلام آباد کی مذکورہ نشست کے نتیجے کو چیلنج کرے گی اور سید یوسف رضا گیلانی کی نا اہلی کے لئے الیکشن کمیشن سے رجوع کرے گی۔ حکومتی وزراء اور مشیران یہ کہتے رہے ہیں کہ اپوزیشن جہاں جیت جائے اس کو سراہتی اور قبول کرتی ہے اور جہاں ہار جائے اس کو دھاندلی کہتی ہے۔ تو اب وہی کچھ حکومت خود کرنے جا رہی ہے۔ ڈسکہ کے ضمنی الیکشن کے بارے میں بھی یہی کیا گیا۔

دراصل بعض لوگ دانستہ یا نادانستہ طور پر وزیر اعظم پاکستان کے لئے مشکلات پیدا کرتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ بار بار کی اس مشق کے باوجود وزیر اعظم ان ہی لوگوں کے مشوروں پر چلتے ہیں۔ عبدالحفیظ شیخ کو اسلام آباد سے سینیٹ کے انتخاب کے لئے نامزد کرنے کا مشورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ وزیر اعظم خان کو ان نادان دوستوں، نادان دشمنوں کو تلاش کرنا چاہئے۔ یہ بھی ایک سوال ہے کہ جن 16 لوگوں نے حفیظ شیخ کو ووٹ نہیں دیئے وہ لوگ کون ہیں اور کیوں ووٹ نہیں دیے؟ اسلام آباد کی نشست پر یوسف رضا گیلانی کی کامیابی پر ’’چمک‘‘ کا الزام لگانے سے پہلے یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ کے پی میں اکثریتی ٹکٹ کن لوگوں کو دیے گئے تھے؟ کیا وہ ارب پتی نہیں ہیں اور وہاں شدید تحفظات کے باوجود وہی لوگ کیسے کامیاب ہوئے۔ کچھ ایسا ہی بلوچستان کی بعض نشستوں پر بھی ہوا لیکن نظر صرف اسلام آباد کی نشست ہی آ رہی ہے۔ حالانکہ غور تو ان اسباب و عوامل پر کرنا چاہئے جن کی وجہ سے حکومتی امیدوار ہار گئے۔ اس نشست پر ہار تسلیم نہ کرنا اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن یا عدالتوں سے رجوع کرنا حکومت کا آئینی حق ہے لیکن یہ بھی سوچنا ضروری ہے کہ اب ایسے حکومتی اقدامات سے سیاسی بے چینی اور افراتفری میں مزید اضافہ ہو گا اور نہ صرف حکومت بلکہ تحریک انصاف کیلئے بھی مشکلات میں شدت آ سکتی ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اب یہ بھی اعلان کیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ کے لئے پی ڈی ایم کے امیدوار ہونگے۔ ادھر سینیٹ میں پوزیشن اب یہ ہو گئی ہے کہ حکومتی ممبران کی تعداد 47 جبکہ اپوزیشن ممبران کی تعداد 53ہو گئی ہے، اگر یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ کے لئے اپوزیشن کے امیدوار بنتے ہیں تو اس کا واضح امکان ہے کہ وہ یہ انتخاب بھی جیت جائیں گے۔ سینیٹ میں اپوزیشن ممبران کی تعداد اور یوسف رضا گیلانی کے چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کے بعد حکومت کی پوزیشن مزید کمزور ہو جائے گی اور حالات وزیراعظم عمران خان کی توقعات کے برعکس ہوں گے جس کا انہوں نے ابھی تین چار دن قبل اظہار کیا تھا کہ سینیٹ انتخابات کے بعد وہ ’’جم‘‘ کر حکومت کریں گے، وزیر اعظم اگر اعتماد کا ووٹ لے کر حکومت کرتے ہیں تو اس میں کوئی عجیب بات نہیں ہے لیکن آنے والے دنوں میں ان کی مرضی اور دعوؤں کے برعکس کچھ اور تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین