آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ رمضان المبارک 1442ھ22؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میچلے باچلیٹ کابیان بھارت کے خلاف چارج شیٹ ہے، علی رضا سید

برسلز (حافظ انیب راشد) چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضا سید نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مس میچلے باچلیٹ کے حالیہ بیان کو سراہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے اپنے ایک حالیہ بیان میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی گھمبیر صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے 46ویں سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا باقاعدگی سے جائزہ لے رہے ہیں جہاں مواصلاتی رابطوں پر پابندی اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کے خلاف کارروائیاں ہمارے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ کشمیرکونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے کہاکہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر نے درست طور پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے مسئلے کو اٹھایا ہے۔ اقوام متحدہ کی اس اعلیٰ عہدیدار نے صحیح کہا ہے کہ مواصلاتی رابطوں پر پابندی نے سول سوسائٹی کی سرگرمیوں، زندگی کے دیگر امور، کاروبار، تعلیم اور صحت کی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ علی رضا سید نے کہا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارتی حکام نے ان صحافیوں کے خلاف بھی کارروائی کی ہے جو مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر اظہار رائے پر بھی پابندیاں عائد ہیں۔ علی رضا سید نے مزید کہاکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث ہے اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پانچ اگست 2019کے بعد بدتر ہوگئی ہے بھارت کی کوشش ہے کہ دنیا کو مقبوضہ کشمیر صورتحال نارمل دکھائی دے جب کہ اصل حقائق یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نو لاکھ بھارتی سیکورٹی فورسز تعینات ہیں جنہیں بے گناہ کشمیریوں کی نسل کشی، ماورائے عدالت قتل عام اور انسانیت کے خلاف دیگر جرائم کی کھلی اجازت ہے علی رضا سید نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لے اور وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکوانے کے لیے اقدامات کرے۔ انہوں نے حالیہ دنوں پاکستان اور بھارت کے عسکری حکام کے مابین جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق رائے کا بھی خیرمقدم کیا۔
یورپ سے سے مزید