آپ آف لائن ہیں
بدھ یکم رمضان المبارک 1442ھ14؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ریاست میں جمہوریت اور سیاست کے درمیان ایک عجیب سی کشمکش نظر آ رہی ہے۔ یہ معاملہ صرف ہمارے ہاں ہی نہیں ، بھارت میں بھی ایسی ہی کیفیت ہے۔ حتیٰ کہ امریکہ میں بھی سابق صدر ٹرمپ الزام لگاتے رہے کہ حالیہ انتخابات میں ان کے ووٹ کو چوری کیا گیا۔ اب ووٹ کی چوری کو ثابت کیسے کیا جاسکتا ہے؟ ہمارے ہاں مسلم لیگ نواز اور مولانا فضل الرحمٰن کا بھی ایسا ہی بیانیہ ہے۔ دوسری طرف امریکہ میں سابق صدر کے خلاف کارروائی کا سلسلہ موقوف کر دیا گیا ہے۔ ڈیموکریٹ اب اس با ت کا اندازہ لگا رہے ہیں کہ ٹرمپ کے چار سالہ دور اقتدار میں امریکی معیشت کا کتنا نقصان ہوا۔ اصلی نقصان تو یہ ہے کہ دنیا بھر میں امریکی مفادات نظر انداز کرکے ٹرمپ نے جمہوریت کا نیا انداز اپنایا تھا جس کا مقصد تھاسفید فام اکثریت کے مفادات کا تحفظ اور امریکی قوت کو علاقائی طور پر مضبوط اور منفرد بنانا۔ اس معاملہ میں اس نے میکسیکو اور کینیڈا سے کوئی بھی مشاورت نہیں کی اور سب سے زیادہ تارکین وطن کو نظر انداز کیا۔ امریکی افواج کچھ عرصہ تک تو ٹرمپ کے ساتھ تھیں مگر عالمی مفادات میں اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے ٹرمپ سے دوری اختیار کرلی تھی۔

بھارت میں جمہوریت کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ انوکھا تو نہیں۔ ان کے ہاں بھی ہندو دھرم کے احیا کے لئے مودی کی جماعت کمربستہ ہے۔ مگر اس طرزِ سیاست نے بھارت کو کمزور کردیا ہے۔ اس میں روس کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی کا فقدا ن ہے البتہ امریکہ کے ساتھ بھارت کے تعلقات ایک نیا رُخ اختیار کرتے جا رہے ہیں ۔ ایشیا میں بھارت امریکی مفادات کا نگران ہے۔ بھارت میں امریکہ کی سرمایہ کاری ایک نئے انداز سے ہو رہی ہے۔ امریکہ نے خطہ پر نظر رکھنے کے لئے بھارت کی افواج کو جدید طرز کی ایسی ٹیکنالوجی فراہم کرنا شروع کر دی ہے جس سے وہ خطہ میں اپنے ہر قسم کے مفادات پر نظر رکھ سکے۔ اسرائیل بھی بھارت کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ سے باہر ایک نیا اتحاد بنا رہا ہے جس میں سعودی عرب اور ایران شامل نہیں۔ یہ سب کچھ عالمی معاشی تبدیلیوں کے تناظر میں چین کے خلاف ایک خاموش منصوبہ بندی ہے۔ بھارت کو انداز ہ نہیں کہ اس کی موجودہ حیثیت کو عالمی تناظر میں دائو پر لگایا جا رہا ہے۔ پاکستان اس معاملہ میں ابھی تک امریکہ کے دبائو سے باہر نہیں نکل سکا۔

پاکستان میں جمہوریت کے امین سیاسی لوگ اصول پسندی کا پرچار تو بہت کرتے ہیں مگر کسی بھی قانون کو خاطر میں نہیں لاتے اور ہمارے وہ ادارے جو قانون کے مطابق انصاف کے ذمہ دار ہیں وہ ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو ریاست میں انصاف کے کردار کو مشکوک کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک سیاسی جماعت نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے آئین میں کچھ معاملات پر تشریح اور مشاورت مانگی مگر عدالت نے اپنا یہ کردار الیکشن کمیشن کو دے دیا۔ یاد رہے یہ وہ الیکشن کمیشن ہے جو گزشتہ انتخابات کے بعد سامنے آنے والے اعتراضات اور شکایات پر معقول توجہ نہیں دے سکا۔ اور اب بھی پاکستان میں انتخابی معاملات شفا ف نظر نہیں آتے۔ اس دفعہ سینیٹ کے الیکشن میں جس طریقہ سے رشوت اور پیسے کا استعمال ہوا ہے وہ مشکوک نہیں مگر کوئی قانون اور اصول واضح نہیں کہ ان لوگوں پر ہاتھ ڈالا جاسکے۔ یہ ہے جمہوریت کا اصل چہرہ جو قابل اصلاح بھی نہیں رہا۔

مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کے اہم دانشور ابن خلدون کا کہنا ہے کوئی بھی سرکار یا اقتدار دو بنیادوں پر قائم ہوتا ہے ایک طاقت اور گروہی شعور جس کا اظہار آج کی دنیا میں فوج کی صورت میں نظر آتا ہے‘ دوسری دولت جو عوام اور فوج کے لئے بہت ہی لازم ہے ۔ اس معاملہ میں ہماری تاریخ کا چہرہ روشن نہیں ہے۔ اس وقت پاکستان میں ترقی اور تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سیاست اور جمہوریت ہے ۔ سیاسی گروہ الیکشن کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ وزیر اعظم کی طرف سے اہم سیاسی پیش رفت یہ نظر آ رہی ہے کہ وہ قومی اسمبلی سے ایک دفعہ پھر اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے اپنی پارٹی کو اعتماد میں لینے کا عندیہ دے چکے ہیں اور اگر اعتماد کا ووٹ نہیں ملتا تو پھر مخلوط سرکار سے پاکستان کو چلایا جاسکتا ہے ‘ یہ معاملہ دوبارہ بڑی عدالت کے پاس جائے گا ۔ ایک دفعہ پھر جمہوریت اور سیاست کا مقدمہ لڑا جائے گا اور کسی نئے نظام کی نوید کا اشارہ بھی دیا جاسکتا ہے۔

اس وقت علاقائی صورت حال میں ملک کے لئے نئے نظام کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کے اہم حلیف اس وقت چین اور ترکی ہیں۔ وہ بھی پاکستان کے سیاسی نظام سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ امریکہ کو بھی تشویش ہے کہ پاکستان افغانستان کے معاملات میں اس کا ہم خیال نہیں ہے اور افغانستان میں کسی نئی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اور ہو سکتا ہے اب کی بار افغانستان میں امریکہ کا مقابلہ کسی اور طاقت سے ہو۔ وہ ہر طرح سے چین کو روکنے کے لئے پاکستان کی مدد چاہتا ہے۔ ہماری جمہوریت اس معاملہ میں امریکہ کی مدد کرتی نظر آرہی ہے۔ اور اسی وجہ سے سینیٹ کے انتخابات میں سیاسی چپقلش میں اضافہ نظر آیا اور یہ سیاسی گروہ عمران خان کی سرکار ختم کرنے کے بعد پھر دوبارہ ایک دوسرے کے مقابل نظر آئیں گے ۔ایسے میں آئی ایم ایف کے لوگ پاکستان پر پابندیوں کی قانون سازی کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے لوگوں کو کرپشن اور بدانتظامی کا اندازہ نہیں ہوسکا۔ کرپشن اور بدانتظامی ہی جمہوریت کو مقبول بنا رہی ہے اور ایسے میں عمران خان کی سرکار نے کچھ ایسے اقدامات ضرور کئے ہیں جو آنے والے دنوں میں عوام کے لئے اچھے فیصلے کرنے میں سرکار کی مدد کر سکیں ۔ لگتا یوں ہے کہ عمران خان کو اس وقت کرکٹ کی زبان میں فالو آن کا سامنا ہے۔ مگر چند دن پہلے خاتون اول نے لاہور کی یاترا کی تھی اور خاص طور پر حضرت داتاگنج بخش کے مزار پر حاضری دی تھی اور اس وجہ سے عمران خان کو کچھ وقت مل جائے۔ مگربین الاقوامی سیاست میں عمران خان امریکہ کے لئے قابل قبول نہیں ہے اور چناں چہ وہ کسی ایسے شخص کی تلاش میںہے جو ملک کے معاملات کے بارے میں امریکہ اور برطانیہ کے لئے بھی قابل قبول ہو اور ہمارے سابقہ حکمرانوں کے لئے آسانی فراہم کرسکے۔ سابق صدر آصف زرداری نے سینیٹ کے انتخاب میں خوب رول ادا کیا ہے مگر اب تفتیش ہوئی تو ان کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یوسف گیلانی کو برادران یوسف کا سامنا ہے۔ وہ اک مشکل میں ہیں۔ آنے والے دن ریاست کے لئے کافی کٹھن نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان کو چین کے ساتھ چلنا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ چینی کج طرح کے صبر اور عمل کے لئے تیاری پکڑے۔

میں پوچھتا ہوں مدعی عدل کچھ تو بول

تازہ ترین