آپ آف لائن ہیں
اتوار5؍رمضان المبارک 1442ھ 18؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

انواراحمد زئی شاندار انسان، سماج میں ان کا اہم کردار رہا، مقررین

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کہا ہےکہ شخصیت اور تخلیق کارانہ صلاحیت کی حیثیت سے جو کام انوار احمد زئی مرحوم نے کیا، تاریخ میں ان کا نام رقم کیا جائے گا، مثبت پہلو ان کی زندگی کا مشن تھا جب کبھی علمی گفتگو، مباحثہ ہوگا تو اس میں بھی استعدلال ،انداز، طریقہ سب ایسا تھا کہ جس سے روایت کو آگے بڑھایا جاسکے، ”بادل جزیرے“ پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی ادبی کمیٹی (شعروسخن) کے زیر اہتمام پروفیسر انوار احمد زئی کے خاکوں کا مجموعہ ”بادل جزیرے“ کی تقریب رونمائی میں اپنے صدارتی خطاب میں کیا ، نظامت کے فرائض شکیل خان نے انجام دیئے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ انوار احمد زئی شاندار انسان تھے، ان کا اس سماج میں اہم کردار رہا ہے، انہوں نے بہت پودے لگائے جو تناور درخت بنے ، وہ لوگوں سے بے لوث محبت کرتے تھے ہمیشہ انہیں ترقی کی جانب گامزن کیا، ان کا یوں اچانک دنیاسے رخصت ہوجانا دُکھ کی بات ہے، مہتاب اکبر راشدی نے کہاکہ جب میں نے کتاب پڑھی تو میرے کانوں میں انوار احمد زئی کی آواز آتی رہی، مجھے ایسا لگتا تھا کہ وہ میرے ساتھ بول رہے ہیں، انہوں نے کہاکہ حیدرآباد والے سب کراچی آگئے اور کراچی کو سنوارنا شروع کیا، حیدرآباد کا تعلق ہمیں جوڑ کر رکھتا ہے،”بادل جزیرے“ میں ساری محبتیں سمودی ہیں، محمود شام نے کہاکہ میں انوار احمد زئی کا شکریہ ادا کرتا ہوں گوکہ وہ اس دنیا میں موجود نہیں مگر ان کا ذکر اور کتاب کی بدولت آج اتنے بڑے لوگوں کی باتیں سننے کا موقع ملا، انہوں نے کہاکہ ان کے چاہنے والے حیدرآباد میں ہی نہیں بلکہ کراچی میں بھی ہیں، آج ہم ایک صاحب ِحرف کو ایسے بانجھ موسم میں یاد کررہے ہیں جب لفظ کی حرمت باقی نہیں رہی، ہمیں مسرور احمد زئی کا ممنون ہونا چاہیے کہ بادل جزیرے کی اشاعت سے اُردو ادب کی خاکہ نگاری کے شعبے میں ایک انتہائی اہم تصنیف کا اضافہ ہورہا ہے،انوار احمد زئی کے صاحبزادے عزیز احمد زئی نے کہاکہ آج میں خود کو ایک قدآور شخصیت کے کندھوں پر کھڑا محسوس کررہا ہوں، ڈاکٹر مسرور احمد زئی نے کتاب کو ترتیب دیا وہ قابلِ تعریف ہے،میں تمام شرکاءکا بھی تہہ دل سے مشکور ہوں ،آخر میں انوار احمد زئی کے لیے لکھی گئی نظم پڑھ کر سنائی۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید