آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍رمضان المبارک 1442ھ21؍ اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اعتماد کے ووٹ کا مطلب کمزور سیاسی کنٹرول بحال کرنا ہے، تجزیہ کار

کراچی (ٹی وی رپورٹ) معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ اعتماد کا ووٹ لینے کا مطلب یہ ہے کہ کمزور سیاسی کنٹرول کو بحال کیاجائے، شاہزیب خانزادہ نے کہا کہ صادق سنجرانی جیت جاتے ہیں تو اپوزیشن کس منہ سے شکایت کریگی ، شہزاد اقبال نے کہا کہ ن لیگ اور پی پی کو بھی خرید و فروخت کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

ارشاد بھٹی نے کہا کہ آج وزیراعظم نے اپنے 16؍ لوگوں کو این آر او دیدیا، اچھا ہوتا وزیراعظم اپوزیشن کی طرف ہاتھ بڑھاتے کہتے آئیے ملکر کام کریں، محمل سرفراز نے کہا کہ آپ اپنے کرپٹ لوگوں سے اعتماد کا ووٹ بھی لے رہے ہیں اور بقول آپکے آپ اخلاقیات کے عظیم درجے پر فائز ہیں آپکی اور اپوزیشن کی سیاست میں کیا فرق ہے۔ 

مظہر عباس نے کہا کہ آج کی تقریر سے لگتا ہے کہ وزیراعظم کا بیانیہ نہیں بدلا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں جیو نیوز پر اپنے تجزیئے کیا۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اوپن بیلٹ کی نسبت سکریٹ بیلٹ میں آپ ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہیں جبکہ اوپن بیلٹ میں آپ پر دباؤ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں اکثریت اپوزیشن کی ہے لیکن سینیٹ کے چیئرمین کیلئے صادق سنجرانی کو نامزد کیا گیا ہے اب یقینا یہی امید ہوگی انہیں کہ اپوزیشن کے لوگ ٹوٹ کر آئیں تو اس وقت اصول اور اخلاقیات کہاں جائیں گی۔ وزیراعظم عمران خان کوئی سبق سیکھنے کے بجائے یا اپنی پالیسی بدلنے کے بجائے انہوں نے اپنی پالیسوں کو درست اور اپوزیشن کی پالیسیوں کو غلط قرار دیا۔ 

بہتر ہوتا وہ آج یہ کہتے کہ آج سے میں سارے ملک اور اپوزیشن کو اکٹھے لے کر چلوں گا اور قانون سازی مل کر کرینگے۔ وزیراعظم نے صاف کہا ہے کہ ان لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا جس طرح تصادم کی فضا پہلے جاری تھی وہ جاری رہے گی۔اپوزیشن کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ انکو بھی پاکستانی لوگوں نے پارلیمنٹ میں بھیجا ہے۔ 

بینظیر شاہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت رہے یا نہ رہے ضروری ہے اس طرح کا کلچر ختم کیا جائے۔ ایسے اعتماد کے ووٹ کا کیا فائدہ کہ ان سب کو ایک خط بھیجا گیا جس میں وارننگ دی گئی کہ اگر نہیں آئے تو آپ کو ڈی سیٹ کر دیا جائے گا۔ اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ اچھا تھا لیکن جس طرح ووٹ لیا گیا ہے وہ افسوسناک ہے۔ 

شہزاد اقبال نے کہا کہ اُن سولہ لوگوں کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے جس میں چار پانچ لوگوں کے حوالے سے تو واضح شک ہے کہ کون تھے ان کیخلاف بھی ابھی کارروائی نہیں ہوئی اور نہ آگے ہوگی۔ 

خیبرپختونخوا میں جن بیس ایم پی ایز کو نکالا گیا تھا وہ کام یہاں نہیں ہوسکتا ایک تو وہاں پر ایک ماہ رہ گیا تھا اس کے بعد الیکشن تھے یہاں پر ابھی ڈھائی سال باقی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید