آپ آف لائن ہیں
جمعرات2؍ رمضان المبارک 1442ھ15؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پارلیمنٹ کا 70 فیصد بزنس خواتین چلارہی ہیں، تجزیہ کار


کراچی ( ٹی وی رپورٹ)سیکرٹری ویمن پارلیمنٹری کاکس منزہ حسن نے کہا کہ پارلیمنٹ ہو، سوشل میڈیا ہو یا سیاسی جلسے جلوس ہر جگہ گالم گلوچ کا کلچر ختم ہونا چاہئے، پارلیمنٹ کا 70فیصد بزنس خواتین چلارہی ہیں، خاتون اراکین پارلیمنٹ کبھی غیرمہذب زبان استعمال نہیں کرتیں، کوئی اپوزیشن رکن صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ چاہتا ہے تو ووٹ ڈالنے کے ساتھ ان کی کھل کر حمایت کرنی چاہئے۔وہ جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہی تھیں۔ پروگرام میں ن لیگ کی رہنما مہناز اکبر عزیز اور پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری بھی شامل تھیں۔مہناز اکبر عزیز نے کہا کہ مردوں کی نسبت عورتوں میں لوٹا گیری کا رجحان نہیں ہوتا، ووٹ خریدنے کے عمل میں بھی کوئی عورت نظر نہیں آتی،یہاں اوپن ووٹ بھی اوپن نہیں ہوتا اس میں بھی بہت دباؤ ڈالا جاتا ہے۔شازیہ مری نے کہا کہ پارلیمنٹ میں گالم گلوچ نہیں ہونا چاہئے ، مرد زیادہ بگڑے ہوتے ہیں اسی لیے ان میں لوٹا گیری کا رجحان بھی زیادہ ہوتا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سیکرٹ بیلٹ یا اوپن بیلٹ کی بحث ختم ہوجانی چاہئے، کوئی عورت بھی چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بننی چاہئے۔سیکرٹری ویمن پارلیمنٹری کاکس منزہ حسن نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ ہو، سوشل میڈیا ہو یا سیاسی جلسے جلوس ہوں ہر جگہ گالم گلوچ کا کلچر ختم ہونا چاہئے، سیاسی لیڈرز اور پارلیمنٹرینز کو نہ صرف عورتوں بلکہ کسی کیلئے بھی غیرمہذب زبان استعمال نہیں کرنی چاہئے، خاتون اراکین پارلیمنٹ کبھی غیرمہذب زبان استعمال نہیں کرتی ہیں، پارلیمنٹ کا 70فیصد بزنس خواتین چلارہی ہیں، پاکستان کی خواتین اپنا کام کمٹمنٹ اور محنت سے کرتی ہیں۔منزہ حسن کا کہنا تھا کہ ویمن پارلیمنٹری کاکس میں تمام سیاسی جماعتوں کی ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں، خواتین سے متعلق قانون سازی اس کاکس کا بنیادی مقصد ہے، افسوسناک طور پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی خواتین پارٹی قیادت کے دباؤ کی وجہ سے کاکس میں فعال نہیں رہی ہیں، ہم چاہتے ہیں قانون سازی میں تمام سیاسی جماعتوں کی خواتین کی مشاورت شامل ہو، خواتین ارکان پارلیمان باقی ایشوز پر بے شک بائیکاٹ کریں لیکن خواتین کیلئے بنے فورم کا بائیکاٹ نہ کریں۔منزہ حسن نے کہا کہ کوئی رکن اسمبلی اپنا ووٹ بیچتا ہے تو خواتین ارکان پارلیمنٹ رنجیدہ ہوتی ہیں، خواتین کی اخلاقیات اور اقدار بہت بہتر ہوتے ہیں، ہم ہارس ٹریڈنگ کی سخت مذمت کرتے ہیں، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں الیکشن اوپن بیلٹ سے ہونے چاہئیں، اگر کوئی اپوزیشن رکن چاہتا ہے کہ صادق سنجرانی ہی چیئرمین سینیٹ بنیں تو اسے ووٹ ڈالنے کے ساتھ ان کی کھل کر حمایت کرنی چاہئے، ہر چیز کا ملبہ ایجنسیوں پر نہیں ڈال دینا چاہئے۔ن لیگ کی رہنما مہناز اکبر عزیز نے کہا کہ خواتین ارکان پارلیمنٹ میں کام کرنے کے جذبے کے ساتھ آتی ہیں، ہمارے قانون فرسودہ ہیں انہیں بہتر بنانے کیلئے اکٹھے کام کرنا ضروری ہے، عورتوں کو پارلیمنٹ میں اپنی قوت کا بھرپور مظاہرہ کرنا چاہئے۔

اہم خبریں سے مزید