• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے ووٹنگ کا عمل مکمل


ایوان بالا میں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کیلئے ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے، ایوان میں موجود 98 ارکان نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ آخری ووٹ پریذائیڈنگ افسر سینیٹر مظفرحسین شاہ نے کاسٹ کیا۔

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے پولنگ کا وقت شام پانچ بجے تک تھا۔

چیئرمین سینیٹ کیلئے حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے یوسف رضا گیلانی امیدوار ہیں جبکہ صادق سنجرانی حکومتی امیدوار ہیں۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے معرکے کیلئے پی ڈی ایم کے مولانا عبدالغفور حیدری اور مرزا محمد آفریدی آمنے سامنے ہیں.

سینیٹ کا اجلاس پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ کی زیر صدارت شروع ہوا۔

چیئرمین سینیٹ کی ووٹنگ کے عمل میں پہلا ووٹ پی ڈی ایم کے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار جے یو آئی ف کے مولانا عبدالغفور حیدری نے کاسٹ کیا، جبکہ پریذائیڈنگ افسر سینیٹر مظفرحسین شاہ نے آخری ووٹ کاسٹ کیا۔

ووٹنگ کے عمل کے لیے حروف تہجی کے اعتبار سے سینیٹرز کو ووٹ ڈالنے کے لیے بلایا گیا۔

چیئرمین سینیٹ کی ووٹنگ کے دوران سینیٹر احمد خان کا بیلٹ پیپر ضائع ہونے پر انہیں دوبارہ بیلٹ پیپر دیا گیا۔

نئے چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے لیے خفیہ رائے شماری ہوئی، اس کے بعد ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ہوگا، ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب نئے چیئرمین سینیٹ کروائیں گے۔

مظفرحسین شاہ نے ووٹنگ سے پہلے بیلٹ باکسز کھول کر دکھانے کی ہدایت دی جس کے بعد بیلٹ باکسز سیل کردیے گئے،اور بتایا گیا کہ پولنگ شام 5 بجے بند کردیں گے۔

پولنگ سے قبل پی ڈی ایم کے متفقہ امیدوار یوسف رضا گیلانی اپوزیشن چیمبر میں آئے اور نون لیگی رہنماؤں اور سینیٹرز سے ملاقات کی، ذرائع کے مطابق انہوں نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے الگ سے ملاقات اور مشاورت کی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کے سینیٹرز اور رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے حوالے سے حکمت عملی سمیت کیمروں کی نشاندہی کے بعد کی صورتحال پر بھی غور ہوا۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن اپنے اراکین کی تعداد مکمل کرکے ایوان میں ووٹنگ میں حصہ لے گی، سینیٹ ایوان میں نئے قائم شدہ پولنگ بوتھ کےآس پاس علاقے کی چیکنگ کی گئی، جبکہ پولنگ بوتھ کے پاس درازوں کو ٹیپ لگا کر بند کیا جا رہا ہے۔

پولنگ بوتھ تیاری کی نگرانی محسن عزیز، علی ظفر، مصطفیٰ نواز کھوکھر، سیف اللہ نیازی نے کی ۔

آج صبح سینیٹ کے 48 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھانے کے بعد رول آف ممبر پر دستخط کیے جس کے بعد سینیٹ اجلاس 3 بجے تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

پریزائیڈنگ آفیسر مظفر حسین شاہ نے نومنتخب اراکین سینیٹ سے حلف لیا، تقریب حلف برداری کے بعد تمام نو منتخب سینیٹرز نے رول آف ممبر پر دستخط کیے، گیلریوں میں بیٹھے افراد نے اس موقع پر تالیاں بجائیں۔

سینیٹ میں آج حلف اٹھانے والوں میں پی ٹی آئی کے 19، پیپلز پارٹی کے8 ، جے یو آئی ف کے 3، مسلم لیگ نون کے 5 ، بلوچستان عوامی پارٹی کے 6، بی این پی مینگل اور اے این پی کے بھی دو دو سینیٹرز نے حلف اٹھایا، مسلم لیگ ق کا ایک رکن بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہے۔

ایم کیو ایم کے دو سینیٹرز نے بھی حلف اٹھایا جن میں نومنتخب سینیٹر خالدہ اطیب بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں، خالدہ اطیب نے رول آف ممبر پر دستخط بھی کیے۔

سینیٹ کا اجلاس شروع ہوا تو پولنگ کی جگہ پر دو کیمرے لگے ہونے پر مصدق ملک اور مصطفی نواز نے احتجاج کیا۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کیمرے کی تصویر سوشل میڈیا پر جاری کر دی ۔

اپوزیشن ارکان نے پولنگ بوتھ اکھاڑ کر سیکریٹری سینیٹ کی نشست پر رکھ دیا، ایوان میں نئے ارکان سینیٹ کی حلف برداری کے بعد ایک بار پھر ہنگامہ آرائی اور شدید شور شرابہ ہوا۔

سینیٹر رضا ربانی ایوان میں کھڑے ہوگئے، انہوں نے کہا کہ پولنگ بوتھ میں کیمرے لگانا آئین کی خلاف ورزی ہے، اس دوران اعظم سواتی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ قوائد کے مطابق کسی اور موضوع پر بات نہیں ہو سکتی۔

سینیٹ کی موجود صورتحال کے تناظر میں اپوزیشن اتحاد کے پاس 51 اراکین کی اکثریت اور حکومتی اتحاد کے پاس 47 اراکین ہیں،تاہم جماعت اسلامی کا ایک ووٹ اور ممکنہ طور پر بی این پی اور اے این پی کا ایک ایک ووٹ انتخابات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ، لہٰذا اس الیکشن میں ایک ایک ووٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

سینیٹ میں دلچسپ پارٹی پوزیشن کے حساب سے 100 کے ایوان میں 99 ارکان موجود ، اسحاق ڈار حلف نہ اٹھانے کے باعث ایوان کا حصہ نہیں ہیں، اگر موجودہ اور نو منتخب سینیٹر میں پی ڈی ایم اتحاد کو اکھٹا دیکھیں تو انکے ارکان کی تعداد 51 بنتی ہے۔

اس میں پیپلز پارٹی کے 21،مسلم لیگ نون کے 17، نیشنل پارٹی کے 2، پی کے میپ کے 2،جمعیت علمائے اسلام ف کے 5، بی این پی کے 2 اور اے این پی کے 2 ارکان شامل ہیں۔

دوسری جانب حکومتی اتحاد کو دیکھیں تو پی ٹی آئی کے 27، بلوچستان عوامی پارٹی کے 12، ایم کیو ایم کے 3، مسلم لیگ فنکشنل کا 1، مسلم لیگ ق کے 1 ، فاٹا کے 3 سینٹرز شامل ہیں ، اس طرح حکومتی ارکان کی تعداد 47 بنتی ہے۔

ایسے میں ایک ووٹ بچتا ہے جو جماعت اسلامی کا ہے، جواب تک غیر جانبدار ہے۔

سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں چند سوئنگ ووٹ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ،ان میں ایک ووٹ تو جماعت اسلامی کا ہے جو ووٹنگ سے غیر حاضر رہیں گے۔

بلوچستان میں اے این پی اتحاد کا حصہ ہے، ان کا ایک ووٹ حکومتی اتحاد کی جانب جا سکتا ہے ، ایسے ہی آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والی رکن بلوچستان عوامی پارٹی کے ووٹ سے کامیاب ہوئیں وہ بی این پی کا حصہ ہیں، لیکن انکا ووٹ حکومتی اتحاد کو جا سکتا ہے ۔


تازہ ترین