• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینیٹ کے 48 نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا

سینیٹ کے 48 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھانے کے بعد رول آف ممبر پر دستخط کر دیے جس کے بعد سینیٹ اجلاس 3 بجے تک کیلئے ملتوی کردیا گیا۔

پریزائیڈنگ آفیسر مظفر حسین شاہ نے نومنتخب اراکین سینیٹ سے حلف لیا۔

تقریب حلف برداری کے بعد تمام نو منتخب سینیٹرز نے رول آف ممبر پر دستخط کیے،گیلریوں میں بیٹھے افراد نے اس موقع پر تالیاں بجائیں۔

سینیٹ میں ہنگامہ آرائی شور شرابہ

سینیٹ  کا اجلاس شروع ہوا تو  پولنگ کی جگہ پر دو کیمرے لگے ہونے پر مصدق ملک اور مصطفی نواز  نے احتجاج کیا۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کیمرے کی تصویر سوشل میڈیا پر جاری کر دی ۔

 اپوزیشن ارکان نے پولنگ بوتھ اکھاڑ کر سیکریٹری سینیٹ کی نشست پر رکھ دیا۔

ایوان میں نئے ارکان سینیٹ کی حلف برداری کے بعد ایک بار پھر ہنگامہ آرائی اور شدید شور شرابہ ہوا۔

سینیٹر رضا ربانی ایوان میں کھڑے ہوگئے، انہوں نے کہا کہ پولنگ بوتھ میں کیمرے لگانا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

اس دوران اعظم سواتی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ قوائد کے مطابق کسی اور موضوع پر بات نہیں ہو سکتی۔

اعظم سواتی کی بات کاٹتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ رول میں کوئی اجازت نہیں کہ پولنگ بوتھ میں کیمرا لگایا جائے۔

اپوزیشن کے احتجاج کے بعد حکومتی ارکان بھی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے بھی شدید احتجاج کیا۔

مولا بخش چانڈیو اور ولید اقبال میں تلخ جملوں کا تبادلہ

ایوان میں پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو اورحکومتی سینٹر ولید اقبال میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ ولید اقبال کچھ شرم کریں، آپ خواتین کے ساتھ کس لہجے میں بات کر رہے ہیں۔

سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ولید اقبال آپ کا تعلق ایک مہذب گھرانے سے ہے۔

ولید اقبال بولے مجھے تمیز سکھانے کی ضرورت نہیں میں سب جانتا ہوں۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر اجلاس میں کیوں نہیں آئے؟

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی نے آج کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اسی لیے وہ آج اجلاس میں شریک نہیں ہیں۔

جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد نے بتایا کہ بائیکاٹ کے فیصلے کی وجہ سے میں اجلاس میں نہیں آیا ہوں۔

صادق سنجرانی اور یوسف رضا گیلانی آپس میں گلے ملے

سینیٹ کا اجلاس شروع ہونے سے قبل چیئرمین سینیٹ کے لیے حکومتی امیدوار صادق سنجرانی اور پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی نے ایوان میں ملاقات کی اور آپس میں گلے ملے۔

سینیٹ میں آج حلف اٹھانے والوں میں پی ٹی آئی کے 19، پیپلز پارٹی کے8 ، جے یو آئی ف کے 3، مسلم لیگ نون کے 5 ، بلوچستان عوامی پارٹی کے 6، بی این پی مینگل اور اے این پی کے بھی دو دو سینیٹرز نے حلف اٹھایا، مسلم لیگ ق کا ایک رکن بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہے۔

ایم کیو ایم کے دو سینیٹرز نے بھی حلف اٹھایا جن میں نومنتخب سینیٹر خالدہ اطیب بھی حلف اٹھانے والوں میں شامل ہیں، خالدہ اطیب نے رول آف ممبر پر دستخط بھی کیے۔

پی ڈی ایم نے ناشتے پر 51 سینیٹرز پورے کرلیے

اس سے قبل حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) ناشتے پر 51 سینیٹرز پورے کرنے میں کامیاب ہوگئی، چیئرمین سینیٹ کے حکومتی امیدوار صادق سنجرانی نے اپوزیشن نشستوں پر جا کر ممبران سے ملاقات کی۔

سینیٹ کے چیئرمین کے انتخاب کیلئے حکومت کی جانب سے صادق سنجرانی کو اپنا اُمیدوار نامزد کیا گیا ہے جبکہ اپوزیشن اپنے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو اِس عہدے پر دیکھنا چاہتی ہے۔

سینیٹ کی موجود صورتحال کے تناظر میں اپوزیشن اتحاد کے پاس 51 اراکین کی اکثریت اور حکومتی اتحاد کے پاس 47 اراکین ہیں،تاہم جماعت اسلامی کا ایک ووٹ اور ممکنہ طور پر بی این پی اور اے این پی کا ایک ایک ووٹ انتخابات میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ، لہٰذا اس الیکشن میں ایک ایک ووٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

سینیٹ میں دلچسپ پارٹی پوزیشن کے حساب سے 100 کے ایوان میں 99 ارکان موجود ، اسحاق ڈار حلف نہ اٹھانے کے باعث ایوان کا حصہ نہیں ہیں، اگر موجودہ اور نو منتخب سینیٹر میں پی ڈی ایم اتحاد کو اکھٹا دیکھیں تو انکے ارکان کی تعداد 51 بنتی ہے۔

اس میں پیپلز پارٹی کے 21،مسلم لیگ نون کے 17، نیشنل پارٹی کے 2، پی کے میپ کے 2،جمیعت علمائے اسلام ف کے 5، بی این پی کے 2 اور اے این پی کے 2 ارکان شامل ہیں۔

دوسری جانب حکومتی اتحاد کو دیکھیں تو پی ٹی آئی کے 27، بلوچستان عوامی پارٹی کے 12، ایم کیو ایم کے 3، مسلم لیگ فنکشنل کا 1، مسلم لیگ ق کے 1 ، فاٹا کے 3 سینٹرز شامل ہیں ، اس طرح حکومتی ارکان کی تعداد 47 بنتی ہے۔

ایسے میں ایک ووٹ بچتا ہے جو جماعت اسلامی کا ہے، جواب تک غیر جانبدار ہے۔

سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں چند سوئنگ ووٹ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ، ان میں ایک ووٹ تو جماعت اسلامی کا ہے ، جو حکومتی یا اپوزیشن اتحاد کسی کو بھی مل سکتا ہے یا وہ ووٹنگ سے غیر حاضر بھی رہ سکتے ہیں۔

بلوچستان میں اے این پی اتحاد کا حصہ ہے، ان کا ایک ووٹ حکومتی اتحاد کی جانب جا سکتا ہے ، ایسے ہی آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والی رکن بلوچستان عوامی پارٹی کے ووٹ سے کامیاب ہوئیں وہ بی این پی کا حصہ ہیں، لیکن انکا ووٹ حکومتی اتحاد کو جا سکتا ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہو گا لہذا اس میں سوئنگ ووٹ کا کلیدی کردار ہو سکتا ہے ۔

واضح رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے نو منتخب ارکان سینیٹ کا حلف اور چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لئے سینیٹ اجلاس آج صبح 10 بجے طلب کیا تھا ، مظفر حسین شاہ پریزائڈنگ افسر ہوں گے۔

سینیٹ اجلاس کے جاری کر دہ ایجنڈے کے مطابق سیکرٹری سینیٹ پریزائیڈنگ افسرکا اعلان کریں گے۔

سیکرٹری سینیٹ نومنتخب سینیٹرز کو ویلکم کریں گے، نو منتخب ممبران سینیٹ حلف اٹھائیں گے اور ممبران کے رول پر دستخط کریں گے۔ اس کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے الیکشن کےشیڈول کااعلان کیاجائیگا اور اجلاس ملتوی کر دیا جائے گا۔

سینیٹ کا اجلاس پھر دوبارہ 3 بجے ہوگاجس میں چیئرمین سینیٹ کیلئے امیدواروں کا اعلان کیا جائیگا، خفیہ بیلٹ کےذریعے چیئرمین سینیٹ کا الیکشن ہوگا جس کے بعد نتائج کا اعلان ہوگا، نومنتخب چیئرمین سینیٹ حلف اٹھائیں گے۔

اس کے بعد ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہوگا، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوگا، پھر نو منتخب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ حلف اٹھائیں گے۔

قومی خبریں سے مزید