آپ آف لائن ہیں
ہفتہ4؍رمضان المبارک 1442ھ 17؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سگریٹ کی طلب کم کرنے کیلئے موثر حکومتی اقدامات کی ضرورت

پشاور(جنگ نیوز)عوامی پالیسی کے انسٹی ٹیوٹ اور تھنک ٹینک سینٹر فار گلوبل اینڈ سٹریٹجک سٹڈیز کے شائع کردہ ’’پاکستان میں تمباکو نوشی کے صحت پر مضمرات‘‘ کے تحقیقی مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں میں سگریٹ پینے کے بڑھتے ہوئے رجحان ‘متعلقہ قوانین اور پالیسیوں کے ناقص نفاذ کی وجہ سے پاکستان کو صحت سے متعلق صحت کی دیکھ بھال اور مالی امور کا سامنا ہے۔انہوں نے حکومت کو صورتحال کو قریب سے مانیٹر کرنے کی تجویز دی تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ کثیر القومی تمباکو کی صنعت کے اثر و رسوخ کا قانون ساز اداروں کے ذریعہ عمل درآمد کی جانے والی پالیسیوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔پاکستان دنیا کی 15 ریاستوں میں شامل ہے جس میں تمباکو نوشی سے متعلق صحت کے خراب ترین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 22 ملین پاکستانی روزانہ تمباکو سے متعلق مصنوعات کی کھپت کرتے ہیں جس کی وجہ سے سالانہ 160،100 افراد ہلاک ہوتے ہیں۔پاکستان عالمی ادارہ صحت سے اپیل کرتا ہے کہ وہ قیمتوں اور ٹیکسوں کے اوزار استعمال کرکے سگریٹ کی طلب کو کم کرنے کے لئے موثر اقدامات کرے۔ ڈبلیو ایچ او نے تمباکو کی مصنوعات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لئے خوردہ قیمت کے 75 فیصد تک ٹیکس کی سفارش کی ہےتاہم صورتحال سگریٹ سکور کارڈ پر 5 میں سے 0.88 اسکور کے ساتھ پاکستان کے لئے اچھی نہیں لگتی ۔قانون سازی کے اداروں پر تمباکو کی صنعت پر بڑا اثر و رسوخ ٹیکس عائد کرنے میں تاخیر کے پیچھے بڑا عنصر ہے۔اگرچہ تمباکو صارفین کی اکثریت کم اور درمیانی درجے کی معیشتوں میں موجود ہے لیکن اس کے باوجود روزانہ سگریٹ پینے والی 60 فیصد آبادی ایشیاء میں مقیم ہے۔اس تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس عائد کرنے کے وفاقی کابینہ کے مئی 2019ء کے فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے پر پاکستان کو سالانہ آمدنی میں کم سے کم 55 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ کابینہ نے 20 لاٹھیوں کے ہر سگریٹ پیک پر 10 روپے اضافی ٹیکس کی سفارش کی تھی۔تمباکو سے پاک بچوں کے لئے مہم کے کنٹری سربراہ ملک عمران احمد نے کہا کہ حکومت سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی اور متعلقہ بیماریوں پر قابو پانے کے لئے قیمتوں کا تعین اور ٹیکس لگانے کے طریقہ کار کا استعمال کرے۔حکومت تمباکو کی مصنوعات پر صحت کا عائد کرکے کم سے کم 40 ارب روپے اضافی محصول وصول کرسکتی ہیں۔ٹیکس لگانے اور منصوبہ بندی کی پالیسیاں جوانی میں تمباکو کے استعمال کو کم کرنے کے لئے اہم ہیں ۔پاکستان کو تمباکو کے بڑھتے ہوئے استعمال خصوصا نوجوانوں کے استعمال کو روکنے کے لئے ٹیکس لگانے اور منصوبہ بندی کی پالیسیوں میں ایک جامع تبدیلی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اس خطے میں ملک میں سگریٹ کی قیمتیں سب سے کم ہیں۔
پشاور سے مزید