• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تحریر:ہارون مرزا۔۔۔راچڈیل
پاکستان میں ہر دو رحکومت میں تارکین وطن کے مسائل حل کرانے کیلئے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، منصوبہ بندی ہوتی ہے، کسی حد تک دوڑ دھوپ بھی کی جاتی ہے مگر تارکین وطن کو ان کا وہ مقام اور حقوق نہیں ملتے جس کے وہ حق دار ہیں، پاکستان میں ہائوسنگ سوسائٹیز کی آڑ میں تارکین وطن کی زندگی بھر کی جمع پونجی ہتھیانے والے گینگز کی بھرمار ہے، اسلام آباد سمیت ملک بھر میں لاتعداد ہائوسنگ سوسائٹیز کو غیر قانونی قر ار دیا جا چکا ہے ،لاہور سمیت دیگر اضلاع میں ہائوسنگ سوسائٹیز اور پلازوں کے خلاف آپریشن بھی کیا گیا مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہائوسنگ سوسائٹیز کی آڑ میں سب سے زیاد ہ آسان شکار اوورسیز پاکستانی ہوتے ہیں،آئے روز فراڈئیے خوش نما اور لچھے دار باتوں سے عوام الناس کا خون چوس رہے ہیںہر روز کوئی نیا چہرہ کسی نئے منصوبے کے ساتھ بیچارے عوام کی جمع پونجی کو ہڑپ کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے کبھی عام منافع سے زیادہ نفع دینے کے روپ میں کبھی کاروباری اتار چڑھائو کی باریکیوں کو لے کر انوسٹمنٹ کروانے کے روپ میں تو کبھی ہائوسنگ سوسائٹی میں رقم انویسٹ کرنے کے روپ میں کوئی نہ کوئی ٹھگ سادہ لوح تارکین وطن کو لوٹنے میں کامیاب ہو جاتا ہے لاتعداد ایسی ہائوسنگ سوسائٹیز سامنے آ چکی ہیں جن میں تارکین وطں نے کسی نہ کسی طریقے اپنا سرمایہ لگایا اور بعد ازاں وہ غیر قانونی ثابت ہوئی فراڈیے گینگز نے تارکین وطن کو لوٹنے کے اب کئی طریقے متعارف کرا رکھے ہیں اس بارگمنامی سے نکل کر بھرپوراشتہاربازی ،میڈیا کوریج اورپبلسٹی کے سارے لوازمات کوپورا کیا جاتا ہے، عوام الناس کے پیٹ میں ہضم شدہ خوراک تک نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کہیں کوئی ایک روپیہ بھی اور کوئی زیور کا چھوٹا سا ٹکڑابھی گھر میں پڑا نہ رہ جائے اس سارے فراڈ میں جہاں تنخواہ دار طبقہ متاثر ہوتا ہے ،وہیں مزدور ، کاروباری اور زمیندار طبقہ بھی متاثر ہوتا ہے، ان سب کے ساتھ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اسی تناسب سے متاثر ہوتے ہیںپاکستان میں اس وقت ہزاروں ہائوسنگ سوسائٹیز اور اسکیمیں موجود ہیں جن میں پلاٹس کیلئے لوگ بالخصوص اوورسیز پاکستانی طویل عرصہ سے اقساط میں رقم جمع کرارہے ہیں تاکہ انہیں رقم پوری ہونے پر مالکانہ حقوق مل سکیں لیکن ان میں سے کئی ایسی ہوں گی جو منظور شدہ نہیں ہوں گی مستقبل قریب میں جب ان سوسائٹیز واسکیموں کے حوالے سے سرکاری اداروں کی طرف سے انتباہ جاری ہوگا تو نہ صرف لوگوں کا پیسہ ڈوبنے کا خدشہ سر اٹھالے گا بلکہ ماضی کی طرح کئی سوسائٹیز کے مالکان راہ فرار اختیار کر جائینگے دوسری طرف ایک بڑاالمیہ سر اٹھا رہا ہے وہ یہ ہے کہ زرعی اراضی کا بڑا حصہ ان ہائوسنگ سوسائٹیز کی نظر ہوتا جا رہا ہے زراعت کسی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اگر ریڑھ کی ہڈی کو ذرا سی چوٹ پہنچ جائے تو انسان اٹھنے بیٹھنے بلکہ ہلنے جلنے کے قابل بھی نہیں رہتاایسے ہی جب ملک میں زراعت کا شعبہ کمزور پڑتا ہے تو ملکی معیشت کو خسارہ ہوتا ہے بالخصوص پاکستان کی معیشت میں زراعت کا کردار نہایت اہم ہے۔ ملکی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہی ہے پاکستان کے 45فیصد لوگوں کا براہ راست روزگار کا ذریعہ زراعت ہے زراعت کا شعبہ پہلے ہی مشکلات کا شکار تھا اب ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے فیشن نے زرعی زمینوں کا تیزی سے خاتمہ ہو رہا ہے بڑے شہروں کے گرد و نواح میں زرعی زمینوں کے خاتمے کیلئے بہت زیادہ محنت جاری ہے شہر سے باہر نکلیں تو چاروں طرف بڑی بڑی مشینیں لہلہاتے کھیتوں کو صاف کرنے میں مصروف ہیں کنسٹرکشن کمپنیاں اور ڈیولپرز زرعی رقبوں کے مالکان کو ورغلاتے ہیں اور انہیں بڑے لالچ دے کر ان سے زمین خرید لیتے ہیں یا ان کی زمین پر کام کرکے منافع میں انہیں شریک کرلیتے ہیں لوگ لاکھوں روپے لٹا کر سالہاسال ترقیاتی کام شروع ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں اس دوران سوسائٹی کے غیر قانونی ہونے این او سی نہ ملنے یا منسوخ ہوجانے کی افواہیں بھی انہیں پریشان کرتی رہتی ہیں پاکستان میں زرعی زمینوں کا اتنی بے دردی سے خاتمہ کیا جارہا ہے کہ شہروں کے اطراف میں روزانہ ایک نئی ہاؤسنگ سوسائٹی متعارف کرائی جارہی ہے اور ان سوسائٹیوں کا پھیلاؤ اتنا زیادہ ہے کہ ایک شہر دوسرے شہر کے ساتھ مل گیا ہے۔ ان شہروں کے درمیان موجود ہرے بھرے کھیت کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہورہے ہیں سرکاری دستاویزات میں ملک میں 69 فیصد ہاؤسنگ سوسائٹیاں رجسٹرڈ نہ ہونے کا انکشاف بھی میڈیا کی زینت بن چکا ہے سوشل میڈیا پر گردش کرنیوالی مختلف رپورٹوں کی روشنی میںسرکاری دستاویزات کے مطابق 8 ہزار 767سوسائٹیوں میں سے 6ہزار سوسائٹیاں متعلقہ اداروں سے رجسٹرڈ نہیں ہیں جب کہ یہ 6 ہزار سوسائٹیاں بوگس کاغذات پر بنائی گئی ہیں یا ان کے پیپرز نامکمل ہیں500 سوسائٹیوں کے خلاف تقریباً 4000 فراڈ اور کرپشن کے کیسز درج ہیں جب کہ فراڈ کیسز کی مالیت 300 ارب روپے سے زائدہے چند یوم قبل گوجرانوالہ کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی اور زمینداروں میں قیمت پر تنازع نے جنم لیا جو جھگڑے میں تبدیل ہو گیا چچا بھتیجے سمیت تین افراد اس معاملے پر جان کی بازی ہار گئے ۔ پولیس نے ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان اور مبینہ طور پر فائرنگ کرنے والے تین سیکورٹی گارڈز کو حراست میں لے لیا ہے جن سے تحقیقات جاری ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات کو روکنے اور اوورسیز پاکستانیوں کو لٹنے سے بچانے کیلئے دھڑا دھڑ تعمیر ہونے والی ہائوسنگ سوسائٹیز سے متعلق موثر حکمت عملی اور قوانین متعارف کرائے جائیں تاکہ لوگوں کا سرمایہ اور حقوق محفوظ رہ سکیں ۔
تازہ ترین