• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر جوبائیڈن کے صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار شمالی ریاست الاسکا میں امریکی اور چینی اعلیٰ سطح کے وفود کے مابین مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا، مگر اجلاس کے ابتدائی مرحلے ہی میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات، نکتہ چینی اور تلخ جملوں کا سلسلہ سامنے آیا۔ دونوں وفود 20 سے 25 منٹ تک ایک دوسرے پر تند و تیز جملوں کے تیر برساتے رہے۔ چینی وفد کا پہلا زبانی حملہ یہ تھا کہ امریکا دوسرے ممالک کو چین پر حملے کے لئے اُکسا رہا ہے۔ جو اباً امریکی وفد نے کہا کہ لگتا ہے کہ چینی وفد یہ ذہن بنا کر آیا ہے کہ مذاکرات کے بجائے تنقید اور نکتہ چینی کی جائے۔

امریکی وفد نے مزید کہاکہ امریکا چین میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر ضرور بات کرے گا۔ امریکی وفد کی سربراہی امریکی وزیر خارجہ انٹونی بیلکن کر رہے تھے جبکہ چینی وفد کی سربراہی چینی وزیر خارجہ نے کی۔ عالمی میڈیا میں اس خبر کے نمایاں ہونے کے بعد کہا جا رہا ہے کہ دونوں بڑی طاقتوں کے آپس کے تعلقات کی نوعیت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ 

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ چینی وفد نے بات یوں کی تھی ہم دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری لانے کے خواہاں ہیں مگر امریکی وفد نے جواباً کہاکہ چین خودنمائی کرتا اور پروٹوکول کی کھلی خلاف ورزی کرتا ہے، پھر اس کے بعد تند و تیز جملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس تمام مسئلے پر سوشل میڈیا میں بعض بہت دلچسپ تبصرہے سامنے آئے ہیں۔ ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ وی وی آئی پی بھی عام شہریوں کی طرح اعصابی دباؤ کا شکار ہو کر مریض بنتے جا رہے ہیں۔

قصہ یوں شروع ہوتا ہے کہ 1949میں جب چینی رہنما مائوزے تونگ کی سربراہی میں لاکھوں کسانوں کی مدد سے چین میں سوشلسٹ انقلاب برپا ہوا تو اس وقت کی قوم پرست چینی حکومت کے سربراہ چیانگ کائی شک اپنے ہزاروں فوجیوں سمیت فرار ہو کر چین کے مشرقی جزیرہ تائیوان میں پناہ حاصل کی اور وہاں قوم پرست حکومت تشکیل دے دی۔ امریکا نے چین کی انقلابی حکومت کو نظر انداز کرکے تائیوان کی قوم پرست حکومت کو تسلیم کیا۔ یہ سلسلہ دو دہائیوں تک یونہی جاری رہا۔ 

مائو کی انقلابی حکومت سلامتی کونسل سے باہر رہی، پھر جولائی1971ء میں امریکی وزیر خارجہ ڈاکٹر ہنری کسنجر نے براہ راست پاکستان چین کا خفیہ دورہ کیا۔ آہستہ آہستہ برف پگھل رہی تھی اس کے بعد پہلی بار امریکا کی پنگ پونگ ٹیم بیجنگ گئی۔ بعدازاں امریکا نے چین کو تسلیم کرلیا اور تائیوان کو سلامتی کونسل سے بے دخل کرکے وہ مستقل نشست چین کو دے دی گئی۔ 

امریکا اور چین کے تعلقات سرد و گرم وقت کے ساتھ آگے بڑھتے گئے۔ سال 2006ء میں امریکی صدر کلنٹن نے امریکا چین تجارتی معاہدہ پر دستخط کئے اور دونوں بڑے ملکوں کی تجارت فروغ پاتی رہی۔ 2008ء تک دوطرفہ تجارت کے سبب چین کی تجارت اور اس کے سونے کے ذخائر جاپان سے بھی زیادہ ہو گئے اور امریکا چین کا مقروض ہوتا گیا۔

2012ء میں اوباما حکومت کے دور میں شور شروع ہوا کہ چین سے تجارت میں امریکا خسارے میں ہے اور یہ خسارہ بڑھتا گیا، صدر ٹرمپ نے اسٹیل اور المونیم پر ٹیکس بڑھا دیا اس پر چین نے احتجاج شروع کیا۔ اس طرح تجارتی خسارہ بڑھتا چلا گیا چین کی تجارت کئی گنا بڑھ گئی۔ دفاعی بجٹ دوگنا ہو گیا سونے کے ذخائر میں بھی بہت اضافہ ہو گیا۔ 

اب ون روڈ ون بیلٹ نے دنیا کی تجارت میں نمایاں تبدیلیاں شروع کردی ہیں۔ اب چین پلٹ کر دیکھنے کے لئے بالکل تیار نہیں ہے۔ امریکیوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کے رہنمائوں سے کہاں کہاں کوتاہی ہوئی ہے۔ اب چینی وفد پر غصہ نکالنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ یہ دیگر کے لئے بھی پیغام ہے۔

معزز قارئین! آپ سے کچھ کہنا ہے

ہماری بھرپور کوشش ہے کہ میگزین کا ہر صفحہ تازہ ترین موضوعات پر مبنی ہو، ساتھ اُن میں آپ کی دل چسپی کے وہ تمام موضوعات اور جو کچھ آپ پڑھنا چاہتے ہیں، شامل اشاعت ہوں، خواہ وہ عالمی منظر نامہ ہو یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، رپورٹ ہو یا فیچر، قرطاس ادب ہو یا ماحولیات، فن و فن کار ہو یا بچوں کا جنگ، نصف سے زیادہ ہو یا جرم و سزا۔ لیکن ان صفحات کو اپنا سمجھتے ہوئے آپ بھی کچھ لکھیں اور اپنے مشوروں سے نوازیں بھی۔ خوب سے خوب تر کی طرف ہمارا سفر جاری ہے۔ 

ہمیں خوشی ہے کہ آج جب پڑھنے کا رجحان کم ہوگیا ہے، آپ ہمارے صفحات پڑھتے ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب ان صفحات کو مزید بہتر بنانے کے لیے اپنی رائے بھی دیں اور تجاویز بھی، تاکہ ان صفحات کو ہم آپ کی سوچ کے مطابق مرتب کرسکیں۔ ہمارے لیے آپ کی تعریف اور تنقید دونوں انعام کا درجہ رکھتے ہیں۔ تنقید کیجیے، تجاویز دیجیے۔ اور لکھیں بھی۔ نصف سے زیادہ، بچوں کا جنگ، ماحولیات وغیرہ یہ سب آپ ہی کے صفحات ہیں۔ ہم آپ کی تحریروں اور مشوروں کے منتظر رہیں گے۔ ہمارا پتا ہے:

رضیہ فرید۔ میگزین ایڈیٹر

روزنامہ جنگ، اخبار منزل،آئی آئی چندیگر روڈ، کراچی