آپ آف لائن ہیں
منگل29؍شعبان المعظم 1442ھ 13؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
,

شہباز شریف کی ضمانت اور مریم نواز کی ممکنہ جیل یاترا: مسلم لیگ ’ن‘ کو ’ش‘ بنادے گی؟

وطن عزیز میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا، ہم محب وطنوں کو سب بہتر اور درست ہونے کا انتظار ہے اور یہ انتظار ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ پی ڈی ایم ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ مہنگائی اور معیشت کی ابتری اپنے عروج پر ہے۔ کورونا کی تیسری لہر نے خرابیوں اور مسائل کو مزید اجاگر کردیا ہے۔ یہاں جتنے فریق ہیں سب اپنی ہٹ دھرمی اور ضد پر قائم ہیں کوئی ایسا امپائر بدقسمتی سے موجود نہیں رہا جو تصفیہ اور فیصلہ کرا دے۔ بیچ منجدھار میں کشتی پھنسی ہوئی ہے، ملاح بےنیاز ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہر ایک فریق مشکل میں مبتلا ہے کوئی بھی آرام میں نہیں سب وقت گزار رہے ہیں، عوام سخت عذاب اور بے چینی میں ہیں۔ 

پی ڈی ایم کے کمزور ہونے سے جن لوگوں نے امیدیں باندھ رکھی تھیں وہ مزید مایوس اور بے بسی کا شکار ہوگئے۔ پیپلز پارٹی جو جمہوریت پسند اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت کی حیثیت سے شہرت رکھتی تھی زرداری کی قیادت میں مصلحت پسند جماعت کی حیثیت میں سامنے آئی ہے۔ گوکہ ابھی اس بات کا حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے کہ پیپلز پارٹی کونسی سمت اختیار کرتی ہے؟ کیا ابھی بھی کوئی درمیانی راستہ باقی ہے؟ تاہم پیپلز پارٹی کی سمت واضح ہے، اس کو طاقتور حلقوں سے ’’ڈھیل‘‘ کی اور درپردہ ڈیل کی امیدیں ہیں، پہلے بھی آصف زرداری ان کی اسائنمنٹ مکمل کرتے رہے ہیں۔ اب بھی اندرون خانہ کیا چل رہا ہے اللہ جانے۔ 

آصف زرداری پارٹی پر پوری طرح اثر انداز ہیں، وہ اس بات کو ملحوظ خاطر نہیں رکھ رہے کہ آئندہ سیاست جمہوری انداز میں بلاول بھٹو نے کرنی ہے، آصف زرداری وقتی فائدہ دیکھ رہے ہیں مستقبل کی ان کو یا تو فکر نہیں یا پھر وہ سمجھتے ہیں کہ فی الحال طاقتور حلقوں سے ٹکرانا بے فائدہ اور لاحاصل مشن ہے جبکہ صاف نظر آ رہا ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ پنجاب میں مقبول تر ہوتا جا رہا ہے پنجاب کے ضمنی انتخاب اس کا مظہر ہیں۔ 

مریم نواز نے اس بیانیے کو عوام تک پہنچانے اور پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے قیادت کا حق ادا کردیا پیپلز پارٹی کی یہ منطق سمجھ سے بالا ہے کہ نواز شریف وطن واپس آئیں، یہ تو تحریک انصاف کی بھی پوری طرح خواہش نہیں نہ ان کو بھیجنے والوں کی۔ پیپلز پارٹی کا یہ مطالبہ پی ڈی ایم کے اتحاد میں رخنہ ڈالنے کے سوا اور کچھ نہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب کی سیاست سے لاتعلقی اختیار کرلی ہے۔ ماضی کی وفاق کی ایسی جماعت کا رویہ عجیب اور سمجھ سے بالاتر ہے۔

ادھر مریم نواز اور مولانا فضل الرحمٰن نے کہہ دیا ہے کہ پیپلز پارٹی ساتھ رہے نہ رہے تحریک چلے گی، بلکہ پی ڈی ایم نے تو پیپلز پارٹی کے بغیرلانگ مارچ کا عندیہ دے دیا ہے تاہم سیاسی حلقوں کے مطابق کورونا اور دیگر معاملات کے باعث لانگ مارچ ابھی موثر ثابت نہ ہوگا۔ ادھر مریم نواز کی نیب میں پیشی پر کارکنوں کا اجتماع کے فیصلےکے بھی دور رس اثرات ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہہ دیا ہے کہ نیب پیشی پر پی ڈی ایم قیادت مریم کے ساتھ جائے گی۔ 

سیاسی حلقوں کے مطابق مریم نواز نے بطورلیڈر خود کو منوا لیا ہے وہ نواز شریف کی یہاں بھرپور نمائندگی کر رہی ہیں، پیپلز پارٹی کو نہ معلوم نواز شریف کی عدم موجودگی میں کس بات کی کمی محسوس ہو رہی ہے؟ اب اگر مریم نواز کو جیل بھی بھیج دیا جائے تو اس سے ان کی لیڈر شپ میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، مطلب یہ ہے کہ نواز شریف کا بیانیہ اس قدر واضح اور توانا ہوگیا ہے کہ اس کی جگہ مسلم لیگ (ن) کی پرواسٹیبلشمنٹ قیادت جو مفاہمت اور مصلحت کی حامی ہے ان کی جگہ ہر گز نہیں لے سکتی، جب سے حمزہ شہباز ضمانت پر رہا ہوئے ہیں انہوں نے عمومی طور پر سیاسی بیان بازی سے احتراز برت رکھا ہے دیکھیں شہباز شریف کی ضمانت کا کیا بندوبست ہوتا ہے۔ 

کہنے والے کہتے ہیں کہ ان کی ضمانت ہو جائے گی اور مریم جیل چلی جائیں تو مسلم لیگ (ن) سے ’’ش‘‘ہو جائے گی، لیکن لگتا ہے کہ اس کام میں دیر ہوگی۔ ادھر پی ڈی ایم کے موجودہ معاملات کے باعث عثمان بزدار پر لٹکتی تلوار ہٹ گئی ان پر تحریک عدم اعتماد کا معاملہ رفع دفع ہوگیا لیکن پیپلز پارٹی کی ابھی بھی خواہش ہے کہ وہ طاقتور حلقوں کی مرضی و منشا سے ایسے کھیل کھیلتے رہیں۔بلاول بھٹو پیر کی شام جماعت اسلامی کے امیر اور دیگر قیادت سے ملاقات کے لئے منصورہ پہنچ گئے۔ انہوں نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لئے یوسف رضا گیلانی کے لئے حمایت بھی طلب کی۔ دونوں جماعتوں میں کچھ ’’ان دیکھی ان کہی‘‘ باتیں اور نکات مشترکہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ درست ہیں تو وہ سینیٹ میں اپوزیشن کے امیدوار کیوں ہیں؟پھر عدالت میں ان کے کیس کی اہمیت کیا رہ جائے گی؟

آئندہ چند ماہ مہنگائی کے حوالے سے عوام پر بجلی بن کر گریں گے۔گیس کی قیمتیں بھی دوگنا ہونے جا رہی ہیں۔ مطلب یہ کہ مستقبل میں عوام کو کوئی ریلیف ملنے والا نہیں۔ بجلی کی قیمت میں 30 سے 35فیصد اضافہ ہونے جا رہا ہے۔ ایسے میں حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی علاج نہیں کہ وہ اپوزیشن کو دبا دے یا اپنے ساتھ ملا لے۔ دیکھیں کون دبتا ہے کون اندرون خانہ ان کے ساتھ مل جاتا ہے اور اس کو وہ ریلیف فراہم کرتا ہے جس کے اصل حقدار غریب بے بس اور مستحق عوام ہیں۔

کورونا کی تیسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے دنیا بھر کی حکومتیں ویکسین کی فراہمی کی تگ و دو میں مصروف ہیں یہاں حکومت نے ایک پیسے کی ویکسین درآمد نہیں کی۔ چین نے ہمدردی دکھائی اور ویکسین فراہم کی جبکہ پرائیویٹ سیکٹر مارکیٹ میں غریب عوام کا دل رکھنے کےلئے مہنگی ویکسین مارکیٹ میں لے آیا۔

بہرحال ہر کوئی اس بات کا منتظر اور خواہش مند ہے کہ ملک میں جمہوریت کو فروغ حاصل ہو، جو تنائو کھچائو اور محاذ آرائی کی کیفیت ہے وہ ختم ہو، کوئی تو ہو گا جو ملک کے مفاد ، استحکام اور غریب عوام کے لئے آگے بڑھے گا کیونکہ ایسے دیر تک کام چلنے والا نہیں۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید