• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ستارے ڈُوب رہے ہیں، ایک ایک کرکے، وہ تمام روشن و درخشاں ستارے ڈوب رہے ہیں، جن سے کبھی ہمارے ٹیلی ویژن کا آسمان منور تھا۔ کیا کہکشاں تھی، کیا روشنی تھی، کیا چمک تھی کہ سرحد پار تک سبھی کی آنکھیں خیرہ تھیں۔

ہم تو ابھی طارق عزیز اور اطہر شاہ خان جیدی کے صدمے سے باہر نہیں آئے تھے کہ اب حسینہ معین اور کنول نصیر کے انتقال کی خبر ملی۔ نگینے جیسے لوگ جارہے ہیں، اب! کیسے جھیلیں اس صدمے کو۔ کہاں سے لائیں گے ان ہیروں کا متبادل؟ نہیں متبادل تو ہو ہی نہیں سکتا۔ دوسرا طارق عزیز تو پیدا نہیں ہوسکتا، جو نیلام گھر جیسا کوئز پروگرام کئی دہائیوں تک کام یابی سے کرے، گیم شو میں تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے اور دُنیا چھوڑتے ہوئے سب کچھ وطن عزیز کے نام کرجائے۔ 

دوسرا اطہر شاہ خان بھی پیدا نہیں ہوگا، جو ’’جیدی‘‘ کے کردار میں امر ہوجائے۔ علم و ادب، گفتگو، تحریر، اداکاری سبھی پر تو ملکہ تھا انہیں۔طارق عزیز تو پاکستان ٹیلی وژن کے پہلے انائونسر اور نیوز ریڈر تھے۔ کنول نصیر بھی پہلی خاتون تھیں، وہ بھی رحلت کر گئیں۔ رات کو ان کے انتقال کی خبر خواجہ نجم الحسن کے ذریعے ملی اور صبح کو حسینہ معین کے گزرنے کی اطلاع آگئی۔ 

چند گھنٹوں میں دو بڑی اور اہم شخصیات اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔ کنول نصیر نے ساری زندگی کمپیئرنگ کی اور خُوب کی۔ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن سے وہ منسلک رہیں۔ ان کی والدہ موہنی حمید ریڈیو پاکستان کی ایسی آواز تھی، جس کا جادو سر چڑھ کے بولتا تھا۔ ہمیں یاد ہے ایک مرتبہ عابد علی مرحوم تذکرہ کررہے تھے کہ وہ جب پہلی بار کوئٹہ سے لاہور آئے، تو ان کی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ موہنی حمید کو دیکھ سکیں، ان کی آواز تو وہ ریڈیو پر سنتے آئے تھے، بس ان سے ملاقات کا اشتیاق تھا۔

اپنی والدہ کی طرح کنول نصیر بھی ریڈیو پر پروگرام کرتی رہیں۔ ایک مرتبہ ہم اسلام آباد اپنی ریکارڈنگ کے سلسلے میں گئے ہوئے تھے، وہاں کنول نصیر سے پہلی بار ملاقات ہوئی، وہ بتارہی تھیں کہ ٹیلی ویژن پر تو ان کی مصروفیات ہیں ہی، لیکن ریڈیو پر وہ ہفتہ میں تین پروگرام کرتی ہیں، ایک انگریزی، دوسرا پنجابی اور تیسرا اردو میں۔ کنول نصیر اپنے کسی پروگرام کے سلسلے میں اسلام آباد آئی ہوئی تھیں۔ بنیادی طور پران کا تعلق لاہور سے تھا اور لاہور میں ہی انہوں نے اپنی زندگی گزاری۔ کنول نصیر سے وہ سرسری ملاقات تھی، بعدازاں ان سے کافی ملاقاتیں ہوتی رہیں۔

پی ٹی وی ایوارڈز، براڈ کاسٹنگ ایوارڈز، ریڈیو پاکستان کے ایوارڈز، وغیرہ وغیرہ کی تقاریب میں جہاں وہ بھی کمپیئر ہوتی تھیں اور ہم بھی۔ زیادہ تر ہماری ملاقات ریڈیو پاکستان کے زیر اہتمام منعقد کردہ پروگراموں میں ہوتی تھی۔ اس وقت ریڈیو پاکستان کراچی کے اسٹیشن ڈائریکٹر محمد نقی تھے، ہمیں یہ لکھنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر زیڈ اے بخاری کے بعد کوئی لائق فائق اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان کو ملا، تو وہ محمد نقی تھے۔ ایک مرتبہ محمد نقی کا فون آیا کہ ریڈیو پاکستان 6؍ستمبر یعنی یومِ دفاع کے حوالے سے خصوصی پروگرام کررہا ہے، جس کا نام ہے ’’دیا جلائے رکھنا ہے‘‘، اس کے لیے لاہور میں بڑا شو ہوگا، آپ اور شفیق الرحمان کمپیئر ہوں گے، کیا آپ کے لیے لاہور جانا ممکن ہوگا؟ 

ہم نے ایک سیکنڈ سے بھی کم ٹائم میں جواب دیا کہ جی ضرور کیوں نہیں اور ہم اپنی والدہ کے ہمراہ ’’دیا جلائے رکھنا ہے‘‘ کی میزبانی کے لیے لاہور چلے گئے۔ وہ ایک شان دار پروگرام تھا ، جس میں ہمارے اور شفیق الرحمان مرحوم کے علاوہ لاہور سے شجاہت ہاشمی اور کنول نصیر بھی کمپیئر تھے۔ فن کاروں کی بڑی تعداد تھی، جنہوں نے ملی نغمے پیش کیے۔ کنول نصیر نے سیاہ لباس پہنا ہوا تھا اور وہ بہت باوقار انداز میں بیٹھی تھیں۔ بعد میں ہمیں اندازہ ہوا کہ سیاہ رنگ شاید ان کا پسندیدہ تھا، ہم نے جب بھی ان کو دیکھا زیادہ تر سیاہ لباس ہی زیب تن کرتی تھیں۔ 

کبھی کبھی سفید یا آف وہائٹ بھی، لیکن یہ تو ماننا پڑے گا کہ ان کا ذوق بہت خُوب تھا، خوش لباس تھیں، مہذب اور شائستہ، ایسے نرم لہجے میں ناپ تول کے گفتگو کرتی تھیں کہ سامنے والا خود بہ خود مودب ہوکر سر جھکا کے بس جی جی کرتا رہے۔ یہ وقار اور دبدبہ ان کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتا تھا۔

وہ مسکراتی بھی شاہانہ انداز سے تھیں، ایسی تمکنت اور بردباری ہم نے کسی دوسری کمپیئر میں نہیں دیکھی۔ کنول نصیر سے ہماری ملاقاتیں زیادہ تر شوز میں ہی ہوئیں۔ ایک مرتبہ براڈ کاسٹنگ ایوارڈز کی تقریب تھی، اسلام آباد میں، یہ تقریب تھی تو ریڈیو پاکستان کی، لیکن اسے پاکستان ٹیلی ویژن پر لائیو نشر ہونا تھا، ٹیلی ویژن پروڈیوسر تھے شاکر عزیز، جن کی زیر ہدایات ہم نے ڈراما سیریل ’’عین عشق‘‘ کیا تھا اور بعد میں وہ پی ٹی وی کے ڈائریکٹر پروگرام بنے۔ 

ریڈیو پاکستان کے حوالے سے یہ پیش کش محمد نقی کی تھی، مہمان خصوصی اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز تھے، خاص مہمانوں میں وزیر اطلاعات محمد علی دُرانی اور دیگر وزراء کے علاوہ انور محمود بھی تھے۔ اس تقریب میں ہمیں نہ صرف بہترین کمپیئر کا ایوارڈ ملا بلکہ کمپیئرنگ کے فرائض بھی ہم نے ادا کیے۔ اس تقریب میں شجاعت ہاشمی اور کنول نصیر بھی کمپیئر تھے۔ بڑا یادگار ایونٹ تھا، اس کی تصاویر ہم دیکھتے ہیں تو دل خوشی سے بھر جاتا ہے پھر جب یہ خیال آتا ہے کہ اب سب کچھ تبدیل ہوگیا تو عجیب سی کسک بھی محسوس ہوتی ہے۔

کنول نصیر اب نہیں رہیں، دو دن قبل محسن گیلانی نے فیس بک پہ پوسٹ کیا تھا کہ کنول نصیر علیل ہیں اور اسپتال میں ہیں، اب ان کی رحلت کی خبر لگی ہے۔ ان کی خبر کے ساتھ ہی حسینہ معین کی اچانک وفات کی خبر بھی جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ 23؍مارچ کو یوم آزادی کے حوالے سے آرٹس کونسل میں تقریب تھی، جہاں ان سے ہماری آخری ملاقات ہوئی، اس کے بعد بس یادیں اور ان کی تصاویر، ان کی پوسٹ اور فیس بک پر ان کے لکھے کمنٹس۔ ہم نے جب فیس بک پر ساحرہ کاظمی اور راحت کاظمی کی کورونا ویکسین لگوانے کے بعد تصویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تو جہاں بہت سے لوگوں نے اسے لائیک کیا، وہاں حسینہ معین نے لکھا "My Friends" یعنی میرے دوست۔ 

آرٹس کونسل میں سندھ حکومت کی جانب سے کورونا ویکسین مفت لگائی جارہی ہے اور ساحرہ کاظمی، راحت کاظمی کے علاوہ شکیل، انور مقصود، ضیاء محی الدین، بہروز سبزواری، طلعت حسین، جاوید شیخ کے علاوہ خود حسینہ معین نے بھی ٹیکا لگوایا۔ حسینہ معین آرٹس کونسل کی منتخب نائب صدر تھیں۔ پی ٹی وی کے لیے لازوال ڈرامے تحریر کیے، شہ زوری، ان کہی، تنہائیاں، انکل عرفی، کسک، دھوپ کنارے، جیسے ڈرامے جو اب شاید کبھی دوبارہ نہ بن سکیں۔ حسینہ معین کے ڈرامے کرن کہانی اور تنہائیاں کا ری میک کرنے کی کوشش کی گئی، جو ناکام ہوگئی اور ثابت ہوگیا کہ کلاسیک کا ری میک بہت اچھا خیال نہیں۔ 

شکیل، شہناز شیخ، مرینہ خان، ساجد حسن، نیلوفر عباسی جو پہلے نیلوفر علیم تھیں، شہلا احمد، جمشید انصاری ان سب کی شہرت اور کام یابی میں حسینہ معین کا کردار تھا۔ ایک مرتبہ روبینہ اشرف کا انٹرویو ہم نے دیکھا جو ڈراما کسک کے حوالے سے تھا، جس میں انہوں نے اقرار کیا کہ فن کاروں کو بلاشبہ ٹیلی ویژن ڈراموں سے شہرت ملتی ہے، لیکن جیسی بلندی اور کام یابی حسینہ معین کے ڈراموں سے ملتی ہے، وہ بے مثال ہے۔ حسینہ معین کے زورِ قلم سے متاثر ہوکر راج کپور نے انہیں اپنی فلم حنا کا اسکرپٹ لکھنے کی پیشکش کی، جو قبول کرلی گئی۔ اگرچہ راج کپور کا انتقال ہوگیا تھا۔ تاہم ان کے بیٹے رندھیر کپور نے فلم مکمل کی اور راج کپور کے خواب کو پورا کیا۔

حسینہ معین ان دنوں اسلام آباد میں اپنے ایک ڈرامے کی ریکارڈنگ کے لیے مصروف تھیں، ہم فیس بک پر ان کی لگائی تصاویر دیکھتے رہتے تھے، آرٹس کونسل میں بھی ان سے ملاقات رہتی تھی۔ ہماری کتاب ’’یہ ہیں طلعت حسین‘‘ کے لیے انہوں نے اپنے تاثرات لکھے تھے۔ اب وہ اس دُنیا میں نہیں رہیں، سمجھ نہیں آتا کیا لکھیں، کیسے یقین کریں کہ ہماری پیاری ’’حسینہ آپا‘‘ اب نہیں رہیں۔ 

حسینہ معین چلی گئیں، لیکن ایک شکوہ، ایک شکایت اپنے ساتھ لے گئیں کہ وہ ادارہ جس کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کی، جس کے لیے بے شمار ڈرامے لکھے اس نے انہیں ’’ان کہی‘‘ اسٹیج پہ پیش کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ’’ان کہی‘‘ کئی مرتبہ انائونس ہوا، مگر ہر بار ’’نوٹس‘‘ مل جانے کے باعث اسٹیج نہ ہوسکا۔ کوئی بات نہیں حسینہ آپا، ان کہی آپ کا لکھا ڈراما تھا، کچھ بھی ہوجائے لوگ اسے آپ کے نام سے یاد کریں گے۔