• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برّاعظم افریقہ کے ایک درجن سے زائد ممالک شدید مصائب و مسائل کا شکار ہیں۔ جن میں غربت، پسماندگی، معاشرتی ناہمواری، ناانصافی، تعلیم کی کمی، صحت عامہ کی سہولیات کی کمی، بنیادی حقوق کی پامالی، مذہبی نسلی قبائلی تعصبات، انتہاپسندی، دہشت گردی اور بدعنوانی جیسے گھمبیر مسائل نے کروڑوں عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ ان ممالک میں وسطی افریقہ، نائیجیریا، کانگو، کیمرون، مالی، جنوبی سوڈان، نائیجیریا، موزومبیق، صومالیہ، سب صحارا اور لیبیا شامل ہیں۔تاحال گزرے دس برسوں میں لاکھوں افراد بے گھر، ہلاک اور زخمی ہو چکے، کروڑوں ڈالر کی املاک نذر آتش ہو چکیں، پھر بھی ہر طرف افراتفری، مایوسی، غیریقینی حالات، دہشت گردی کا سماں ہے۔

مذکورہ ممالک میں انتہاپسند گروہ القاعدہ، داعش، بوکو حرام، الشباب، انصار الصحرا، اسلامی تحریک، لیبین اسلامک گروپ، تیونسی جنگجو گروپ، انصارالاسلام اور اخوان المسلمین شامل ہیں۔ بوکوحرام نائیجیریا کا مذہبی انتہاپسند گروہ ہے جوبہت فعال اور متحرک ہے۔ اس کا منشور حکومت کا خاتمہ کر کے نائیجیریا میں اسلامی حکومت قائم کرنا ہے۔ بوکو حرام نے حال ہی میں اسکول کی چار سو بچیوں کو اغواء کر لیا تھا جن کو کئی دن بعد سودے بازی کر کے رہا کیا گیا۔ اغوا برائے تاوان، لوٹ مار ان کا پیشہ ہے۔ اس نوعیت کی وارداتیں اور جرائم افریقی ممالک میں عام ہیں۔

برّاعظم افریقہ کی مجموعی آبادی ایک ارب تیس کروڑ کے لگ بھگ ہے، رقبہ تین کروڑ چار لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ دو ہزار کے قریب بولیاں بولی جاتی ہیں، افریقہ کی تاریخ قدیم ہے، ماضی بعید میں اس خطّے میں انسانی تہذیب اور ثقافت کے شاندار آثار پائے گئے۔ سمندروں سے گھرا یہ برّاعظم شمال میں بحیرئہ روم، مغرب میں جنوبی بحر اوقیانوس، مشرق میں بحرہند، بحیرئہ احمر اور جنوب میں بحر اوقیانوس اور بحرہند کا دوآبہ ہے۔ قدیم یونانی اس برّاعظم کو لیبیا اور رومی افریقہ کہتے تھے۔ افریقی ملک نائیجر مذہبی، نسلی اور سیاسی انتہاپسندی کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ 

یہاں حال ہی میں انتہاپسندوں نے ہجوم پر فائرنگ کر کے ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کر دیا۔ نائیجر دُنیا کے دس غریب اور پسماندہ ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ برونڈی بھی پسماندہ ممالک کی فہرست میں شامل ہے وہاں نسلی، مذہبی اور قبائلی فسادات عام ہیں۔ ہزاروں افراد نقل مکانی کر نے پر مجبور ہیں۔ کچھ یہی حال ایتھوپیا، موزمبیق، ساحل، برکنیوماسو، کانگو، لیبیا، صومالیہ، جنوبی سوڈان اور انگولا کا ہے۔ کروڑوں عوام غربت کے ہاتھوں مجبور ہیں، خانہ جنگی مختلف تعصبات، خوراک کی کمی اور خراب حکمرانی کا شکار ہیں۔

تلخ سچائی یہ ہے کہ برّاعظم افریقہ کے ہر ملک کے ساتھ ماضی کے شدید رنج و الم، داستانِ غم و جبر کی داستانیں وابستہ ہیں۔ یہ پورا خطّہ صدیوں تک بیرونی مداخلت کاروں، لٹیروںاور جابروں کے ہاتھوں ظلم و استحصال کا شکار رہا ہے۔ انسانی اَلمیوں کی طویل داستانیں اس سے جڑی ہیں۔ پندرھویں اور سولھویں صدی میں یورپی انسانی اسمگلرز ہزاروں لاکھوں عورتوں، مرد اور بچوں کو اغواء کر کے انہیں بیرونی منڈیوں میں فروخت کرتے رہے۔ جن بحری جہازوں میں یہ انسانی اسمگلر اور بحری قزاق جانوروں کی طرح بادبانی جہازوں میں بھر کر انہیں یورپی منڈیوں اور نودریافت برّاعظم امریکہ کی منڈیوں میں فروخت کرتے رہے۔ 

بحری سفر کے دوران بہت سے قیدی مرد اورعورتیں ہلاک ہو جاتے اور انہیں سمندر برد کر دیا جاتا تھا۔ نصف سے کم تعداد زندہ مردوں کی طرح سانس لے رہی ہوتی وہ منڈی میں فروخت ہوتے تھے۔ پندرھویں اور سولھویں صدی میں پرتگیزی جہازراں سمندروں کی کھوج پر نکلے تھے۔ واسکوڈے گاما نے ہندوستان اور کولمبس نے امریکہ دریافت کیا تھا۔ قبل ازیں دُنیا برّاعظم شمالی جنوبی امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جاپان سے ناواقف تھی۔ آدھی دُنیا مزید دریافت ہونے کے بعد یورپی استعمار پسندوں نے دُنیا کے ان بڑے خطّوں پر اپنا قبضہ کرنا شروع کیا۔ یورپ کو ہمیشہ افرادی قوت کی کمی اور انسانی وسائل کی کمی کا احساس رہا، اسی لئے برّاعظم افریقہ سے غلاموں کی تجارت نے اس کمی کو بڑی حد تک دُور کیا۔ 

خصوصاً برّاعظم امریکہ میں افریقی غلاموں کے ذریعہ زراعت اور کان کنی کے شعبوں کو ترقّی دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی افریقہ میں پرتگیزی، ہسپانوی، فرانسیسی، برطانوی اور ولندیزیوں نے اپنی اپنی نوآبادیات قائم کیں، جبکہ شمالی امریکہ میں برطانوی اور فرانسیسی زیادہ غالب رہے جبکہ لاطینی یا جنوبی امریکی برّاعظم میں ہسپانوی نوآبادیات زیادہ قائم ہوئیں کچھ خطّوں میں پرتگیزی بھی حاوی رہے مثلاً جنوبی امریکہ کا بڑا ملک برازیل پرتگیزی کالونی رہا۔ جزائر غرب الہند میں بھی اکثر ہسپانویوں کے ساتھ پرتگیزی بھی کالونیاں قائم کرتے رہے۔

برّاعظم افریقہ معدنی وسائل اور قدرتی وسائل کے حوالے سے بہت اہم خطّہ تھا جہاںوافرمقدار میں لوہا، تانبا، ہیرے، سونا، کوبالٹ، جپسم، یورنیم، سلور، تیل، قدرتی گیس، کوئلہ، نمک، لکڑی اور گتّا دستیاب تھا۔ یورپی حکمرانوں نے اس برّاعظم کو نہایت بیدردی سے لوٹا غریب معصوم عوام مزید غربت پسماندگی اور افلاس کا شکار ہو کر رہ گئے۔ یہی نہیں بلکہ یورپی استحصال پسند حکمرانوں نے اپنے امیر شہریوں کو برّاعظم افریقہ میں خطّہ زمین اور کانیں خریدنے پر مائل کیا۔ افریقہ یورپی حکمرانوں کی لوٹ مار کے ساتھ امیر تعصب پسند شہریوں کے جبر و استحصال کا نشانہ بنتا رہا۔ افریقی ممالک لیبیا، نائیجیریا، الجزائر، انگولا اور مصر میں تیل اور دیگر معدنیات وافر مقدار میں دستیاب رہی ہیں۔ جنوبی افریقہ، انگولا، بیسٹوان، سیرالیون میں ہیرے قیمتی پتھر اور تانبا اہم تھے، کانوں میں افریقی غلام کام کرتے تھے، لوٹ کھسوٹ، جبر اور چیرہ دستیوں کا سلسلہ دراز تھا۔

گزشتہ تین چار دہائیوں میں بیش تر افریقی ممالک میں خانہ جنگی، مظاہرے، احتجاج اور بدامنی کا راج چلا آ رہا ہے۔ افریقی سیاستدانوںکو شدید شکوہ ہے کہ افریقہ گھمبیر مسائل کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا سرد مہری کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔ اسی طرح ضرورت مند ممالک کو بیرونی امداد بھی نہ ہونے کے برابر حاصل ہوتی رہی ہے۔ پھر عوام میں سیاسی شعور کے فقدان سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے شرپسند گروہ عوام کو فروعی مسائل میں اُلجھا کر اصل مسائل سے ان کی توجہ ہٹا دیتے ہیں۔ افریقی قوم افریقی معاشروں میں قبائلی تنازعات، دریائوں اور جھیلوں کے اطراف کی قابل کاشت زمینوں کے حصول اور مویشیوں کی چراہ گاہوں کے لئے تنازعات ہوتے رہے اس میں ہتھیاروں اور طاقت کا استعمال بھی ہوا۔ 

قبائلی سرداروں کے مابین مذاکرات بھی ہوتے رہے، تاہم پرامن بقائے باہمی کی بنیاد پر معاملات طے ہوتے رہے۔ سفید فام یورپی باشندوں کی افریقہ میں آمد نے صورت حال یکسر بدل دی۔ سفید فام باشندوں نے ظلم و جبر، نفرت اور تعصب کا بازار گرم کیا۔ پورے برّاعظم میں سراسیمگی، اضطراب پھیل گیا۔ مگر بہت سے افریقی قبائل نے اپنی روایات، طور طریقوں اور ثقافتی ورثوں کے تحفظ کی خاطر سفید فام استحصال پسندوں کے خلاف خون ریز جنگیں بھی لڑیں جن میں زولو قبیلے کا نام سرفہرست ہے۔ جنوبی اور وسطی افریقی خطّوں میں آباد جری زولو قبیلے نے سفید فام باشندوں، ان کی عسکری قوت کو زبردست نقصانات پہنچائے۔ حالانکہ زولو باشندوں نے یہ لڑائیاں اپنے روایتی ہتھیاروں نیزے، تیر کمان اور خنجروں سے لڑیں جبکہ سفید فام استعماریت پسندوں کے پاس منظم فوج، توپ خانہ اور بندوقیں تھیں مگر وہ زولو قبائل کا سامنا نہ کر سکے۔ مگر زیادہ علاقوں پر سفید فام استعماریت پسندوں نے غریب، نہتے افریقہ باشندوں کو زیر کیا۔

سترہویں صدی اور اس کے بعد کے اَدوار میں یورپی ممالک اور معاشروں میں خوشحالی اور ترقّی کی جو لہر اُبھری وہ افریقی عوام کی محنت، مشقت، قدرتی وسائل اور ان کے استحصال سے تعبیر ہے۔ یورپ اور مغرب کی ترقّی و خوشحالی میں دیگر خطّوں کے عوام کا خون پسینہ شامل ہے۔ غریب ممالک کے معصوم عوام کی ہڈّیوں پر مغرب کے ایوان تعمیر ہوئے ہیں۔ افریقہ میں آباد سفید فام خاندانوں کے پاس ہزاروں ایکڑ زرعی زمین، بعض معدنیات کی کانیں، صنعتی کارخانے اور تجارتی ذرائع حاصل ہیں مگر ان کے مقامی باشندوں کے ساتھ نوآبادیاتی دور کےطرز اور طریقے اور سلوک روا رکھا ہے۔ ان ممالک کے سیاسی رہنما، حکمراں اور مقامی افسران ان سفید فام بااثر خاندانوں کو لگام دینے سے قاصر ہیں۔ یہی اندازا یورپی اور مغربی تجارتی اداروں کا ہے۔

ہرچند کہ گزشتہ چند عشروں میں افریقی بیشتر ممالک کےشہروں میں جدید کلچر کے طور طریقے جابجا نظر آتے ہیں۔ مرد اور خواتین جو تعلیم یافتہ ہیں مغربی لباس، رہن سہن اور بول چال میں جدّت پسند نظر آتے ہیں مگر دیہی علاقوں میں تاحال قدیم افریقی ثقافت، فنون لطیفہ نمایاں نظر آتا ہے۔ افریقی عوام کو قدرتی طور پر رقص، موسیقی، نقش و نگار سے والہانہ لگائو رہا ہے اور وہ ابھی بھی تازہ ہے۔ 2011ء سے عرب اسپرنگ عوامی مظاہروں اور احتجاج کی تحریکیں جو شمالی افریقی ممالک سے شروع ہوئی اور پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس عرب اسپرنگ کے بھونچال کا لیبیا کے حکمراں کرنل قذافی، مصر کے حکمراں، یمن کے حکمراں شکار ہوگئے۔ شام اب تک اس بھونچال کا شکار ہے۔ صدر اسعد ایران اور روس کی حمایت کی وجہ سے اب بھی حکمراں ہیں۔ مگر یہ خطّہ آگ میں جھلس رہا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سیاسی مہم جوئی کے ذریعہ بہت سے عالمی معاملات کو ایک نیا رُخ دیدیا ہرچند کہ ان کےچار سالہ دور حکومت میں امریکہ نے کوئی محاذ گرم نہیں کیا مگر انہوں نے اپنی سیاسی ناتجربہ کاری سے معاملات کو مزید اُلجھا دیا۔ 

صدر ٹرمپ کی ان پالیسیوں کے اُلجھائو کا شکار بعض افریقی ممالک بھی ہوئے مگر بیشتر افریقی سیاستدانوں نے نئے امریکی صدر جوبائیڈن سے بہت سی توقعات وابستہ کر رکھی تھیں۔ اب جبکہ امریکی صدرجو بائیڈن نےنئی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اپنے پتّے ظاہر کرنے شروع کر دیئے ہیں اور تو افریقی ممالک کے وہ رہنما جو صدر بائیڈن سے کچھ اچانک بہتری کی توقعات رکھتے تھے وہ اب گومگو کا شکار نظر آتے ہیں صدر بائیڈن کہتے ہیں امریکہ فرسٹ کی داخلی پالیسی دُرست کرنا ہے۔ کووڈ کا بھرپور انداز میں سامنا کرنا ہے۔ معیشت کو مستحکم کرنا ہے، امریکہ کے اتحادیوں سے تعلقات بہتر بنانا ہے، ماحولیات کے معاہدہ میں دوبارہ شمولیت اختیار کرنا ہے وغیرہ ان میں سے کچھ پر صدر بائیڈن نے پیش رفت کر لی ہے۔ صدر بائیڈن نے اپنی خارجہ پالیسی میں جمہوری اقدار پر انسانی حقوق اوراظہار رائے کی آزادی کے نعروں کے ساتھ جو تلوار اُٹھائی ہے دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس حد تک مؤثر ثابت ہوتی ہے اور امریکہ اپنی بات کس حد منوا سکتا ہے۔ 

درحقیقت یہ نعرے چین کوکائونٹر کرنے کے لئے لگائے جا رہے ہیں۔ مگر چین پر اس کا کوئی اثر نہیں نظر آتا اس کا مظاہرہ حالیہ الاسکا دوطرفہ کانفرنس میں سب کو نظر آیا جس میں چینی وزیر خارجہ کا بیانیہ ابتداء سے اختتام اجاس تک چھایا رہا۔ امریکی وزیر خارجہ ایک طرح سے دفاعی انداز اپناتے نظر آئے۔ افریقی سیاسی رہنمائوں کو امریکی خارجہ پالیسی کے حالیہ نعروں سے زیادہ دلچسپی نظر نہیں آتی ان کے مسائل اقتصادی، سیاسی اور انتظامی ہیں جن کو حل کرنے کے لئے انہیں امریکہ سمیت دیگر ترقّی یافتہ ممالک سے اقتصادی امداد، اناج، دوائیں اور کووڈ کی ویکسین درکار ہے۔ مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کا ادارہ بھی ہرچند کہ افریقی ممالک میں جاری خانہ جنگی، بدامنی، دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہیں اقوام متحدہ کےپرچم تلے کچھ امن فوج کے بھی دستے بھجوا دیتے ہیں مگرواقعی ان مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوششیں نظر نہیں آتی۔ یہ عمومی رویہ سرد جنگ کے دور میں بھی ترقّی پذیرممالک دیکھ چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے افریقی ممالک کے حوالے سے ہائی الرٹ پریس ریلیز جاری کرتے رہتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل خطرناک ترین ممالک کی فہرست جاری کی ہے اس کے مطابق خصوصی طور پر امریکی اور یورپی ممالک کے شہریوں کو ان ممالک کی سیاحت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ان ممالک میں سرفہرست دس ممالک جنوبی سوڈان، صومالیہ، وسطی جمہوری افریقہ، مالی، لیبیا، برونڈی، کیمرون، موریطانیہ اور نائیجیریا ہیں۔ اس کے علاوہ خطرناک ترین کیٹیگری تین کی فہرست میں برونڈی، چاڈ، کیمرون، گنی بسائو، موریطانیہ، موزمبیق، جنوبی افریقہ (شمالی زون) شامل ہیں۔

مذکورہ خطرناک افریقی ممالک میں ایک عرصہ سے خانہ جنگی، بدامنی، مسلح گروہوں کے تصادم، انتہاپسندی، اغوا برائے تاوان، دہشت گردی جاری ہے۔ اسٹریٹ کرائم، جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات عام ہیں۔ امریکی، یورپی، کینیڈین اور دیگر امیرممالک کے شہریوں کو اغوا کر کےیرغمالی بنا کر رکھا جاتا ہے اور خطیر رقومات کی سودے بازی کی جاتی ہے۔ ایسے میں مرد اورعورت یا بچّے کی تخصیص نہیں ہے۔ دہشت گردی، انتہاپسندی اور مسلح جدوجہد میں شامل گرو کی آمدنی کا یہ ایک اہم ذریعہ ہے۔ اگر پھر بھی کوئی جانا چاہتا ہے تو اس کو حلف نامہ جمع کرانا ہوتا ہے کہ وہ اپنے رسک پر جارہا ہے۔ اپنے نقصان کا میں ذمہ دار ہوں گا۔ حال ہی میں امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے افریقی ممالک کی غربت اور پسماندگی کے حوالے سے ایک سروے رپورٹ شائع کی ہے جس میں دس غریب ترین افریقی ممالک کی فہرست جاری کی ہے جو غربت کی لکیر کے نیچے کم ترین سالانہ آمدن پر زندہ ہیں۔ 

ان ممالک میں گامبیا، سیرالیون، ٹوگو، یوگنڈا، روانڈا، زمبابوے، گھانا اور بینائن شامل ہیں۔ گزشتہ سال غریب افریقی ممالک کی یونیسیف کی طرف جاری فہرست میں صومالیہ، وسطی افریقہ، کانگو، برونڈی، لائبیریا، نائجر، مالی، موزمبیق اور اریٹیریا کے نام شامل تھے۔ مذکورہ ممالک میں بیروزگاری، خوراک کی کمی، خشک سالی اور موسمی تغیرات سے عوامی مشکلات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ جنگجو اور جہادی گروہوں کی کارروائیاں الگ عوام پر قیامت ڈھاتی رہتی ہیں۔ اس وسیع تناظر میں سیاسی تجزیہ کاروں کو یہ خدشات لاحق ہیں کہ یمن میں جلد امن قائم کرنے کی کوششیں ثمرآور ثابت نہیں ہوئیں تو اس کی حدت افریقہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔