آپ آف لائن ہیں
ہفتہ4؍رمضان المبارک 1442ھ 17؍اپریل 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لاک ڈاؤن میں نرمی اور عالمی سفر کی اجازت، وزیراعظم برطانیہ کے فیصلوں پر تنقید

راچڈیل(ہارون مرزا)حکومت کے سرکاری سائنسی مشیروں نے متنبہ کیا ہے کہ وزیر اعظم بورس جانسن کی طرف سے لاک ڈائون اقدامات میں نرمی سے عالمی وباء کورونا دوبارہ زور پکڑ سکتی ہے اور موسم گرما میں اس کے عروج کے خطرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وزیراعظم بورس جانسن کی طرف سے 12 اپریل سے انگلینڈ میں دوکانیں، ہیئر ڈریسرز پبس ، بیئر گارڈن وغیرہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے مگر قواعدو ضوابط کی پاسداری پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم سائنسی مشیروں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ لندن اسکول آف ہائجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے ماہرین کے ایک مقالے میں کہا گیا ہے کہ روڈ میپ کے حالیہ اقدامات سے کورونا کی شرح میں اضافے کا خدشہ موجود ہے،کورونا پابندیوں کے خاتمے کی صورت میں حالات تبدیل ہو سکتے ہیں جس کیلئے تیاری کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے متنبہ کیا کہ ان کے نتائج ابتدائی ہیں اور روڈ میپ کے آخری مراحل کے بارے میں مایوسی سے متعلق مفروضے بنائے گئے ہیں لیکن یونیورسٹی آف واروک کے سائنس دانوں نے بھی کچھ ایسا ہی نتیجہ اخذ کیا کہ انفیکشن کی شرح میں غیر محتاط رویہ تشویشناک ہو سکتا ہے، یہ تبصرے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر پروفیسر کرس وائٹی نے متنبہ کیا تھا کہ کورونا وائرس مستقبل میں بھی ہمارے ساتھ رہے گاجب کہ چیف سائنسی مشیر سر پیٹرک والنس نے بتایا کہ وبائی بیماری کے نتیجے میں طویل مدتی تبدیلیاں آسکتی ہیں۔علاوہ ازیں وزیرا عظم بورس جانسن کی طرف سے بین الاقوامی سفر کی اجازت دینے کیلئے ٹریفک لائٹ سسٹم کے تحت گرین لسٹ والے ممالک کے مسافروں کیلئے کورونا ٹیسٹ کی دوبارہ جانچ کی پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ایوی ایشن سربراہان اور ہوائی اڈوں کے مالکان نے اسے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم بورس جانسن کی بین الاقوامی سفر کی بحالی کیلئے ٹریفک لائٹ سسٹم میں سبز،عنبر، سرخ رنگوں کا استعمال کرتے ہوئے مختلف ممالک کیلئے معیارات طے کیے گئے ہیں۔ ایزی جیٹ کے چیف ایگزیکٹو جوہن گرن نے کہا کہ کورونا جانچ کی ضرورت کو ختم کیا جانا چاہیے، سبز رنگ ممالک پر سختیاں نہیں ہونی چاہیے، لیبارٹری پر مبنی پی سی آر ٹیسٹوں کے لئے ادائیگی کرنے پر بھاری لاگت آئے گی جس سے مسافروں پر اضافی بوجھ پڑے گا تمام مسافر ان بے جا اخراجات کے متحمل نہیں ہو سکتے انہوں نے کہا کہ یہ منصفانہ اور درست اقدام نہیں ہوگا ۔دوسری طرف ورجن اٹلانٹک کے چیف ایگزیکٹو شائی وائس نے بھی اسی طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس جانچ کی پابندی سے مہنگے نظام سے مسافروں کو اذیت ہوگی اور کاروباری افراد ان ٹیسٹوں سے بچنے کیلئے سفر سے گریز کر سکتے ہیں یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب بورس جانسن نے کہا تھا کہ وہ 17 مئی سے غیر ملکی سفر دوبارہ شروع کرنے کے لیے پُرامیدہیں لیکن انہوں نے روڈ میپ کی تاریخ کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا، یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومتی منصوبے کے مطابق سبز رنگ کی فہرست میں شامل ممالک کے مسافروں کو قرنطین کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی تاہم پرواز سے قبل اور بعد میں انہیں کورونا ٹیسٹ سے گزرنا پڑےگا۔ریڈ لسٹ والے ممالک سے واپس آنے والوں کو دس دن تک ہوٹل میں قرنطین ہونا پڑے گا جب کہ عنبر رنگ کی فہرست میں شامل ممالک سے آنے والے افراد کو گھر میں الگ تھلگ یعنی سیلف آئسولیٹ میں رہنا ہوگا۔یوکے میں واپس آنے والے مسافروں کو روانگی سے قبل فی الحال پی سی آر ٹیسٹ دینا لازم ہے۔ 

یورپ سے سے مزید