این اے۔ 75ڈسکہ میں سہ فریقی انتخابی مقابلہ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

این اے۔ 75ڈسکہ میں سہ فریقی انتخابی مقابلہ

اسلام آباد (طارق بٹ) این اے۔75 ڈسکہ سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب میں سہ فریقی مقابلہ یہ طے کر دے گا کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا اُمیدوار مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی ہار یا جیت پر کس قدر اثرانداز ہوگا۔

 اب تک تو توجہ دو بڑی جماعتوں کے امیدواروں پر مرکوز رہی ہے۔ 2018ء کے عام انتخابات میں گو کہ ٹی ایل پی کے امیدوار جیت نہیں سکے لیکن وہ اچھی خاصی تعداد میں ووٹ سمیٹنے میں کامیاب رہے۔

 سپریم کورٹ کے گزشتہ دو اپریل کو فیصلے کے تحت ضمنی انتخابی عمل کو کالعدم قرار دینے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا اور اب ضمنی انتخاب کے لئے اُمیدوار محتاط اور احتیاط سے مہم چلا رہے ہیں تا کہ الیکشن کمیشن کو کسی شکایت کا موقع نہ ملے۔ 

قبائلی علاقے کی ایک نشست کے علاوہ تمام ضمنی انتخابات اپوزیشن جماعتوں کے امیدواروں نے جیتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کرایا ہے۔ 

اس بار انتخابی مہم کارنر میٹنگز تک محدود رہی یا پھر گھر گھر جا کر ووٹ مانگے گئے۔ الیکشن کمیشن نے پریزائیڈنگ افسران کو اسمارٹ فون رکھنے کے لئے کہا ہے تا کہ ان سے فوری رابطے میں آسانی ہو۔

اہم خبریں سے مزید