سردار وہی ہے کہ جو سر،دار پہ لائے
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ستمبر 2020میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی انتھک کوششو ں سے تشکیل پانے والے اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کو ختم کرنے کے لئے اتحاد میں شامل مسلم لیگ نواز اور جے یو آئی نے جس طرح پیپلز پارٹی اور اے این پی کو شو کاز نوٹس بھیجے ہیں اور ان کی سیاسی ساکھ کو عوام میں متاثر کرنے کی کوشش کی ہے وہ حیران کن ہے ۔ پی ڈی ایم ایک سیاسی اتحاد ہے جس میں شامل تمام جماعتیں واحد، متفقہ مقصد کے لئے اکٹھی ہوئی تھیں۔ یعنی موجودہ سلیکٹڈ حکومت کو ختم کرنا اور ملکی سیاست میں غیر جمہوری طاقتوں کی دیرینہ دخل اندازی کو روکنا۔اس اتحاد میں تمام جماعتیں اپنی آزادانہ جماعتی حیثیت سے شامل ہوئیں ۔ ان میں کسی جماعت کی بالا دستی کا کوئی تصّور نہیں تھا۔ لہٰذا کسی اختلاف ِ رائے کی صورت میں ضروری تھا کہ اسے میڈیا میں لانے کی بجائے اتحاد کے اندر اس پر بات کی جاتی نہ کہ دوسروں کو شوکاز نوٹس بھیجے جاتے۔ کیونکہ شوکاز نوٹس اپنے ماتحتوں کو بھیجے جاتے ہیں۔ جبکہ اتحادیوں کو شوکاز نوٹس بھیجنا نہ صرف ان کی توہین کے زمرے میں آتا ہے بلکہ اس کا پوشیدہ مقصد اس اتحاد کو سبوتاژ کرنا یا اس کی آڑ میں اپنے دیگر مقاصد پورے کرنا ہوتا ہے۔ اسی توہین آمیز رویے کے خلاف اے این پی نے احتجاج کے طور پر پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان کردیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے اس کا سخت جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

پی ڈی ایم نے اپنے 6ماہ کے اتحاد کے دوران جلسے جلوسوں سے لیکر ضمنی اور سینیٹ کے انتخابات کے دوران جو کامیابیاں حاصل کی تھیں انہوں نے موجودہ حکومت اور اس کے سرپرستوں کو بیک فٹ پر لا کھڑا کیا تھا۔ ایسے میں یوسف رضا گیلانی کی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں دھاندلی کے ذریعے شکست کے بعد نواز لیگ کے طلال چودھری کی بلاول بھٹو زرداری کے خلاف طنزیہ ٹویٹ کا کوئی جواز نہ تھا۔ لیکن محترمہ مریم نواز نے طلال چودھری سے باز پرس کرنے کی بجائے اپنی ٹویٹ میں بلاول بھٹو کو نیا سلیکٹڈ قرار دے کر جلتی پر تیل کا کام کردیا۔ اگر پیپلز پارٹی کے کسی اقدام سے نواز لیگ پا پی ڈی ایم کی کسی جماعت کو اختلاف تھا تو اس کا واحد طریقہ پی ڈی ایم کے اندر اس کی وضاحت مانگنا تھا۔ اپنی حلیف جماعتوں پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز کا کھلے عام الزام لگانا نہ صرف سیاسی نا پختگی کا مظاہرہ ہے بلکہ دوسری جماعتوں کو اس بات پر مجبور کرنا ہے کہ وہ بھی ان کے ماضی اور حال کی ان سازشوں کا کھلے عام اظہار کریں جنہیں وہ اپنے ’’اتحاد‘‘ کے تقاضوں کے تحت بیان نہیں کرنا چاہتے ۔ پیپلز پارٹی پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساز باز کا الزام لگانے والے کیا اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ اس کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے خاندان نے اپنی جانوں کی قربانی سے لے کر سالوں تک جو صعوبتیں برداشت کی ہیں، کیا ان کا عشر ِ عشیر بھی نوازلیگ سمیت کسی سیاسی جماعت نے بھگتا ہے؟ کیا ذوالفقار علی بھٹو اپنی جان بچانے کے لئے معافی مانگ کر بیرونِ ملک سیاسی پناہ حاصل نہیں کر سکتے تھے؟ کیا وجہ ہے کہ میاں نواز شریف ہر مرتبہ ملک میں رہ کر اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کرنے کی بجائے بیرونِ ملک فرار ہو تے رہے ہیں؟ ماضی بعید کو تو چھوڑیے ماضی قریب میں بھی میاں صاحب جیل کی تکلیفیں برداشت نہیں کر سکے۔ کیا نواز لیگ کے ترجمان عوام کو اس ’’ راز‘‘ سے آگاہ کر یں گے کہ انہیں کس نے بیرونِ ملک روانہ کیا تھا؟ وہ بیرونِ ملک جا کر ایک طویل عرصے تک کیوں خاموش بیٹھے رہے اور جب ان کے ترجمان محمد زبیر نے آرمی چیف سے ’’اتفاقیہ ‘‘ ملاقات کی تو اس کے بعد اچانک بیرونِ ملک مقیم میاں صاحب کیوں سیخ پا ہو گئے ؟انکی حکومت ختم کرنے اور عمران خان کو اقتدار میں لانے والے بقول انکے جنرل باجوہ کی مدّتِ ملازمت میں توسیع کے لئے نواز شریف نے کیوں نہ صرف انکی ’’ تائید‘‘ کی بلکہ دوسری جماعتوں کو اسکی تلقین بھی کرتے رہے؟سینیٹ الیکشن میںکس کے کہنے پر مسلم لیگ نے پنجاب میں پی ٹی آئی اور ق لیگ کے ساتھ ملکر کامل علی آغا کی اضافی سیٹ بھی حکومتی کھاتے میں ڈال دی۔پیپلز پارٹی کے گڑھ لاڑکانہ میں کیوں جے یو آئی نے پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کیا؟ مسلم لیگ اور جے یو آئی نے کیوں اچانک لانگ مارچ کو استعفوں کے ساتھ نتھی کردیا جبکہ پی ڈی ایم اسمبلیوں کے اندر رہ کر حکومت کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر رہی تھی۔ صرف اس لئے کہ یہ کامیابیاں پیپلز پارٹی کی حکمت ِ عملی کا نتیجہ تھیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ عوامی حاکمیت یا عوام کے حقیقی نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ پی ڈی ایم جیسے اتحاد کو مضبوط بنایا جائے۔ کیونکہ اکیلے کوئی پارٹی بھی یہ جنگ نہیں جیت سکتی۔ کاش میاں نواز شریف جس حکمتِ عملی سے ہر مرتبہ اپنی جان بچا کر بیرونِ ملک فرار ہو جانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔ اس طرح کی کسی حکمتِ عملی سے وہ پاکستان میں جمہوریت اور عوامی حاکمیت کو بحال کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں۔ وگرنہ وہ الزام کی ایک انگلی دوسروں کی طرف اُٹھا ئیں گے تو چار انگلیاں انکی طرف بھی اٹھیں گی۔

کاندھے پہ تو ہر شخص لئے پھرتا ہے سرکو

سردار وہی ہے کہ جو سر،دار پہ لائے

تازہ ترین