آئی اے رحمٰن کی رخصتی
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
روز آشنائی … تنویرزمان خان، لندن
ابن عبدالرحمان بھی راہی ملک عدم ہوگئے۔ امن اور انسانی حقوق کیلئے اٹھنے والی ایک بلند آواز خاموش ہوگئی۔ استاد اور رہنمائے صحافت ایک کالم نگار قلم سے ناطہ توڑکے ابدی نیند سوگیا۔ رحمان صاحب کے ساتھ اپنے اپنے تعلق کے حوالے سے بہت سے لوگ بہت کچھ لکھ رہے ہیں۔ ویڈیو بنارہے ہیں۔ رحمان صاحب کو کتنے لوگوں نے اپنے رنگ میں خود سے جوڑا ہوا تھا۔ اس کا اندازہ ان پر لکھے جانے والے کالمز تحریروں اور محفلوں سے ہوتا ہے جہاں ان کا ذکر چل رہا ہے۔ رحمان صاحب ایک پورے دور کا نام ہےیعنی کئی دہائیوں پر پھیلی تاریخ کے گواہ 92 برس کی عمومی ستر سال کی متحرک تاریخ۔ ارد گرد ہونے والے واقعات اور تاریخ کے نت نئے موڑ۔ ملک کی ڈولتی بدلتی تقدیر۔ انسانی حقوق سے محروم ہوتے اور پستے ہوئے طبقات کی چیخ و پکار۔ ٹوٹتا ہوا ملک اور لٹتے ہوئے عوام۔ کیا نہیں دیکھا اور محسوس کیا۔ رحمان صاحب نے پھر اس سب پر انسان دوستی کا پرچم بلند رکھا۔ یہ سب آئی اے رحمان کا خواصہ ہے یہی ان کی شخصیت کا رنگ ہے۔آج میں بھی قلم اٹھائے ان پر ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کچھ لکھنے بیٹھ گیا ہوں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ میں آپ سے ان چند لمحات کا ذکر کروں جو میں نے ان کی قربت میں گزارے۔ جو فقط رحمان صاحب کے ساتھ میری یادیں ہیں کوئی سنی سنائی باتیں نہیں۔ ابھی گزشتہ برس کی بات ہے کہ میری کتاب شائع ہونے والی تھی۔ رحمان صاحب سے درخواست کی کہ میری کتاب کا دیباچہ لکھ دیں تو رحمان صاحب نے کوئی تامل برتے بغیر نا صرف حامی بھری بلکہ بہت جلد لکھ بھی دیا۔ میں حیران رہ گیا کہ رحمان صاحب نے جو تحریر لکھ کے بھیجی میری پوری زندگی کا خلاصہ لکھ ڈالا۔ میں حیران تھا کہ رحمان صاحب میرے بارے میں اتنا زیادہ جانتے تھے حالانکہ میں تو کئی دہائیوں سے لندن میں مقیم ہوں۔ اب میری خوش قسمتی دیکھئے کہ ان کی وہ تحریر اور میری کتاب مستقل طور پر ساتھ بندھ گئے ہیں جو کہ میرا فخر اور یادگار ہے، ایک دفعہ 2011 کی بات ہے۔ جب میں لندن میں فیض صاحب کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں فیض میلے کا چیف کوآرڈینیٹر تھا اور بعد میں فیض کلچرل فاؤنڈیشن بننے کے بعد اس کا سیکریٹری جنرل منتخب ہوا تھا۔ میں اسی صد سالہ تقریب کے سلسلے میں لاہور گیا۔ جانے سے پہلے یہاں لندن میں رحمان صاحب کے جگری دوست اور صحافت و سیاست میں صبح شام کے ساتھ پروفیسر امین مغل صاحب سے ملا۔ ان سے فیض میلے کی تفصیلات کا ذکر کیا اور پوچھا کہ میں نے لاہورمیں آپ کے دوست رحمان صاحب سے ملنا ہے اور انہیں فیض میلہ میں شرکت کیلئے لندن آنے کی دعوت دینی ہے تو کیا وہ رضا مند ہوں گے اور لندن آگئےتو کہ کیا وہ آپ کے پاس ٹھہر سکیں گے۔ ویسے تو یہ سب امین صاحب سے پوچھنا ہی بے معنی سی بات تھی۔ کیونکہ ویسے تو میرا بھی امین صاحب کے ساتھ اتنا تو محبت اور احترام کا رشتہ تھا کہ انہوں نے کیا کہنا تھا لیکن جب میں نے رحمان صاحب کا ذکر کیا تو امین صاحب مسکرائے اور کہا کہ یار اور رحمان کہاں جائے گا تو بس مزید بات کی ضرورت ہی نہ رہی۔ میں لاہور گیا اور HRCPکے دفتر واقع ٹیپو بلاک گارڈن ٹاؤن رحمان صاحب سے ملا۔ ویسے تو HRCPمیں میرے اور بھی چند دوست تھے۔ جنہیں میں ملا رحمان صاحب نے بڑی شفقت اور پیارے سے مجھے بٹھایا اور فورا چائے منگوائی ۔ میں نے انہیں فیض میلہ لندن کیلئے باضابطہ دعوت نامہ پیش کیا۔ رحمان صاحب نے فورا بخوشی دعوت قبول کی۔ میرے ذہن میں تو تھا کہ بوجھ عمر کوئی صحت آڑے نہ آجائے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ہم نے دیگر تفصیلات طے کیں۔ کچھ دوستوں کے حال احوال اور کچھ امین مغل صاحب کی چغلی نما باتیں کیں۔ اس کے بعد پھر لندن ائیر پورٹ پر ہی رحمان صاحب کا استقبال کیا اور رحمان صاحب کو ان کے یار سیاست و صحافت پروفیسر امین مغل صاحب کے پاس پہنچا دیا۔ پھر لندن میں ان کے ساتھ کچھ ملاقاتیں تو ہوئیں لیکن جب بھی لاہور گیا رحمان صاحب کے پاس ضرور حاضری لگوائی۔ ہمیشہ سب احباب کا حال احوال پوچھتے اور سرگرمیوں کا ذکر کرتے۔ایک مرتبہ ان کے ساتھ لاہور میں خاور نعیم ہاشمی کی صاحبزادی کی شادی پر ملاقات ہوئی میں بھی شادی میں شریک تھا۔ وہاں رحمان صاحب بھی تھے ۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور اپنے پاس بلالیا۔ ہم تقریبا ایک گھنٹہ اکٹھے بیٹھے رہے اور وقفوں وقفوں سے باتیں کرتے رہے۔ وہاں میں نے دیکھا کہ رحمان صاحب کی صورتحال پیروں جیسی ہے۔ جتنے صحافی اور سیاسی لوگ اس تقریب میں آرہے تھے۔ کس کس کا نام لوں ۔ بس یوں سمجھیے کہ لاہور کا کوئی نامی گرامی صحافی ایسا نہیں تھا جو پہلے آکررحمان صاحب کے گھٹنے چھو کر سلام نہ کرتا ہو۔ ہر ایک کی زبان پر استاد محترم، پیر جی وغیرہ جیسے القابات اور سب رحمان صاحب کا اشیر باد لیکر بڑھتے۔ اور بھی کئی واقعات ہیں لیکن سب اس کالم میں سمیٹ نہیں سکتا لیکن آئندہ تحریروں میں ضرور شئیر کروں گا۔بس آخر میں اتنا کہوں گاکہ رحمان صاحب ہم سب کا فخر تھے اور ہمیشہ سوچوں اور دلوں میں زندہ رہیں گے۔
یورپ سے سے مزید