مختلف شہروں میں قیامت خیز گرمی، مرغیاں اور پرندے ہلاک، بجلی اور پانی نایاب، عوام نڈھال، درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مختلف شہروں میں قیامت خیز گرمی، مرغیاں اور پرندے ہلاک، بجلی اور پانی نایاب، عوام نڈھال، درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ

سکھر+میرپورخاص+میرپور ماتھیلو(بیورو رپورٹ +نا مہ نگاران) مختلف شہروں میں قیامت خیز گرمی، مر غیاں اورپرندے ہلاک، بجلی اور پانی نایاب، عوام نڈھال،درجہ حرارت43 ڈ گری سینٹی گریڈ،سکھرروہڑی سمیت گرد و نواح کے علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہونے لگا۔ دوپہر میں دھوپ سے بچنے اور گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لئے لوگ ٹھنڈے مشروبات کا استعمال کررہے ہیں اور مختلف علاقوں میں قائم دوکانوں ٹھیلوں سے گنے کا جوس، املی ، آلو بخارے لیموں سمیت دیگر اقسام کے مشروبات کا استعمال کرکے گرمی کی شدت کو کم کررہے ہیں، جبکہ ٹھنڈے مشروبات کے ساتھ برف کی مانگ بھی بھی اضافہ ہوگیا ہے سکھر، روہڑی، صالح پٹ، کندھرا، علی واہن، اروڑ، بچل شاہ میانی، باگڑجی، تماچانی و دیگر علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، موجودہ گرمی کی لہر میں دوپہر کے وقت موسم گرم رہتا ہے، جبکہ صبح اور شام گئے موسم میں تبدیلی آنا شروع ہوجاتی ہے شام سے رات گئے تک چلنے والی ہواوں کے باعث گرمی کی شدت نہ صرف کم بلکہ انتہائی کم ہوجاتی ہے جبکہ دوپہر 12 بجے کے بعد سے شام 4 بجے تک گرمی کی شدت زیادہ تھی، اس دوران شہر کے اہم کاروباری مراکز اور شاہراہوں پر سرگرمیاں تجارتی اور معمول کی سرگرمیاں بھی کم دکھائی دے رہی ہیں ۔میرپورخاص سمیت اندرون سندھ قیامت خیز گرمی, متعدد مرغی اور پرندے ہلاک،گرم موسم میںبجلی اور پانی نایابمجبور عوام نڈھال ہوکر رہ گئے۔ضلع انتظامیہ اور محکمہ صحت نے عوام کو مکمل طور پر بدترین گرم موسم کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔میرپورخاص اور اس کے گردونواح کے علاقے پیر کو بھی گرمی کی شدیدلپیٹ میں رہے,صبح ہی سےجلال میں آئے ہوئےسورج کی تپش اور بدن کو جھلسا دینے والی لوکے تھپیڑوں نےغریب عوام کی چیخیں نکال دیں،گلی,محلوں,سڑکوں اور بازاروں میں صبح ہی سےہوکا عالم تھا,اندرون ضلع کے علاوہ قریبی اضلاع سے کام کاج اور سامان کی خریداری کے لیے شہر آنے والوں کی تعداد بھی خاصی کم رہی ،جس کے باعث کاروباری,تعمیراتی اور صنعتی سرگرمیاں مانند پڑگئیں,برف اور مشروبات کی مانگ میں اضافہ ہوگیا,گرمی کی شدت سے بچنے کے لیئے من چلے نوجوانوں نے نہروں اور تالابوں کا رخ کرلیا.سخت گرمی کی وجہ سے مختلف بیماریوں میں اضافہ کے باعث سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں میں مریضوں کا ہجوم لگ گیا۔دوسری جانب مقامی ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے قیامت خیز گرمی سے لاتعلقی اختیار کیا ہوئےہے ،ہیٹ اسٹروکس سے بچاؤ کے لیئے اب تک کوئی انتظامات دیکھنے میں نہیں آرہے ہیں۔ جس کے باعث شہریوں کی جان شدید خطرے سے دوچار ہے۔میرپور ماتھیلواوراسکےگردونواح میں گرمی کی شدت میں اضافہ پیرکےروزدرجہ حرارت43سینٹی گریڈکوچھوگیا برف اورٹھنڈے مشروبات کے استعمال میں اضافہ ،تعمیراتی کاموں پرمزدوری کرنےوالےافراد دھوپ اور گرمی سےپریشان جبکہ کھلیانوں میں گندم کی کٹائی کرنےوالے کاشت کاروں کوگرمی کاسامناکر نا پڑا۔

ملک بھر سے سے مزید