دیامر بھاشا سمیت 60ڈیموں کیلئے فنڈنگ جاری ہے‘ ملک عابد حسین
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دیامر بھاشا سمیت 60ڈیموں کیلئے فنڈنگ جاری ہے‘ ملک عابد حسین

راولپنڈی (خبر نگار خصوصی) پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی راولپنڈی کے وائس چیئرمین ملک عابد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت دنیا بھر میں ڈیم بنانے والوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر آ گیا ہے جہاں تاریخ میں پہلی مرتبہ تیزی سے ڈیم بنائے جا رہے ہیں۔ اپنے آفس میں ملاقات کیلئے آنے والے پارٹی رہنمائوں اور وفود سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت 60بڑے، درمیانے اور چھوٹے ڈیموں کیلئے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں وفاقی حکومت فنڈنگ کر رہی ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔ جن لوگوں کو 70سال کرپشن نظر نہیں آئی انہیں بہتری کیلئے جاری اقدامات اور تبدیلی کیسے نظر آئیگی؟ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کے پار بھاری مشینری اور تعمیراتی سامان کی نقل و حمل کو تیز کرنے کیلئے کیبل وے برج 2کو آپریشنل کر دیا گیا ہے جو205 میٹر لمبا ہے اور 6فٹ کیرج وے پر مشتمل ہے۔ اس کیبل وے پل میں 80ٹن وزن لے جانے کی صلاحیت ہے۔ ملک عابد حسین نے کہا کہ عمران خان بطور وزیراعظم پاکستان کیلئے وہ کچھ کر رہے ہیں جو بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا مگر ہمارے استحصالی اور لوٹ مار کلچر کو فروغ دینے والے نظام نے ملک و ملت کے اصل مرض کی تشخیص کئے بناء درد کش ادویات دیکر مرض بڑھانے کے سوا کچھ نہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم دہائیوں بعد بن رہا ہے جو کہ پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین میگا پروجیکٹ ہے۔ 8.1ایم اے ایف سٹوریج کا حامل یہ ڈیم ایک اعشاریہ 23ملین ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کی گنجائش رکھتا ہے جبکہ 4500میگاواٹ سستی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے ساتھ اس منصوبے سے نیشنل گرڈ کو سالانہ 18ارب یونٹ سے زیادہ بجلی کی فراہمی ممکن ہو گی۔ ملک عابد حسین نے کہا کہ یہی ہمارا نیا پاکستان ہۓ‘ وزیراعظم کے کلین اینڈ گرین پاکستان منصوبے میں ان ڈیموں کی تعمیر بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ہماری بنجر زمینوں کی آباد کاری، پانی کی فراوانی، سستی اور زیادہ بجلی کی پیداوار، ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کیلئے جنگلات کے فروغ میں معاونت اور روزگار کے بے شمار مواقع سے ان منصوبوں کے دور رس نتائج ملک کو ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا کر دینگے۔ انہوں نے کہا کہ 70سال سے بوئے جانے والے کرپشن کے بیج اب تناور درخت بن چکے ہیں جن کی جڑیں کاٹنا آسان نہیں مگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عزم صمیم کے ساتھ اس ناسور کے خاتمے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ عقل و شعور اور آگہی رکھنے والے ہمارے دانشور درست کہہ رہے ہیں کہ استحصالی نظام کے پروردہ لوگوں کو ستر سال کرپشن نظر نہیں آئی تو انہیں یہ تبدیلی کیسے نظر آئے گی؟ پاکستان کی تعمیرو ترقی کے یہ حقیقی منصوبے تیار ہو کر خود تبدیلی کا اعلان کرینگے۔ انہو ںنےمزید کہا کہ آج ہماری ضرورت ہے کہ ملک کے محب وطن تمام شہری وطن عزیز کو کرپشن کی دلدل سے نکال کر ترقی و خوشحالی کی راہ پر ڈالنے کے عمل میں اپنی حکومت کا ساتھ دیں۔ ہماری حکومت وہ کچھ کررہی ہے جو نظریہ پاکستان کی ضرورت تھی مگر تجارت پیشہ نام نہاد سیاستدانوں نے اس ضرورت پر توجہ نہیں دی۔
اسلام آباد سے مزید