شہابِ ثاقب اور لاحق خطرات
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شہاب ثاقب ( میٹیورائٹ) دراصل سیارچوں یا دم دار ستاروں (کومیٹ) سے خارج ہونے والے ٹھوس پتھر ہوتے ہیں جو کرۂ ارض کا احاطہ کرنے والی فضا سے گزر کر سطحِ زمین تک پہنچتے ہیں۔ انہیں شہابیہ اور عام اردو میں گرتے ہوئےستارے بھی کہا جاتا ہے۔

درحقیقت یہ شہاب (meteoroid) یا نیزک ہوتے ہیں جو زمین کے کرۂ ہوا میں داخل ہو جاتے ہیں اوردباؤ اور رگڑ کی وجہ سے چمک پیدا کرتے ہیں۔ جب کوئی شہاب اس طرح زمین (یا کسی اور سیارے) کی فضاء میں داخل ہو جائے اور چمک پیدا کرے یا اس کے کرۂ ہوائی سے گزرتا ہوا اس کی سطح پر گر جائے تو اسے شہابیہ (meteorite) کہا جاتا ہے۔ شہابیے کو اردو میں’’ سنگ شہاب‘‘ بھی کہتے ہیں۔

اس دوران ہوا کے ساتھ رگڑ، دباؤ یا کیمیائی تعامل کے باعث ان میں آگ بھڑک اٹھتی ہے ،جس کے نتیجے میں ان سے توانائی کا اخراج ہوتا ہے اور یہ شہابیے آگ کے گولوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جنھیں ٹوٹتے تارے بھی کہا جاتا ہے۔اکثر اوقات یہ اس شدید حدت اور رگڑ کی وجہ سے ہوا میں ہی ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں ،تاہم کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی شہاب ثاقب زمین پر آ گرے۔

ماہرین کے مطابق شہابِ ثاقب دراصل تقریباً ساڑھے چار ارب سال قبل نظامِ شمسی کی تخلیق کے بعد بچ جانے والا ملبہ ہیں اور ان پر تحقیق سے ممکنہ طور پر یہ بات سامنے آ سکتی ہے کہ ابتدائی نظام ِ شمسی کے اجزائے ترکیبی کیا تھے اور یہ کہ زمین جیسے سیارے کیسے وجود میں آئے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں اب زمین سےشہابِ ثاقب ٹکرانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔امریکی خلائی سائنس دانوں کے مطابق فروری 2013 میں جو شہابیے،اسٹیرائڈ یا سیاروں سے ٹوٹ کر گرنے والے اجرامِ فلکی روس میں گرے تھے ان سے کہیں زیادہ خطرناک صورتِ حال کسی نئےشہابِ ثاقب سےپیدا ہوسکتی ہے۔پاکستان میں خلائی پتھر گرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔اس طر ح کے کئی پتھر پاکستان میں گر چکے ہیں ۔جن میں سے کچھ تو موجود ہیں اور بعض باہر بھیج دئیے گئے ہیں ۔

عالمی تنظیم میٹیوریٹیکل سوسائٹی کی جانب سے جاری کیے جانے والے ڈیٹابیس کے مطابق 18 ویں صدی سے 2020 تک تقریباً 17 شہابِ ثاقب پاکستان کے مختلف علاقوں خصوصاً صوبہ پنجاب اور سندھ میں گرے ہیں۔ان میں سے بلوچستان کے علاقے ژوب میں گرنے والے صرف ایک ژوب میٹیورائٹ کی ہی باقاعدہ تصدیق اور تجزیہ ہو سکا ہے۔ گلگت بلتستان اور پنجاب کے ضلع بھکر میں بھی شہاب ثاقب گرے ،مگر ان کے بارے میں کچھ معلومات دستیاب نہیں ہیں اور نا ہی اب تک انھیں میٹیوریٹیکل ڈیٹابیس میں درج کیا گیا ہے۔

2019 ءمیں ناسا گوڈارڈا سپیس فلائٹ سینٹر اور توہوکو یونیورسٹی جاپان نے تین شہابِ ثاقب پر تحقیق کی، جس سے معلوم ہوا کہ ان میں شکر کے مالیکیولز موجود تھے جب کہ اس سے پہلے زندگی کے لیے لازمی نامیاتی اجزا امائنو ایسڈ اور نیوکلیوبیسز بھی شہاب ثاقب میں دریافت ہو چکے ہیں۔ہمارے نظامِ شمسی میں ایک طویل بیضوی مدار میں فیتھون 3200 نامی سیارچہ (اسٹرائیڈ) چکر کاٹ رہا ہے۔ ہر سال دسمبر میں یہ زمینی مدار کو کاٹتے ہوئے گزرتا ہے۔ اگرچہ ماہرین کی اکثریت اسے شہابیہ ہی مانتی ہے لیکن بعض ماہرین اسے دمدار ستارے اور شہابیے کے درمیان کی کوئی شے قرار دیتے ہیں۔

گزشتہ سال فیتھون 3200 زمین سے ایک کروڑ کلومیٹر کی دوری سے گزرا اور گزرتے ہوئے اس کے کئی چھوٹے بڑے ذرّات زمینی ثقلی قوت سے ہماری فضا میں داخل ہوگئے۔ یہ لاتعداد ذرّات اپنی زبردست رفتار اور زمینی رگڑ سے بھڑک اُٹھتے ہیں اور تاریک رات میں روشنی کی ایک لکیر دکھائی دیتی ہے۔ اس عمل کو شہابی بارش کہا جاتا ہے۔بڑے شہروں میں روشنی کی وجہ سے آسمان ’’ضیائی آلودگی‘‘ (لائٹ پلیوشن) کا شکار ہوجاتا ہے اور اسی بنا پر کسی دور دراز اور تاریک مقام پر بیٹھ کر جیمنڈ شہابی بوچھاڑ کا نظارہ کرتی ہے۔

روسی اکیڈمی آف سائنس کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریبا ًدس ٹن وزنی یہ شہابِ ثاقب زمین پر گرنے سے پہلے ہی ٹوٹ گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس شہاب ثاقب کا بڑا حصہ چیلیابنسک سے ایک کلو میٹر دور واقع ایک جھیل میں گرا تھا۔چیلیابنسک کا علاقہ دارالحکومت ماسکو کے مشرق میں پندرہ سو کلومیٹر دور واقع ہے۔ وہاں متعدد فیکٹریاں، ایک جوہری پلانٹ اور جوہری مواد کو ناکارہ بنانے اور اسے ذخیرہ کرنے کا ایک مرکز بھی واقع ہے۔

اس واقعے کے نتیجے میں ناسا اور عالمی سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے تاریخ میں پہلی بارچار برس قبل ایک چھوٹے سے سیارچے کے تصادم کے ذریعے زمین پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں تفصیلی فہم حاصل کیا تھا۔ناسا نے 6 نومبر 2013کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہاتھا کہ 15 فروری، 2013 کو روسی شہر چیلیا بنسک پر ایک سیارچے کے ٹکرا کر پھٹنے کے نتیجے میں حاصل کیے گئے بے مثال اعداد و شمار سائنس دانوں کے لیےقدرت کے اس مظہرِ کو بہتر انداز میں سمجھنے کے ضمن میں ایک انقلاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔

چیلیابنسک کے واقعے کا شہریوں کے کیمروں کے ساتھ دیگر ذرائع سے بھی اچھی طرح مشاہدہ کیا گیا۔ اس کی وجہ سے محققین کو یہ نادر موقع ملا کہ وہ اس واقعے کی جانچ پڑتال کر نے کے ساتھ زمین کے قریب موجود اشیاء کے مضمرات کا مطالعہ کرسکیں اور زمین کے دفاع میں خطرات کو کم کرنے کی حکمت عملی تیار کر سکیں۔چناں چہ اب نو ممالک کے سائنس دانوں نے مستقبل میں سیاروں کے ٹکرانے کے اثرات کے نمونے کے لئے ایک نیا معیار قائم کیاہے۔

ناسا کے محققین نے مطالعے کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ جھٹکوںسے پڑنے والی دراڑوں کی کثرت نے اس چٹان کے بالائی فضاء میں ٹوٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔ چیلیابنسک اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے فراہم کیے گئے شہابِ ثاقبوں کا جھٹکوں سے پڑنے والی دراڑوں کے ماخذ اور ان کے طبعی خواص جاننے کے لیے تجزیہ کیاتھا۔ان کا کہنا تھا کہ جس تصادم سے پیدا ہونے والےجھٹکوں نے یہ دراڑیں پیدا کیں، ممکن ہے کہ وہ 4.4 ارب سال پہلے وقوع پذیر ہوا ہو ۔ اس تحقیقی ٹیم کے مطابق یہ سب نظام شمسی کے قیام کے 115 ملین سال کے بعد ہوا ہوگا، جب شہابِ ثاقبوں کا ایک بہت اہم تصادم ہوا تھا۔

جینسکنز کا کہنا ہے کہ اتنے پرانےزمانے میں ہونے والے واقعات نے چیلیابنسک پر شہابِ ثاقب کے فضا میں ٹوٹنے کے طریقے پر اثر ڈالا، جس سے نقصان دہ جھٹکے والی لہریں پیدا ہوئیں۔ماہرین کے مطابق زمین کی قریبی چیزوں کے ماخذ اور ان کی فطرت کو سمجھنے کے لئے تحقیق کی جا رہی ہے۔ یہ ناگزیر مطالعہ اس لیے ضروری ہے کہ زمین کے ساتھ ممکنہ طور پر تصادم کی راہ پر گامزن کسی چیز کا راستہ بدلنے کاطریقہ بہتر بنایا جا سکے۔

واضح رہے کہ ناسا نے 2013 کے اواخر میں اعلا ن کیا تھا کہ شہابِ ثاقب پر قابو پانے اورانہیں راستے سے ہٹانے کے سلسلے میں شہاب ثاقب کا ابتدائی منصوبہ پہلا مشن ہو گا۔ناسا کا کہناتھاکہ شہابِ ثاقب اور دم دار ستاروں کے مطالعے سے سائنس دانوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ نظام شمسی کے ماخذ، زمین پر پانی کے ذرایع، حتی کہ نامیاتی سالمے، جس سے زندگی کی نشونما ممکن ہے، کی اصلیت کے بارے میں مزید جان سکیں۔

ڈائنوسارز سمیت زمین کی 75 فیصد انواع کا خاتمہ کر دینے والا یہ خلائی پتھر ایک نئی تحقیق کے مطابق جس جگہ زمین سے ٹکرایا، تباہی پھیلانے کے لیے اس سے زیادہ خطرناک جگہ کوئی نہیں ہو سکتی تھی اور اس کے علاوہ اس کا زمین سے ٹکرانے کا زاویہ بھی سب سے ہلاکت خیز تھا۔ کمپیوٹر سمیولیشن اور اس گڑھے کی جگہ پر کی گئی تحقیق سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ٹکرانے والا یہ پتھر زمین کی سطح سے 60 ڈگری کے زاویے سے ٹکرایا، جس سے بے پناہ ماحولیاتی نقصان ہوا۔

خلیجِ میکسیکو میں جن چٹانوں سے یہ پتھر ٹکرایا۔ ان میں معدنی جپسم کی وجہ سے سلفر یا گندھک کی بڑی مقدار موجود تھی۔ جب یہ مواد فضا میں اوپر تک بلند ہوا اور آبی بخارات کے ساتھ ملا تو اس نے 'عالمی جاڑے کو جنم دیا۔ان خلائی پتھروں کا گرنا کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ ہر برس مائیکرو میٹر سے لے کر بڑی سائز کی چٹانوں تک ایسے تقریباً 15 ہزار ٹن پتھر زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہیں۔

دنیا بھر میں شہابِ ثاقب گرنے کے کئی واقعات رونما ہوتے ہیں، مگر دیگر ممالک میں انھیں باقاعدہ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اوپن مارکیٹ یا جیمز اینڈ منرل شوز میں ان کی خرید و فروخت بھی عام ہے اور عموماً تحقیقی مقاصد کے لیے ماہرین یا سائنسدان انھیں خریدتے ہیں۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید