جارج فلائیڈ قتل کیس: سیاہ فام امریکی معروف شخصیات کا فیصلے پر خیر مقدم
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جارج فلائیڈ قتل کیس: سیاہ فام امریکی معروف شخصیات کا فیصلے پر خیر مقدم

سیاہ فام امریکی اداکاروں اور معروف شخصیات نے جارج فلائیڈ قتل کیس میں سفید فام سابق پولیس اہلکار کو مجرم قرار دیے جانے پر فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما اور ان کی اہلیہ مشل اوباما نے مشترکہ طور پر اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر سابق صدر باراک اوباما کے اکاؤنٹ سے بیان جاری کیا ہے۔

سابق امریکی صدر نے ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے لکھا کہ ’آج، جیوری نے صحیح کام کیا لیکن حقیقی انصاف کے لیے اور بھی بہت کچھ درکار ہے۔‘

بارک اوباما نے کہا کہ ’مشل اور میری دعائیں فلائیڈ کے خاندان کے ساتھ ہیں  اور ہم ان تمام لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو ہر امریکی کو انصاف کی مکمل پیمائش کی ضمانت دینے کے لیے پُرعزم ہیں جس کے لیے جارج اور بہت سارے دوسرے لوگوں کو انکار کیا گیا۔‘

معروف امریکی ٹیلیویژن میزبان شخصیت اوپر اونفری نے بھی اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ 

دوسری جانب ونفری نےمائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر جارج فلائیڈ کی ایک یادگار تصویر شئیرکرتے ہوئے لکھا کہ ’مجھے اس فیصلے کی بالکل توقع نہیں تھی۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’میں فیصلے کو پڑھ کر خوشی کے آنسو روئی، اور میں اس موقع پر تمام گواہوں کی مشکور ہوں۔‘

ونفری نے ڈارنیلا فریزیئر کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے اس واقع کی ویڈیو بنائی تھی۔

ونفری نے مزید لکھا کہ ’اس ٹیپ پر جو دنیا نے دیکھا، ہر دیکھنے والے اور تسلیم کرنے والے کی شُکر گزار ہوں۔‘

اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بیونسے کنولز اور ماریہ کیری سمیت کئی دیگر مشہور شخصیات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ خبر ایجنسی کے مطابق 12 رکنی جیوری نے 45 سالہ سابق پولیس آفیسر ڈیرک چاون کو تمام تینوں الزامات میں مجرم قرار دیا۔

مجرم چاون کو تحویل میں لے لیا گیا اور اب اسے کئی سالوں تک قید کاٹنا پڑسکتی ہے۔

جارج فلائیڈ کے حامیوں نے عدالت کے باہر جشن منایا، جارج فلائیڈ کے خاندان کے وکیل نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے فیصلے کو تاریخ میں ٹرننگ پوائنٹ قرار دے دیا۔

خیال رہے کہ سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کے قتل کا واقعہ مئی 2020 میں پیش آیا تھا۔ جس کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا تھا کہ پولیس اہلکار نے فلائیڈ کی گردن کو اپنے گھٹنے سے بہت زور سے دبا رکھا تھا۔

ڈیرک چاون نے فلائیڈ کی گردن پر 8 منٹ 46 سیکنڈ تک گھٹنے ٹیکے رکھے، طبی معائنہ کاروں کی رپورٹ کے مطابق 3 منٹ بعد فلائیڈ بےسدھ ہوگئے تھے۔واقعے کے بعد امریکا سمیت دنیا بھر میں شدید مظاہرے ہوئے تھے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید