اسلام آباد( نمائندہ جنگ ) جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سیرینا عیسیٰ نے کوئٹہ سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے دہشتگرد حملے سے متعلق صدر مملکت عارف علوی کوایک خط ارسال کردیا ہے ،جس میں کہاگیا ہے کہ کوئٹہ کمیشن رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کر لیا جاتا تو 21اپریل کو سرینا چوک کوئٹہ کا سانحہ پیش نہ آتا، حکومت نے کوئٹہ کمیشن رپورٹ میں دی گئیں سفارشات پر کیوں عمل نہیں کیا؟کیا یہ مجرمانہ غفلت نہیں ہے؟ اگر صدر مملکت اور حکومتی اکابرین نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کمیشن کی انکوائری رپورٹ تاحال نہیں پڑھی تو وہ فوراًاسے پڑھیں اور اس کی سفارشات پر غور کریں ، خط میں کہا گیا ہے کہ 8اگست2016 ء کو کوئٹہ میں دہشتگردی کا واقعہ ہوا جس کی عدالتی تحقیقات کیلئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل کمیشن تشکیل دیا گیا تھا ،جس پر انہوں نے 2016 میں ہی سانحہ کوئٹہ تحقیقاتی کمیشن رپورٹ میں سفارشات پیش کی تھیں،لیکن افسوس کہ بدقسمتی سے ساڑھے چار سال گزر جانے کے باوجود ان سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے، اگر کوئٹہ کمیشن رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کر لیا جاتا تو نہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کو لاشیں اٹھانا پڑتیں اور نہ ہی21 اپریل کا واقعہ پیش آتا، ایک اکیلے جج (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ)نے سانحہ کوئٹہ کے ذمہ داران کو بے نقاب کر لیا تھا مگر ہمارے حساس ادارے تمام وسائل رکھنے کے باجود مکمل طور پر ناکام نظر آ رہے ہیں ، کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ حکومت نے کوئٹہ کمیشن رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر کیوں عمل نہیں کیا ہے؟کیا یہ مجرمانہ غفلت نہیں ہے؟، ، بیگم سرینا عیسیٰ نے کہا ہے کہ جناب صدر آپ اور تمام حکومتی اکابرین نے آئین کے تحت جو حلف اٹھایا ہے اس پر عمل کرتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود اور تحفظ سے متعلق ہرممکن اقدامات اٹھائیں ، اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔