• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجٹ میں اب کوئی نیا ٹیکس لگا تو تاجر سراپا احتجاج ہوں گے

ملک میں اس وقت بجٹ کے حوالے سے لاہور چیمبر میں اجلاس اور مشاورت کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور چیمبر نے اپنی تجاویز وفاقی وزارت خزانہ کو بھجوا دی ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ اس بار حکومت ان تجاویز پر غور کرے گی اور ان پر عمل بھی کرے گی چیمبر عہدے داران کا ہمیشہ یہ شکوہ رہا ہے وہ جب بھی تجاویز بھجواتے ہیں اس پر عمل نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ ملک میں درآمدات اور برآمدات کا فرق کم ہو نے کو نہیں آرہا ،اس کے ساتھ ہی پیداواری لاگت نہ کم ہو پارہی ہے اور نہ ہی سرمایہ کاری اور روز گار کے مواقع بڑھ رہے ہیں لوگوں کو جو شکوے شکایتیں سالوں پہلے تھیں آ ج بھی برقرار ہی۔

یہی وجہ ہے ملک میں جی ڈی پی گروتھ افسوسناک ہے اور بے روز گاری ،مہنگائی کی شرح میں کوئی بھی حکومت کمی نہیں لا سکی ہم نے بجٹ سے پہلے مختلف سیکٹرز کے افراد سے گفتگو کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ ان کی رائے لیں اور وہ متعلقہ وزارتوں تک ان آرٹیکلز کی صورت میں پہنچ سکے اور اگر چند ایک پر بھی عمل ہو گیا یقیناً اس سیکٹرکی بہتری ہو سکتی ہے۔

اسی حوالے سے ہم نےمعروف بزنس مین اور لاہور چیمبر کے ایگزیکٹو ممبر خادم حُسین سے گفتگو کی۔

خادم حسین کہتے ہیں کہ پاکستان کی کنسٹرکشن انڈسٹری بہت اچھی چل رہی ہے وزیر اعظم کے دیئے گئے پیکج، ایمنسٹی اور سہولیات نے اس سیکٹر کو کافی بہتری کی طرف گامزن کیا ہے۔لیکن اس کے چندسیٹ بیک بھی ہیں جو کہ بنیادی ہیں۔ ہمارے لوگ بھیڑ چال کا شکار ہو جاتے ہیں، ایک ہی سال میں کئی ہاؤ سنگ سوسائٹیوں پر کام شروع ہو گیا۔لیکن جو بنیادی مقصد تھا کہ اس سیکٹر میں سہولیات دینے سے بیرونی انویسٹمنٹ ملک میں آئے گی ایسا نہیں ہو سکا۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ کرونا کی وجہ سے انویسٹر زرُکے ہوئے ہیںاور سستا گھر ابھی تک ممکن نہیں ہو پارہا یہاں زمین اتنی مہنگی اوپر سے مختلف اداروں کے اتنے مشکل قوانین کیسے سستا گھر بن سکتا ہے وزیر اعظم کی نیت ٹھیک ہے وہ چاہتے ہیں ۔پاکستان میں لوگوں کو سستے گھر ملیں پالیسیاں بھی متعارف کرائی گئی ہیں لیکن عملاً ابھی تک زمین پر ایسے گھر بن نہیں سکے جو عام آدمی کی پہنچ میں بھی ہوں۔

خادم حسین نے ایک سوال پر کہا کہ آج کل یہ کہا جا رہا ہے کہ ملکی معیشت مضبوط ہوئی ہے لیکن میری نظر میں ایسا نہیں ہوا۔ اکانومی کی بنیاد ایکسپورٹ ہوتی ہے جس میں کوئی بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔دوسری چیز امپورٹ ہے جس میں کمی ہوئی ہے لوگوں کی انویسٹمنٹ رُک گئی ہے پیسہ سرکولیٹ نہیں کر رہا۔

اس کے علاوہ لوکل سطح پر ریلیف نہیں دیا گیابلکہ جو پہلے سے موجود فوائد تھے جیسا کہ سیل ٹیکس ریفنڈ، ایکسپورٹ کےاوپر میچورٹی جیسے تمام بینیفٹس کو ختم کر دیا گیا ہے۔جب فائدے رُکیں گے تو ظاہر ہے پیسا بچایا جائے گا جس سے آئوٹ فلو کم ہونے سے روپیہ مستحکم ہو گا، ہم بہت تیزی سے فیصلے لے رہے ہیں، سٹیٹ بنک کو خود مختار کرنے کی بات ہو رہی ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ انتہائی جلد بازی ہے۔ہم اس کے لئے ابھی نہ تو تربیت یافتہ ہیں اور نہ ہی تیا ر ہیں۔ہمیں اس کی پلاننگ کے ساتھ ساتھ اس کو مرحلہ وار کرنا چاہئے تاکہ اس کا اچھا اثر بھی دیکھا جائے اور اس کے مطابق حکمت عملی تبدیل بھی کی جا سکے۔ہم نے اپنی استعداد کے مطابق اس پر بات کی ہے اور امید کرتے ہیں کہ حکومت ہمیں کمرشل بنکوں کے حوالے نہیں کرے گی۔

ہماری اکانومی کا بڑا حصہ امپورٹ پر منحصر ہے۔ اگر سٹیٹ بنک کو آزاد کیا جاتا ہے تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم سہولیات دیں گے حالانکہ ایک ایسا نظام تشکیل دے دیا جائے گا کہ تمام لوگ قرضوں کی اکانومی میں آجائیں۔ جیسا کہ کئی دوسرے ممالک میں تقریباً ہر شہری کسی نہ کسی طرح بنکوں کا مقروض ہے۔اسی طرح کا نظام یہاں بھی متعارف کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہماری معیشت ریجن میں مختلف ہے اور ہمارا تجارت کا طریقہ بھی دُنیا سے مختلف ہے ہمیں مرحلہ وار کام کرنا پڑے گا۔ہمارا آج تک سیلز ٹیکس کا نظام وضع نہیں ہو سکا کہ کس کس سیکٹر سے کتنےفیصد ٹیکس وصول کرنا ہے اس کا کوئی نظام نہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ہم اسکو کمرشل لینڈ بنا رہے ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ کیسے ملتان میں گراؤنڈز کی زمین پر ہاؤسنگ سکیم بنا دی گئی۔ ہم آج تک زراعت پہ ٹیکس نہیں لگا سکے حالانکہ لاکھوں ایکڑ اراضی سے زمیندار سالانہ اربوں روپے کمارہے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ اس سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا جا سکا جبکہ ایک دکاندار جو دو مرلے کا مالک یاکرایہ داربھی ہو اس سے ہر طرح کے متعدد ٹیکس لئے جاتے ہیں اور کسان جو منافع بھی زائد کماتے ہیں ان سے زرعی ٹیکس لینے میں بھی حکومت ہچکچاہٹ کا شکار ہے یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہئے تمام شعبوں سے بلا تفریق ٹیکس لیا جائے اور سب کو برابر مراعات دی جائیں ہر سال بجٹ میں بھی صرف ایک مخصوص طبقے کو مراعات دے دی جاتی ہیں اور جو ٹیکس اکٹھا کرنے اور ایکسپورٹ بڑھانے کے وعدے ان سے لئے جاتے ہیں کبھی بھی پورے نہیں ہو پائے وہ طبقہ چونکہ اشرافیہ کا ہے ان کے ہاتھ لمبے ہیں لہذا ان سے پوچھنے والاا بھی کوئی نہیں ہوتا یہ ناانصافی ہے اس وجہ سے ٹیکس دینے میںبھی شور مچاتا ہے اور وہ حکومت کی نیت پر شک کرتا ہے ٹیکس گزار کو یہ شکوہ بھی ہے کہ اسکا دیا جانے والا ٹیکس کہاں خرچ ہوتا ہے اسے حساب دیا جائے شفافیت دکھائی جائے کہ کس سیکٹر سے کتنا ٹیکس ملا کہاں گیا حکومت کرپشن پر قابو پائے اور عام آدمی کی ریلیف پر خرچ کرے۔

حکومت ہم سے تجاویز مانگتی ہے۔ تمام ٹریڈ ایسوسی ایشنز، کاروباری لوگ اپنی تجاویز دیتے ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔

خادم حسین نے مزید کہا کہ ہمارا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ چھوٹے دکاندار کو سامنے لائیں اُسے سہولیات دیں اور سٹینڈ کرنے میں مدد کریں۔ اس سال بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہ لگایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ہماری ماربل انڈسٹری اس وقت انتہائی برے حالات میں ہے۔ اب تک ماربل انڈسٹری کہ تین زون بنائے گیے ہیں ایک رسال پور دوسری گڈانی میں اور تیسری ماربل سٹی کراچی میں بنائی گئی ان میں سے بھی صرف دو ایکٹیو ہیں اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ماربل انڈسٹری کو چلا رہے ہیں ۔ اس سیکٹر پر کام کر کے اسے سہولیات دے کر ہم بہت کثیر زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔افسوس اس حوالے سے بنائی جانے والی اتھارٹی کو بھی فعال نہ بنایا جا سکا ہے یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی پیداوار ہونے کے باوجود اکثراشیاٗ کو باہر سے منگوانے پر مجبور ہیں کیوں کہ ویلیو ایڈیشن کی طرف نہیں جا سکے۔

کامرس سے مزید