ترسیلات پر برطانوی پابندیاں
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کو حاصل جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر یورپی پارلیمنٹ کے بلا جواز اعتراض اٹھائے جانے کے تیسرے ہی روز برطانیہ نے بغیر وجہ بتائے یہاں ترسیلاتِ زر پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام فلاحی اکاؤنٹ بند کردیے جبکہ گزشتہ ماہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت کے الزامات لگاکر پاکستان کو 21ہائی رسک ملکوں کی فہرست میں پندرہویں نمبر پر شامل کیا گیا۔ حالیہ فیصلے کی رو سے برٹش پاکستانی ادارے اور افراد پاکستان میں کسی مسجد، مدرسے، اسپتال سمیت فلاحی اداروں کو برطانیہ سے رقوم نہیں بھیج سکیں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کو ترسیلات بھیجنے والے برٹش پاکستانی اداروں کے بنک اکاؤنٹس وجہ بتائے بغیر بند کئے جارہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے ترجمان نے اس ضمن میں کہا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے پابندیاں حقائق کے منافی ہیں جس پر نظرثانی کی جانی چاہئے۔ برطانیہ ترسیلات بھیجنے والے ملکوں میں عرب ممالک کے بعد سر فہرست آتا ہے جہاں سے پاکستان کو ماہانہ ایک ارب 70کروڑ ڈالر کی ترسیلات موصول ہوتی ہیں جس کی رو سے متذکرہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اگر اس کے تانے بانے یورپی پارلیمنٹ کی حالیہ قرارداد سے جاکر ملتے ہیں تو اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ بجا طور پر واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان ایک پارلیمانی جمہوری ملک ہے جہاں ایک متحرک سول سوسائٹی، آزاد میڈیا اور خود مختار عدلیہ موجود ہیں جو بلا تفریق ملک کے تمام شہریوں کے حقوق کے ضامن ہیں۔ مزید برآں پاکستان ایف اے ٹی ایف کو دہشت گردوں کی مالی اعانت نہ کرنے کی تسلی کراچکا ہے اور امید واثق ہے کہ اسکے آئندہ اجلاس میں پاکستان کو اس کی طرف سے کلیرنس بھی مل جائیگی جبکہ ترسیلات زر کے حوالے سے بھی برطانوی حکومت کی پابندیاں یکطرفہ اور بلا جواز ہیں۔جنھیں انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے واپس لینا چاہئے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

تازہ ترین