ہلاک ہونے والا برطانوی نوجوان تعلیم کیلئے اسرائیل گیا تھا
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہلاک ہونے والا برطانوی نوجوان تعلیم کیلئے اسرائیل گیا تھا

لندن (پی اے) ایک فیملی ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل میں یہودیوں کے مذہبی تہوار کے دوران کچل کر ہلاک ہونے والا برطانوی وہاں تعلیم حاصل کرنے کیلئے گیا تھا ۔ مانچسٹر سے تعلق رکھنے والا موشے برگ مین ان 45 افراد میں شامل تھا جو جمعہ کو پر ہجوم ایلے میں پھنس کرہلاک ہو گئے تھے۔ 24 سالہ شخص اسرائیل میں تعلیم حاصل کررہا تھا اور وہ وہاں اپنی اہلیہ کے ساتھ رہتا تھا ۔ فیملی کی جانب سے گفتگو کرتے ہوئے ربی آرنلڈ سینڈرس نے کہا کہ وہ ان کی مرنے پھر زندہ ہونے اور پھر مرنے کی افواہیں سن کر شدید کرب ناک دور سے گزرے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 18 ماہ قبل برگ مین کی شادی ہوئی تھی۔ ناردرن اسرائیل کے اس مذہبی تہوار کے دوران پیش آنے والے واقعے میں 150 افراد زخمی بھی ہوئے تھے ۔ سینڈرس جو سالفورڈ سٹی کونسل میں کیرسل کی نمائندگی بھی کرتے ہیں کا کہنا ہے کہ کہ جب انہوں نے (کرش ) کے بارے میں عام خبریں سنی تو یہ کافی خراب تھی کیونکہ یہ ہمارے پورے کیلنڈر میں ہمارے سب سے زیادہ خوشگوار دنوں میں سے ایک ہے اور میرون ان سب کا مرکزی مقام ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یقیناً کمیونٹی کیلئے یہ ایک بڑا دھچکہ اور صدمہ ہے کیونکہ انہوں نے فیملی کے گرد زبردست ریلی نکالی اور ہر ممکن سپورٹ فراہم کی۔ مسٹر برگ مین کی فیملی سالفورڈ میں رہتی ہے جو کہ اسرائیل جا رہی ہے ۔ جمعہ کی شام کو یہودیوں کے آرام کے دن سباتھ کی وجہ سے مرنے والوں کی شناخت کا کام 24 گھنٹے کیلئے روک دیا گیا تھا۔ ہفتے کو غروب آفاتب کے بعد فیونرل دوبارہ شروع کر دی گئی ۔ نادرن اسرائیل کے مذہبی تہوار کے اس واقعے پر ملکہ، وزیراعظم بورس جانسن اور فیتھ لیڈرز نے تعزیتی پیغامات بھیجے ہیں جبکہ عبادت خانوں میں مرنے والوں اور زخمیوں کیلئے دعائیں کی جا رہی ہیں۔
یورپ سے سے مزید